Wednesday, December 3, 2014

فاطمہ بنت الحسن سلام اللہ علیہا(باقرالعلوم کی ماں) Home,

فاطمہ بنت الحسن سلام اللہ علیہا(باقرالعلوم کی ماں)


امام محمد باقر کی والدہ کا صرف ایک نام ذکر ہوا ہے اور وہ فاطمہ ہے۔ ان کی کنیت یہ ہیں ام عبداللہ ،ام الحسن؛ ام عبدہ ؛ ام عبیدہ؛ القاب یہ ہیں :صدیقہ ؛ آمنہ ؛ تقیہ اور محسنہ
امام محمد باقر کی والدہ کا صرف ایک نام ذکر ہوا ہے اور وہ فاطمہ ہے۔ ان کی کنیت یہ ہیں ام عبداللہ ،ام الحسن۔ ام عبدہ ،ام عبیدہ۔
 القاب یہ ہیں :صدیقہ۔آمنہ ، تقیہ اور محسنہ ۔ ان کی ماں کے بارے میں مورخین کے درمیان اختلاف ہے۔ اور شاید اختلاف کا سبب یہ ہے کہ اس کے علاوہ امام حسن کی دو اور بیٹیاں فاطمہ نامہ تھیں.
شادی :امام سجادکی شادی اپنے چچا کی بیٹی فاطمہ یعنی امام حسن  کی بیٹی سے ہوئی۔ پہلی دفعہ علی  بنت ابی طالب اور فاطمہ بنت اسد کی شادی ہوئی، پھر اسی دونوں پر علی ابن حسین اور فاطمہ بنت حسن  کی شادی، اس طرح شادی سے دو نسل امامت پیدا ہوئیں (امام حسن امام حسین جواد فاضل لکھتے ہیں کہ ٥٠ ھ ہی میں شہادت پائی اور اس کے بعد امام حسین  نے امامت کے فرائض بیان کیے۔ امام حسین  اپنے بھائی حسن  کی بیٹی فاطمہ کا نکاح اپنے بیٹے علی  سے کیا اور اپنی بیٹی فاطمہ کا نکاح اپنے بھائی کے بیٹے حسن سے کیا ۔ امام صادق  ـفرماتے ہیں: جب امام سجادـ نے ام عبداللہ سے شادی کی تو علی بن حسین  نے اس کا نام صدیقہ رکھا۔امام زین العابدینـکی چھ بیویاں تھیں۔ ان میں سے صرف یہی فاطمہ دائمی عقد میں تھیں، باقی یا کنیز تھیں یا ام ولد ۔
بیٹے کی ولادت :فاطمہ کی عمر کے بہترین لحظات امام باقر کی ولادت سے شروع ہوتے ہیں۔ امام باقر مدینہ میں پیدا ہوئے ۔ ابن شہر آشوب لکھتا: امام باقر ہاشمی ہیں یہ پہلی بار امام حسن اور امام حسین کی نسل کا پیوند تھا۔امام باقر کے بعد آٹھ اور معصوم اسی فاطمہ کی اولاد سے ہیں۔ حضرت معصومہ کی زیارت نامے میں امام موسیٰ کاظم کی بیٹی کا نام آیا ہے۔(( السلام علیک یا بنت الحسن والحسین  )) سلام ہو تجھ پے اے حسن وحسن ٪کی بیٹی اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام باقر کے بعد باقی آئمہ ان دو بھائیوں کی اولاد سے ہیں ۔
تعداد اولاد :مشہور قول کی بناء پر امام سجاد کے پندرہ (١٥) بچے تھے۔ بعض کے نزدیک امام باقر فاطمہ بنت حسن  کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ مزید لکھتے ہیں: کہ امام سجاد ـکی دوسری اولاد ام ولد سے تھی۔ ابن شہر آشوب اور علامہ مجلسی  لکھتے ہیں: ام عبداللہ اور امام سجاد کی شادی سے دو بیٹے ہوئے پھر لکھتے ہیں امام سجاد کی تمام اولاد کنیزوں اور ام ولد سے تھی سوائے دو بیٹوں کے ،محمد باقر اور عبداللہ، ان کی ماں ام عبداللہ امام حسن کی بیٹی تھی۔ ابن سعد اور شیخ عباس قمی لکھتے ہیں ام عبداللہ اور امام سجاد کے چار بچے تھے جو کہ یہ ہیں :محمد باقر ،حسن ، حسین ،عبداللہ باھر ۔
حضرت امام محمد باقر کی ماں کی کرامات: امام باقر کی ماں با تقویٰ پرہیزگار اور باعظمت خاتون تھیں ۔امام باقر نے فرمایا :((کانت أمی قاعدة عند جدار فتصدع الجدار وسمعنا ھدة شدیدة،فقالت بیدھا:لا وحق المصطفیٰ مااذن اللّٰہ لک فی السقوط فبقی معلقاً فی الجو حتی جازتہ فتصدق أبی عنھا بمأة دینار))میری ماں دیوار کے ساتھ تشریف فرما تھیں۔ اس دیوار سے عجیب آواز آئی، میری ماں نے ہاتھ سے اشارہ کیا فرمایا: میرے باپ نہیں ۔ بحق محمد اے خدا !اس دیوار کو گرنے سے بچا ۔پس دیوار ہوا میں معلق ہوگئی جب میری ماں اٹھ کر چلی گئیں تو دیوار گر گئی ۔امام سجاد نے سو (١٠٠) دینار صدقہ دیا ۔
امام صادق کی نظر :امام صادق فاطمہ بنت حسن کے بارے میں فرماتے ہیں :((کانت صدیقة لم تدرک فی آل الحسن مثلھا))وہ ایک صدیقہ اور امام حسن ـکے خاندان کی بے نظیر ،باتقویٰ خاتون تھیں
کربلا میں : ام عبداللہ اپنے بیٹے امام محمد باقر کے ساتھ کربلا میں موجود تھیں۔ کربلا کے تمام واقعات انہوں نے آنکھ سے دیکھے۔ امام محمد باقر اس روز کو یوں یاد کرتے ہیں: (( قتل جدی الحسین ولی اربعہ سنین وانی لاذکرو مقتلہ وما نا لنا فی ذالک الوقت)) امام حسین کی شہادت کے وقت میری عمر چار سال تھی اور کربلا میں تمام واقعات مجھے یاد ہیں۔ پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام محمد باقر کی ماں کربلا میں تھیں اور بعد میں اسیر ہوئیں ۔
یاد ماں :جابر بن عبداللہ انصاری کہتا ہے: جب امام حسن مجتبیٰ  پیدا ہوئے اور لوگ گھر میں مبارک باد دینے آئے، تو میں بھی گیا میں نے دیکھا کہ حضرت زہراء  کے ہاتھ میں ایک نورانی صحیفہ ہے۔ میں نے پوچھا کہ اے سیدہ !یہ صحیفہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اے جابر یہ وہ صحیفہ ہے جس میں میری نسل سے پیدا ہونے والے آئمہ کے نام ہیں۔ میں نے بی بی سے عرض کی کہ یہ صحیفہ مجھے دو تاکہ میں اس کو پڑھو حضرت فاطمہ  نے فرمایا: اے جابر اگر منع نہ ہوتا تو میں آپ کو دیتی اس صحیفے کو نبی یا وصی ہی پڑھ سکتا ہے ۔ جابر کہتا ہے بی بی نے فرمایا: آپ اسے چھو نہیں سکتے لیکن پڑھ سکتے ہیں جابر کہتا ہے: کہ میں نے اس صحیفے میں تمام آئمہ اور ان کی مائوں کے نام پڑھے ۔
وفات :فاطمہ بنت حسن کی زندگی کے تین حصے مہم ہیں، دوران امام حسن ،امام حسین،امام زین العابدین امام سجادـلوگوں کی بے وفائی کے بارے میں فرماتے ہیں: کہ تمام مکہ ومدینہ میں بیس لوگوں سے زیادہ ہمارے محب نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امام محمد باقر کی ماں کی قبر اور ان کی وفات کی تاریخ مخفی رہی۔ البتہ بعض منابع میں ملتا ہے کہ فاطمہ بنت حسن امام باقر کی ماں (٥٧) ستاون سال کی عمر میں مدینہ میں فوت ہوئیں-

No comments:

Post a Comment