Wednesday, December 3, 2014

Home,نجمہ خاتون مدینہ میں امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہیں. جناب نجمہ مومنہ ، متقی و پرہیزگار اور نجیب و پارسا خاتون تھیں آپکا گھر اور قبر مطہر مدینہ منورہ میں مرجع خلائق ہے

 

نجمہ خاتون سلام اللہ علیہا




نجمہ خاتون مدینہ میں امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہیں. جناب نجمہ مومنہ ، متقی و پرہیزگار اور نجیب و پارسا خاتون تھیں آپکا گھر اور قبر مطہر مدینہ منورہ میں مرجع خلائق ہے

نجمہ خاتون 
تاریخ اسلام اور اہل بیت پیغمبر علیہم السلام کے زمانے کی ایک معتبر اور عظیم المثال خاتون جناب " تکتم " ہیں جو مصر کے جنوبی علاقے کی رہنے والی تھی اور جب یہ ذی شرف خاتون، فرزند رسول حضرت امام موسی بن جعفر علیہ السلام کے گھر میں آئیں تو امام علیہ السلام نے ان کا نام " نجمہ " رکھ دیا آپ عقل و دین اور حیا وعفت میں اپنے زمانے کی تمام عورتوں سے افضل و اکمل تھیں تاریخ کی معتبر کتابوں میں ان کے القاب ام البنین اور طاہرہ تحریر ہیں غالبا یہ ایسے القابات ہیں جو انہیں مختلف مواقع پر دیئے گئے ہیں آپ دوسری صدی ہجری کے وسط میں مدینہ تشریف لائیں اور اس وقت حضرت امام موسی بن جعفر علیہ السلام کی عمر مبارک چوبیس برس تھی فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شریک حیات جناب حمیدہ خاتون نے نجمہ کو خریدا اور انہیں اپنے گھر لے گئیں آپ حمیدہ خاتون کا بہت زيادہ احترام کرتی تھیں اور ان کی عظمت و جلالت کی وجہ سے ان کے پاس نہیں بیٹھتی تھیں ۔

جناب نجمہ مومنہ ، متقی و پرہیزگار اور نجیب و پارسا خاتون تھیں ایک دن جناب حمیدہ خاتون نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ فرمارہے ہیں: اے حمیدہ ، نجمہ کی شادی اپنے بیٹے موسی سے کردو کیونکہ ان کے بطن مبارک سے ایک ایسا بچہ پیدا ہوگا جو روئے زمین کی سب سے بہترین فرد ہوگی۔

اس بشارت کے فورا بعد ہی حمیدہ خاتون نے نجمہ کی شادی اپنے فرزند امام موسی کاظم علیہ السلام سے کردی اور فرمایا : اے میرے لال ، نجمہ، ایک ایسی خاتون ہیں کہ ان سے پہلے میں نے کسی کو بھی اس سے بہتر نہیں دیکھا تھا کیونکہ یہ عقل و دانش اور اخلاق میں بے نظیر ہیں میں انہیں تمہیں عطا کررہی ہوں دیکھو تم بھی ان کے ساتھ نیکی سے پیش آنا ۔ بالآخر اس مبارک و مسعود شادی کے نتیجے میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت با سعادت ہوئی ۔

چوتھی صدی ہجری کے مشہور محدث و مورخ جناب شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی مادر گرامی جناب نجمہ خاتون سے روایت نقل کی ہے آپ فرماتی ہیں : جب مجھ میں آثار حمل نمایاں ہو‏ئے تو مجھے کوئی بھی مشکل پیش نہیں آئی اور جب میں سوجاتی تھی تو تسبیح و تہلیل لاالہ الا اللہ اور حمد خدا کی آوازيں اپنے شکم مبارک سے سنتی تھی لیکن جب بیدار ہوتی تھی تو یہ آوازیں نہیں آتی تھی اور جب یہ سعادتمند بیٹا پیدا ہوا تو اس نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر رکھا اور اپنے سر کو آسمان کی طرف بلند کیا اس کے لب جنبش کررہے تھے اور وہ باتیں کررہے تھے کہ میں نہیں سمجھ پارہی تھی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت سعادت کے بعد جناب نجمہ "طاہرہ" کے لقب سے ملقب ہوئیں یہ عظیم المرتبت خاتون حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت کے بعد آپ ان کی تربیت کرکے اپنی عظمت و رفعت میں بہت زيادہ بلند ہوگئیں ۔

جناب نجمہ خاتون بہت بڑی عبادت گذار اور زاہدہ خاتون تھیں اور اپنے عزيز فرزند کی تربیت کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے خداکی عبادت و راز و نیاز بھی جاری رکھی ۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی مادر گرامی جناب نجمہ خاتون کی قبر مطہر مدینہ منورہ میں مرجع خلائق ہے ۔

اسلامی تاریخ کی ایک اور نامور خاتون حضرت امام رضا علیہ السلام کی شریکہ حیات خیزران ہیں ان کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشن گوئی کی تھی ۔

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ ایسا کلام کرتے تھے جس میں عظیم حکمت اور دقیق معنی و مفاہیم پوشیدہ ہوتے تھے ایک دن آپ نے اپنے بعض اصحاب کے درمیان فرمایا: میرے باپ کنیزوں کے سب سے بہترین فرزند پر قربان ، نوبہ کے علاقے اور ماریہ قبطیہ کی قوم کی ایک کنیز ،جو پاک و پاکیزہ اور نیک سیرت خاتون ہے ۔

صحابیوں کے جھرمٹ میں سے کسی ایک نے اپنے دوسرے دوست سے پوچھا رسول خدا کی شریکہ حیات کس قوم سے ہیں؟ اس نے سر سے اشارہ کرکے ہامی بھری اور کہا ہاں اے میرے بھائی ، اس نے دوبارہ سوال کیا کہ بتاؤ اس صفت کا حامل کون ہے ؟ اس کے دوست نے جواب دیا شاید یہ اشارہ کسی خاص شخص کے لئے انجام دیا گیا ہے بتاؤ کہ یہ عظیم خاتون کون ہے ؟ دونوں نے آپس میں کہا کہ چلو پیغمبر اسلام سے دریافت کرتے ہیں۔ شاید ان دنوں کسی کو نہیں معلوم تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشنگوئی آپ کے فرزند، عالم تشیع کے آٹھویں رہبر و پیشوا کی شریکہ حیات کے بارے میں ہوگی جو برسہا برس بعد رونما ہوگا اور اپنے زمانے کی عورتوں سے افضل و با فضیلت اور باکمال خاتون "خیزران" یا "سبیکہ" کی شادی بوستان محمدی کے آٹھویں تاجدار حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے ہوگی اور کچھ دنوں کے بعد ان کی زندگی گلدستہ امامت کے نویں پھول حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت با سعادت سے معطر ہوگی ۔

میں فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کا ایک شاگرد یزید بن سلیط ہوں ایک بار میں سفر میں تھا کہ مکہ و مدینہ کے راستے میں حضرت کی زيارت سے مشرف ہوا احوال پرسی کے بعد میں نے امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا اے مولا مدتوں سے میرے دل میں ایک سوال ہے جس نے میرے قلب و دماغ کو مشغول کررکھا ہے امام علیہ السلام نے مسکراتے ہو‏ئے فرمایا : اے یزيد بن سلیط ، کس چیز نے تمہارے دل کو مصروف کردیا ہے ۔

میں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ یہ جان لوں کہ آپ کے بعد آپ کا جانشین کون ہوگا ؟ امام علیہ السلام نے سراٹھایا اور میرا ہاتھ پکڑ کر دبایا اور پھر مجھ سے ایسے صفات بیان کئے کہ میری زبان اس کے بیان سے قاصر ہے پھر اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا : اے یزید بن سلیط سنو اس سال مجھےگرفتار کیا جائےگا اور میرے بعد میرا بیٹا علی بن موسی الرضا تمہارے امام ہوں گے ۔

فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی توجہ پھر ایک نکتہ پر جاکر مرکوز ہوگئی اس وقت آپ نے فرمایا : میرے بیٹے رضا کو بشارت دو اور ان سے کہہ دو کہ عنقریب خداوندعالم انہیں ایک مورد اعتماد طیب و طاہر فرزند عطا کرے گا اس وقت میرا بیٹا تم سے سوال کرے گا کہ تم نے مجھے کہاں دیکھا ہے اس وقت تم ان سے کہنا کہ آپ کے بیٹے امام محمد تقی علیہ السلام کی مادر گرامی پیغمبر اسلام کی شریکہ حیات ماریہ قبطیہ کے خاندان کی ایک کنیز ہوگی اس کے بعد امام کاظم علیہ السلام میری طرف متوجہ ہوئے اور تاکید کرتے ہو‏ئے فرمایا: اگر ممکن ہو تو میرا سلام اس خاتون تک پہنچادینا ، اس طرح میں فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی شریکہ حیات اور حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی مادر گرامی سے باخبر ہوا اور بہت دنوں کے بعد سمجھا کہ " خیزران" پاک و پاکیزہ ، مہربان اور فضائل انسانی و اخلاقی سے مالا مال خاتون ہیں۔اور میں نے امام کاظم علیہ السلام کے سلام و پیام کی حقیقت و اہمیت کو درک کیا۔

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت کا وقت بہت ہی قریب تھا اس بارے میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی بہن جناب حکیمہ کہتی ہیں : میرے بھائی امام رضا نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اے میری پیاری بہن حکیمہ آج کی شب تم میرے گھر قیام کرو کیونکہ ایک بہت ضروری کام ہے میں نے ہامی بھر لی اور کہا کہ جیسا آپ حکم فرمائیں کچھ دیر کے بعد ایک دایہ بھی وہاں پہنچ گئی حضرت امام رضا علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا اے میری پیاری بہن ، دایہ کے ساتھ خیزران کے حجرے میں جائیے میں اپنی جگہ سے اٹھی میرے ساتھ میرے بھائی بھی اٹھے اور خیزران کے حجرے میں گئے امام علیہ السلام نے چراغ روشن کیا اور دروازہ بند کرکے باہر چلے گئے ۔

کچھ ہی دیر بعد جناب خیزران درد زہ سے بے چین ہوگئیں اور عین اسی وقت کمرے کا چراغ بجھ گیا میں بہت زیادہ غمزدہ ہوگئی لیکن میراغم بہت دیر تک باقی نہ رہا کیونکہ امام محمد تقی کے پیدا ہوتے ہی پورا حجرہ ان کے نور سے جگمگا اٹھا کچھ دیر بعد میرے بھائی امام رضا علیہ السلام حجرے میں تشریف لائے اور بچے کو لے کر گہوارے میں لٹا دیا پھر مجھ سے فرمایا : اے بہن اسی گہوارے کے پاس رہيئے۔

ابھی میرے بھتیجے کی ولادت کو تین دن سے زیادہ نہ گذرے تھے کہ میں نے مشاہدہ کیا کہ اس نے اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف کیا اور اپنے دائیں اور بائیں جانب نظر کی اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی اور خدا نہیں ہے اور محمد مصطفی اس کے رسول ہیں ۔میں حیران و پریشان تیزی کے ساتھ اپنے بھائی امام رضا علیہ السلام کے پاس گئی اور جو کچھ دیکھا اور سنا تھا میں نے ان سے نقل کیا میرے بھائی نے میرے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا: حکیمہ تعجب نہ کرو اس بچے کی زندگی کے حیرت انگیز واقعات اس سے بہت زيادہ ہیں جو تم بیان کررہی ہو۔

فرزند رسول حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت کو ابھی چند ہی روز گذرے تھے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے کچھ اصحاب امام رضا علیہ السلام کی زيارت کے لئے آئے ۔ اس وقت امام علیہ السلام اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ حضرت سے محو گفتگو تھے اور اپنی اپنی مشکلیں بیان کررہے تھے اور سوالات کررہے تھے اور امام علیہ السلام بڑے ہی اطمینان کے ساتھ لوگوں کو جواب دے رہے تھے جب آپ کے اصحاب کی گفتگو ختم ہوگئی تو امام علی رضا علیہ السلام نے جن کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : خداوندعالم نے مجھے ایک بیٹا عطاکیا ہے جو موسی بن عمران کی طرح دریا کے سینے کو چاک کرنے والا ہے اور اس کی ماں مریم کی طرح پاک و پاکیزہ اور نیک و پاکدامن ہے ۔

جی ہاں ، حضرت خیزران کا شمار ان خواتین میں ہوتا ہے جو اسلام اور اہل بیت علیہم السلام کی برکت سے فضل وشرف کی ایسی بلندی پر فائز ہوئیں کہ اپنے زمانے کی عورتوں میں سب سے افضل اور فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلا م کی شریکہ حیات قرار پائیں اور ان کی طیب و طاہر آغوش میں امام محمد تقی علیہ السلام نے پرورش پائی ۔ آپ تاریخ اسلام کی ایک عظیم خاتون تھیں حضرت امام رضا علیہ السلام کے فرمان کے مطابق وہ اخلاقی فضائل میں جناب مریم سے مشابہ تھیں ۔ جس وقت عباسی خلیفہ کے سپاہی امام رضا علیہ السلام کو مدینہ سے مرو لےگئے تو امام علیہ السلام اپنے ہمراہ اپنی مہربان زوجہ اور بیٹے کو ساتھ نہیں لے گئے اور وہ مدینہ میں ہی رہے بعض معتبر اقوال کی بنیاد پر جناب خیزران کی قبر مبارک آج بھی مدینے میں محبان اہل بیت کی زيارت گاہ ہے ۔
ماخذ:urdu.irib.ir
***

مدینہ میں امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کا گھر

جب آپ مدینہ منورہ زیارہ کے لئے مشرف ہوتے ہیں، ایک مقام کا مشاہدہ کرتے ہیں جو کنکریٹ کی دیواروں کے ذریعے محصور ہوچکا ہے اور اس کے دروازے پر تالا لگا دیا گیا ہے۔ یہ "مشرب ام ابراہیم" ہے جو اہل بیت علیہم السلام کا گھر ہے اور امام رضا علیہ السلام کی دادی اور والدہ (امام موسی کاظم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ اور زوجہ مطہرہ) کا مزار اقدس بھی یہيں ہے۔

ہم اس مناسبت سے مدینہ منورہ کے ایک محلے "مشربہ ام ابراہیم" کا تعارف کرانا چاہتے ہیں۔
مشربہ ام ابراہیم ایک مقام کا نام ہے جو شراع علی ابن ابی طالب علیہ السلام میں واقع ایک گلی میں واقع ہے؛ جب زائرین اس گلی کے پاس جاکر کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں سفید سیمنٹ سے بنی ایک چاردیواری نظر آتی ہے جس کے دروازے پر ایک تالا لگایا گیا ہے اور جن لوگوں نے تالا لگایا ہوا ہے وہ شاید سمجھ رہے ہیں کہ تالا لگا کر اس مقام کی تاریخی حیثیت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کو چھپایا جاسکتا ہے!

1

مشربہ ام ابراہیم در حقیقت مدینہ کا ایک چھوٹا سے باغ کا نام ہے جو قبا کے مشرق اور بنی قریظہ کے علاقے کے شمال میں واقع العوالی میں واقع ہوا تھا۔ رسول اللہ کے بیٹے ابراہیم (ع) کی والدہ ماجدہ ام المؤمنین حضرت ماریہ قبطیہ (س) کا گھر بھی یہیں تھا اور ابراہیم بن رسول اللہ (ص) یہیں متولد ہوئے تھے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم طویل مدت تک یہیں قیام پذیر رہے اور بہت زیادہ نمازیں پڑھ لیں۔ مشہور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وہاں پانی کے مٹکے رکھے تھے جن سے لوگ پانی پیا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے اس مقام کو مشربہ کہا گیا ہے اور اس کو مشربہ ام ابراہیم کہا گیا ہے کیونکہ ام ابراہیم ام المؤمنین ماریہ قبطیہ کی کنیت ہے۔ اسی مقام پر امام صادق علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ اور امام رضا علیہ السلام کی دادی حضرت حمیدہ خاتون (س)، امام موسی کاظم علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ اور امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت نجمہ خاتون (س) بھی یہيں مدفون ہیں اور امام صادق علیہ السلام نے اس مقام کی زيادت کی سفارش فرمائی ہے ۔
روایت میں ہے کہ عقبہ بن خالد نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: ہم مدینہ کے اطراف میں واقع مساجد کی زیارت کرتے ہیں کونسی مسجد سے شروع کریں تو بہتر ہوگا؟"۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
امام صادق(ع) فرمود: «اِبْدَأْ بِقُبَا فَصَلِّ فِیهِ وَأَکْثِرْ فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَسْجِد صَلَّی فِیهِ رَسُولُ اللَّهِ(ص) فِی هَذِهِ الْعَرْصَةِ ثُمَّ إئْتِ مَشْرَبَةَ أُمِّ إِبْرَاهِیمَ فَصَلِّ فِیهَا وَهِیَ مَسْکَنُ رَسُولِ اللَّهِ (ص) وَمُصَلاَّهُ"۔ (کافی 4/560)
ترجمہ: مسجد قبا سے آغاز کرو اور وہاں زيادہ نماز پڑھو کیونکہ یہ اس علاقے کی پہلی مسجد ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد مشربۂ ام ابراہیم چلے جاؤ اور وہاں نماز پڑھو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مسکن اور مصلّی' (نماز پڑھنے کا مقام) ہے۔

2

اب اس زمانے میں اس مقام کی صورت حال رسول اللہ اور آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ہونے والے نہایت وہابیانہ طرز سلوک کی گواہی دیتی ہے۔ آل سعود نے اس مقدس مقام کے دروازے کو مقفل کردیا ہے لیکن وہ شاید نہیں جانتے کہ زائرین رسول اور آل رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عاشقوں کے عشق کو تالوں سے ختم نہیں کیا جاسکتا؛ یہ وہابیانہ اقدام رسول و آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے لوگوں کی محبت میں اضافہ کر دیتا ہے اور حتی کہ وہ لوگ بھی جو اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نہیں جانتے، جب دیکھتے ہیں کہ ایک مقدس مقام پر تالے لگے ہوئے ہیں تو وہ بھی سوچ میں پڑجاتے ہیں اور جب سمجھ لیتے ہیں اس مقام کا تعلق کن سے ہے وہ بھی اہل بیت علیہم السلام کے عاشق ہوجاتے ہیں۔
روایات کے مطابق حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور حضرت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا پہلا گھر یہی تھا اور ان دو عظیم ہستیوں نے بھی اپنی معنوی اور خیر و برکت سے بھرپور زندگی یہيں سے شروع کی تھی۔ تا ہم مشربہ ام ابراہیم میں دوسرے تاریخی واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ ساتویں امام اور نویں معصوم حضرت امام موسی الکاظم علیہ السلام کی ولادت یہیں ہوئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصال کے بعد اہل بیت علیہم السلام کے پاس رہا اور یہ خود اس جعلی حدیث کی نفی بھی ہے کہ "ہم انبیاء ترکہ نہیں چھوڑا کرتے اور ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے!"۔
ماخذ: ابنا

حمیدہ بنت صاعد سلام اللہ علیہا,Home

 

حمیدہ بنت صاعد سلام اللہ علیہا


فرزند رسول حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی شریک حیات اور حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حمیدہ بنت صاعد تاریخ اسلام کی ایک عظیم المرتبت ، نامور اور بافضیلت خاتون ہیں۔

فرزند رسول حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی شریک حیات اور حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حمیدہ بنت صاعد تاریخ اسلام کی ایک عظیم المرتبت ، نامور اور بافضیلت خاتون ہیں۔

فرزند رسول حضرت امام محمد باقر علیہ السلام جناب حمیدہ کے بارے میں فرماتے ہیں: " وہ دنیا میں حمیدہ یعنی پسندیدہ اور آخرت میں محمودہ یعنی نیک صفات کی حامل خاتون ہیں"۔جناب حمیدہ جو فرزند رسول حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی کنیز تھیں، انہیں آپ نے اپنے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کو بخش دیا تھا ۔

فرزند رسول حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے حمیدہ سے نکاح کیا اوران کو اعلی مرتبے پر فائز کیا، جناب حمیدہ سے چار اولادیں یعنی حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام، اسحاق، فاطمۂکبری اور محمد پیدا ہوئے ۔ خاندان علوی میں حمیدہ کو اعلی مقام حاصل تھا اور ہر شخص ان کا احترام کرتا تھا خانوادۂ عصمت و طہارت میں زندگی بسر کرنے کی وجہ سے روز بروز ان کے علم و فضل میں اضافہ ہوتا گیا، چنانچہ آپ فرزندرسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے حکم سے مدینے کی خواتین کو احکام و معارف اسلامی کی تعلیم دیتی تھیں، مؤرخین کے مطابق جناب حمیدہ عفت و حیا اور فضائل و کمالات کے لحاظ سے اپنے زمانے کی خواتین کے درمیان فقید المثال خاتون تھیں اور شائستگی، انتظامی امور کی صلاحیت اور امانت و صداقت جیسے اعلی صفات سے متصف تھیں، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اہل مدینہ کی واجبات کی ادائیگی کے امور ہمیشہ اپنی والدہ ماجدہ ام فروہ اور اپنی شریک حیات جناب حمیدہ کے سپرد کیا کرتے تھے۔اس کے علاوہ جناب حمیدہ حدیث بھی نقل کرتی تھیں، حضرت امام جعفر صادق کی اس مشہور و معروف حدیث کی راوی بھی آپ ہی ہیں جو آپ نے دنیائے محن کو ترک کرنے سے کچھ لمحہ قبل ارشاد فرمائی تھیں کہ : "جو شخص نماز کو سبک سمجھےگا اسے ہماری شفاعت نصیب نہیں ہوگی ۔

تاريخ اسلام کی ایک اور عظیم و مثالی خاتون فاطمہ بنت عبداللہ بن ابراہیم ہیں، جو اپنے بیٹے داؤد کی وجہ سے ام داؤد کی کنیت سے مشہور ہیں، یہ وہی خاتون ہیں جن سے رجب المرجّب کی پندرہویں تاریخ کا عمل " عمل ام داود" منسوب ہے۔ جناب ام داؤد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی رضاعی ماں ہیں۔ ساتویں صدی کے معروف عالم دین سیّد ابن طاؤس علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: میری دادی ام داؤد ایک نیک و شائستہ اور مؤمنہ خاتون تھیں ۔

ماہ رجب المرّجب کی پندرہویں تاریخ کا عمل اور دعائے ام داؤد مشکلات اور سختیوں سے نجات اور ظالمو ں کے شر سے بچنے کے لئے بہت ہی مؤثر عمل ہے اس عمل کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ نقل کیا گیا ہے ۔ جناب ام داؤد کہتی ہیں: عباسی خلیفہ منصور دوانیقی نے مدینۂ منورہ پر یلغار کے لئے فوج بھیجی اور عباسی لشکر نے سادات کی ایک بڑی تعداد کو قید کرکے پابند سلاسل کردیا جس میں میرا بیٹا داؤد بھی شامل تھا ، چنانچہ اسے بھی دوسرے قیدیوں کے ساتھ مدینے سے بغداد لے جایا گیا جہاں انہیں ایک ہولناک زندان میں قید کیا گیا۔

داؤد کی گرفتاری اور اسارت کے بعد اس کا میری نظروں سے اوجھل ہونا میرے لئے ناقابل برداشت تھا، میں غم واندوہ کی حالت میں گریہ وزاری کرتی رہی اور اپنی پریشانیوں سے نجات اور بیٹے کی رہائی کے لئے مؤمنین سے التجا کرتی تھی کہ وہ دعا کریں، لیکن کوئی نتیحہ نہیں نکلا جب کہ آئے دن میرے بیٹے کے بارے میں بری خبریں ملتی رہیں یہاں تک کہ یہ دلسوز خبر ملی کہ وہ ماراگیا ایسے حالات میں میرے غم واندوہ میں اضافہ ہوتا گیا اور جوان بیٹے کے غم نے مجھے کمزور و ناتواں کردیا، میں مایوس ہوگئی تھی اورنا امیدی کے عالم میں سوچا کرتی تھی کہ اپنے بیٹے کا کبھی بھی چہرہ نہیں دیکھ پاؤں گی ۔

اسی دوران مجھے اطلاع ملی کہ امام جعفر صادق علیہ السلام بیمار ہیں ، میں عیادت کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، جب میں واپس جانے لگی تو آپ نے فرمایا" کیا داؤد کے بارے میں کوئی اطلاع ملی؟ ام داؤد کہتی ہیں: جیسے ہی میں نے داؤد کا نام سنا تو میرے آنکھیں اشکبار ہوگئیں ، میں نے آہ سرد کھینچی اور کہا: اے میرے سید و سردار میری جانیں آپ پر قربان، کافی عرصے سے اس کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی ہے اور اس وقت وہ عراق کے قید خانے میں ہے اور میں اس سے دوری اور شومئی قسمت کی وجہ سے بہت ہی مضطرب و پریشان ہوں آپ چونکہ اس کے رضاعی بھائی بھی ہیں میں آپ سے التماس کرتی ہوں کہ اس کی آزادی اور مشکلوں سے نجات کے لئے دعا فرمائیے ۔امام علیہ السلام نے میرے اضطراب کو دیکھ کر فرمایا : تم نے اب تک دعائے استفتاح کیوں نہیں پڑھی ؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اس دعا کے ذریعے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور الہی فرشتے دعا کرنے والے کو بشارت و خوشخبری سناتے ہيں کہ کوئی بھی دعا کرنے والا مایوس نہیں ہوگا اور خداوندعالم اس دعا کرنے والے کو اجر و ثواب کے بدلے میں بہشت عطا فرمائے گا ۔یہ جواب سن کر میری ناامیدی امید میں تبدیل ہوگئيں اور میں نے حضرت سے سوال کردیا اے میرے مولا وہ کون سی دعا ہے اور اس کے آداب کیا ہیں؟

فرزند رسول حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا: اے ام داؤد، خدا کا محترم مہینہ " رجب " عنقریب آنے والا ہے اس مبارک مہینے میں دعائیں مستجاب ہوتی ہیں اس مہینے کی تیرہویں ، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں میں جنہیں ایام البیض کہتے ہیں روزہ رکھو اور پندرہويں تاریخ کو ظہر کے وقت غسل کرو اور آٹھ رکعت نماز پورے سکون و اطمینان اور خضوع و خشوع کے ساتھ پڑھو اس کے بعد امام علیہ السلام نے انہیں مخصوص اعمال کی تعلیم دی ۔

ام داؤد کہتی ہیں میں نے امام علیہ السلام کی بتائی ہوئی دعا اور اعمال کو لکھ لیا اور پھر خداحافظ کرکے واپس آگئی ۔ ماہ رجب آگیا اور امام علیہ السلام نے جن اعمال کے بارے میں تعلیم دی تھی میں نے تمام اعمال انہیں دنوں میں انجام دیئے سولہویں رجب کی آدھی رات گذر چکی تھی میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تمام فرشتوں اور صلحاء کو جن کے لئے دعائیں کی تھیں ان سب کو خواب میں دیکھا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ام داؤد یہ گروہ جو تم دیکھ رہی ہو تمہاری شفاعت کرنے والے ہیں انہوں نے تمہارے لئے دعائیں کی ہیں اور تمہیں خوشخبری و بشارت دے رہے ہیں کہ تمہاری حاجتیں قبول بارگاہ احدیت ہوگئی ہیں اور خداوندعالم نے تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائی ہیں خدا تمہارے بچے کی حفاظت کرے گا اور صحیح و سالم تمہارے پاس پہنچا دے گا جیسے ہی سورج طلوع ہوا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وعدے اور وہ نور امید جو میرے غمزدہ قلب میں روشن ہواتھا اس کی بناء پر میں نے اپنے اندر ایک تازگی محسوس کی اور جس دن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے فرزند کے واپس آنے کی بشارت و خبر دی تھی اسی روز ایک سوار بہت تیزي کے ساتھ عراق سے مدینہ آیا ، اچانک میرے گھر کا دروازہ کھلا اور میری آنکھوں کا تارا میری نگاہوں کے سامنے کھڑا تھا۔

داؤد اپنی ماں کے پاس آگئے ماں نے داؤد سے ان کی رہائی کے بارے میں سوال کیاکہ تمہیں کیسے رہا کیا گیا داؤد نے کہا " میں بغداد کے قیدخانے میں مقید تھا میرے ہاتھوں اور پیروں کوطوق و زنجیر سے باندھاگیا تھا طوق و سلاسل میں جکڑے اور قیدخانے کے تنگ و تاریک ہونے کی وجہ سے میری زندگی بہت تلخ ہوگئی تھی مگر جیسے ہی پندرہویں رجب کا دن گذرا اور سولہویں کی شب آئی میں نے خواب دیکھا کہ ناہموار زمین میرے لئے ہموار ہوگئی ہے میں نے دیکھا کہ آپ چٹائی کے ایک ٹکڑے پر بیٹھی نماز پڑھ رہی ہیں اور میرے لئے دعائیں کررہی ہیں اور آپ کے چاروں طرف کچھ لوگ کھڑے ہیں جو آسمان کی طرف ہاتھوں اور سروں کو اٹھائے ہوئے خدا کے ذکر میں مشغول ہیں اور ایک نورانی شخصیت بھی موجود ہے میں سمجھ گیا کہ وہ نوررانی شخص رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں آپ نے مجھ سے فرمایا: پریشان نہ ہو خداوندعالم نے تمہارے حق میں تمہاری ماں کی دعا کو قبول کرلیا ہے جیسے ہی میری آنکھ کھلی داروغہ زندان میرے پاس آیا اور اسی وقت مجھے منصور دوانیقی کے پاس لے گیا اس نے حکم دیا کہ طوق و زنجیر کو اس سے جداکردیا جائے۔ اے مادر گرامی منصوردوانیقی نے میرے ساتھ بہترین سلوک کیا اور مجھے دس ہزار دینار دیا اس کے بعد اس کے سپاہیوں نے مجھے اسی رات ایک اونٹ پر سوارکیا اور مجھے مدینے تک پہنچا دیا۔

جناب ام داؤد کہتی ہیں کہ میں اسی وقت داؤد کو لے کر فرزند رسول امام جفعر صادق علیہ السلام کے پاس گئی، آپ نے میرے بیٹے کے سامنے وضاحت کے ساتھ بیان کیا کہ اے داؤد قید خانے سے تیرے رہا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ منصور دوانیقی نے حضرت علی علیہ السلام کو خواب میں دیکھا تھا اور امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا تھا کہ اگر تم نے میرے فرزند کو آزاد نہ کیا تو میں تجھے جہنم میں ڈال دوں گا منصور نے جب اپنے قریب دہکتی ہوئی آگ کی گرمی کا احساس کیا تواس نے مجبور ہوکر تمہیں رہا کردیا ۔

ام داؤد نے امام علیہ السلام سے اس دعا کے پڑھنے کے بارے میں سوال کیا کہ اے مولا کیا اس دعا کو رجب کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی پڑھ سکتے ہیں ؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اگر روز عرفہ اور جمعہ کا دن ایک ساتھ پڑ جائے تو اس دعا کو پڑھ سکتی ہو پس جو شخص بھی اس دعا کو پڑھے گاخداوندعالم اسے دعا کے اختتام تک بخش دے گا اور اس پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اس وقت بھی پوری دنیا میں ہزاروں مسلمان اعمال ام داؤد انجام دیتے ہیں اور اس کے معنوی نتائج سے استفادہ کرتے ہیں ۔

فاطمہ بنت الحسن سلام اللہ علیہا(باقرالعلوم کی ماں) Home,

فاطمہ بنت الحسن سلام اللہ علیہا(باقرالعلوم کی ماں)


امام محمد باقر کی والدہ کا صرف ایک نام ذکر ہوا ہے اور وہ فاطمہ ہے۔ ان کی کنیت یہ ہیں ام عبداللہ ،ام الحسن؛ ام عبدہ ؛ ام عبیدہ؛ القاب یہ ہیں :صدیقہ ؛ آمنہ ؛ تقیہ اور محسنہ
امام محمد باقر کی والدہ کا صرف ایک نام ذکر ہوا ہے اور وہ فاطمہ ہے۔ ان کی کنیت یہ ہیں ام عبداللہ ،ام الحسن۔ ام عبدہ ،ام عبیدہ۔
 القاب یہ ہیں :صدیقہ۔آمنہ ، تقیہ اور محسنہ ۔ ان کی ماں کے بارے میں مورخین کے درمیان اختلاف ہے۔ اور شاید اختلاف کا سبب یہ ہے کہ اس کے علاوہ امام حسن کی دو اور بیٹیاں فاطمہ نامہ تھیں.
شادی :امام سجادکی شادی اپنے چچا کی بیٹی فاطمہ یعنی امام حسن  کی بیٹی سے ہوئی۔ پہلی دفعہ علی  بنت ابی طالب اور فاطمہ بنت اسد کی شادی ہوئی، پھر اسی دونوں پر علی ابن حسین اور فاطمہ بنت حسن  کی شادی، اس طرح شادی سے دو نسل امامت پیدا ہوئیں (امام حسن امام حسین جواد فاضل لکھتے ہیں کہ ٥٠ ھ ہی میں شہادت پائی اور اس کے بعد امام حسین  نے امامت کے فرائض بیان کیے۔ امام حسین  اپنے بھائی حسن  کی بیٹی فاطمہ کا نکاح اپنے بیٹے علی  سے کیا اور اپنی بیٹی فاطمہ کا نکاح اپنے بھائی کے بیٹے حسن سے کیا ۔ امام صادق  ـفرماتے ہیں: جب امام سجادـ نے ام عبداللہ سے شادی کی تو علی بن حسین  نے اس کا نام صدیقہ رکھا۔امام زین العابدینـکی چھ بیویاں تھیں۔ ان میں سے صرف یہی فاطمہ دائمی عقد میں تھیں، باقی یا کنیز تھیں یا ام ولد ۔
بیٹے کی ولادت :فاطمہ کی عمر کے بہترین لحظات امام باقر کی ولادت سے شروع ہوتے ہیں۔ امام باقر مدینہ میں پیدا ہوئے ۔ ابن شہر آشوب لکھتا: امام باقر ہاشمی ہیں یہ پہلی بار امام حسن اور امام حسین کی نسل کا پیوند تھا۔امام باقر کے بعد آٹھ اور معصوم اسی فاطمہ کی اولاد سے ہیں۔ حضرت معصومہ کی زیارت نامے میں امام موسیٰ کاظم کی بیٹی کا نام آیا ہے۔(( السلام علیک یا بنت الحسن والحسین  )) سلام ہو تجھ پے اے حسن وحسن ٪کی بیٹی اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام باقر کے بعد باقی آئمہ ان دو بھائیوں کی اولاد سے ہیں ۔
تعداد اولاد :مشہور قول کی بناء پر امام سجاد کے پندرہ (١٥) بچے تھے۔ بعض کے نزدیک امام باقر فاطمہ بنت حسن  کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ مزید لکھتے ہیں: کہ امام سجاد ـکی دوسری اولاد ام ولد سے تھی۔ ابن شہر آشوب اور علامہ مجلسی  لکھتے ہیں: ام عبداللہ اور امام سجاد کی شادی سے دو بیٹے ہوئے پھر لکھتے ہیں امام سجاد کی تمام اولاد کنیزوں اور ام ولد سے تھی سوائے دو بیٹوں کے ،محمد باقر اور عبداللہ، ان کی ماں ام عبداللہ امام حسن کی بیٹی تھی۔ ابن سعد اور شیخ عباس قمی لکھتے ہیں ام عبداللہ اور امام سجاد کے چار بچے تھے جو کہ یہ ہیں :محمد باقر ،حسن ، حسین ،عبداللہ باھر ۔
حضرت امام محمد باقر کی ماں کی کرامات: امام باقر کی ماں با تقویٰ پرہیزگار اور باعظمت خاتون تھیں ۔امام باقر نے فرمایا :((کانت أمی قاعدة عند جدار فتصدع الجدار وسمعنا ھدة شدیدة،فقالت بیدھا:لا وحق المصطفیٰ مااذن اللّٰہ لک فی السقوط فبقی معلقاً فی الجو حتی جازتہ فتصدق أبی عنھا بمأة دینار))میری ماں دیوار کے ساتھ تشریف فرما تھیں۔ اس دیوار سے عجیب آواز آئی، میری ماں نے ہاتھ سے اشارہ کیا فرمایا: میرے باپ نہیں ۔ بحق محمد اے خدا !اس دیوار کو گرنے سے بچا ۔پس دیوار ہوا میں معلق ہوگئی جب میری ماں اٹھ کر چلی گئیں تو دیوار گر گئی ۔امام سجاد نے سو (١٠٠) دینار صدقہ دیا ۔
امام صادق کی نظر :امام صادق فاطمہ بنت حسن کے بارے میں فرماتے ہیں :((کانت صدیقة لم تدرک فی آل الحسن مثلھا))وہ ایک صدیقہ اور امام حسن ـکے خاندان کی بے نظیر ،باتقویٰ خاتون تھیں
کربلا میں : ام عبداللہ اپنے بیٹے امام محمد باقر کے ساتھ کربلا میں موجود تھیں۔ کربلا کے تمام واقعات انہوں نے آنکھ سے دیکھے۔ امام محمد باقر اس روز کو یوں یاد کرتے ہیں: (( قتل جدی الحسین ولی اربعہ سنین وانی لاذکرو مقتلہ وما نا لنا فی ذالک الوقت)) امام حسین کی شہادت کے وقت میری عمر چار سال تھی اور کربلا میں تمام واقعات مجھے یاد ہیں۔ پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام محمد باقر کی ماں کربلا میں تھیں اور بعد میں اسیر ہوئیں ۔
یاد ماں :جابر بن عبداللہ انصاری کہتا ہے: جب امام حسن مجتبیٰ  پیدا ہوئے اور لوگ گھر میں مبارک باد دینے آئے، تو میں بھی گیا میں نے دیکھا کہ حضرت زہراء  کے ہاتھ میں ایک نورانی صحیفہ ہے۔ میں نے پوچھا کہ اے سیدہ !یہ صحیفہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اے جابر یہ وہ صحیفہ ہے جس میں میری نسل سے پیدا ہونے والے آئمہ کے نام ہیں۔ میں نے بی بی سے عرض کی کہ یہ صحیفہ مجھے دو تاکہ میں اس کو پڑھو حضرت فاطمہ  نے فرمایا: اے جابر اگر منع نہ ہوتا تو میں آپ کو دیتی اس صحیفے کو نبی یا وصی ہی پڑھ سکتا ہے ۔ جابر کہتا ہے بی بی نے فرمایا: آپ اسے چھو نہیں سکتے لیکن پڑھ سکتے ہیں جابر کہتا ہے: کہ میں نے اس صحیفے میں تمام آئمہ اور ان کی مائوں کے نام پڑھے ۔
وفات :فاطمہ بنت حسن کی زندگی کے تین حصے مہم ہیں، دوران امام حسن ،امام حسین،امام زین العابدین امام سجادـلوگوں کی بے وفائی کے بارے میں فرماتے ہیں: کہ تمام مکہ ومدینہ میں بیس لوگوں سے زیادہ ہمارے محب نہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امام محمد باقر کی ماں کی قبر اور ان کی وفات کی تاریخ مخفی رہی۔ البتہ بعض منابع میں ملتا ہے کہ فاطمہ بنت حسن امام باقر کی ماں (٥٧) ستاون سال کی عمر میں مدینہ میں فوت ہوئیں-

Tuesday, December 2, 2014

ام فروہ سلام اللہ علیہا

 

 

 

ام فروہ سلام اللہ علیہا


حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی زوجہ اور فرزند رسول امام جعفر صادق علیہ السلام کی مادر گرامی ہیں آپ نے ان دو امام ہمام سے بہت زيادہ علوم اور فضائل و کمالات حاصل کئے ۔
تاریخ اسلام کی باعظمت خواتین میں سے ایک باشرف خاتون جناب فاطمہ بھی ہیں جو ام فروہ کے لقب سے مشہور اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی زوجہ اور فرزند رسول امام جعفر صادق علیہ السلام کی مادر گرامی ہیں آپ نے ان دو امام ہمام سے بہت زيادہ علوم اور فضائل و کمالات حاصل کئے ۔

بغداد کے مشہور و معروف مورخ و دانشور علی بن حسین مسعودی سے روایت ہے کہ ام فروہ اپنے زمانے کی تمام عورتوں سے فضل و کمال اور تقوی و پرہیزگاری میں ممتاز تھیں ۔

اس عظیم المرتبت خاتون کی تاريخ ولادت اور امام محمد باقر علیہ السلام سے شادی کی تاريخ کا صحیح علم نہیں ہے لیکن اس مقدس شادی کے نتیجے میں دو عظیم فرزند حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اور عبد اللہ پیدا ہوئے ۔

فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ہمیشہ اپنی مادرگرامی کے حسن عمل اور تقوی و پرہیزگاری کا ذکر فرمایا کرتے تھے آپ اپنی والدہ ماجدہ کی عظمت ایمان اور کمال معنویت کے بارے میں فرماتے ہیں : میری والدہ ماجدہ صاحب ایمان خواتین میں سے ہیں جو تقوی و پرہیزگاری سے مملو ، بہترین روش و اسلوب سے آراستہ اور نیک خاتون تھیں اور خداوندمتعال بھی نیک لوگوں کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہے ۔

امام علیہ السلام نے اس مختصر مگر جامع قول کو سورہ نحل کی آیت ایک سو اٹھائیس سے اخذ کیا اور اپنی مادرگرامی کے نیک و پسندیدہ اوصاف کوبیان کیا ہے ۔

اس با فضیلت خاتون نے معرفت اور تقوی، انسانی و اخلاقی فضائل و کمالات کے بلند مقامات پر فائز ہونے کے علاوہ حضرت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہم السلام سے بے شمار حدیثیں بھی نقل کی ہیں اور ان کا شمار راویان حدیث میں ہوتا ہے۔

چنانچہ فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنی مادر گرامی سے حدیث نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے شوہر نامدار حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ میں روزانہ ایک ہزار مرتبہ اپنے گنہگار شیعوں کے لئے دعا اور خداوندعالم سے ان کی مغفرت طلب کرتاہوں چونکہ ہمارے سامنے جو مصائب و مشکلات ہیں ہم اس پر صبر و شکیبائی سے کام لیتے ہیں اور خداوندعالم جو اس کے بدلے میں اجر و ثواب عطاکرے گا اس سےآگاہ و باخبر ہیں لیکن ہمارے شیعوں کے پاس ایسا علم نہيں ہے وہ صرف ہماری پیروی و اطاعت کی بنیاد پر اپنے عقا‏ئد و دین کی حفاظت کرتے ہوئے ہر طرح کی سختی و مشکلات کو برداشت کرتے ہيں ۔

جناب ام فروہ ایک عقلمند و بادرایت اور با وفا خاتون تھیں روایت میں ہے کہ نوے ہجری قمری میں مدینے میں خطرناک چیچک کی بیماری پھیل گئی اور بعض بچے اس بیماری میں مبتلا ہوگئے اگر چہ فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی عمر مبارک سات برس تھی اور سات برس سے دس برس تک کے بچوں کو چیچک کی بیماری بہت ہی کم ہوتی تھی لیکن اس کے باوجود ام فروہ امام علیہ السلام سمیت اپنے تمام بچوں کو لے کر مدینے سے باہر چلی گئیں تاکہ چیچک جیسی مہلک بیماری آپ کے بچوں میں سرایت نہ کرجائے۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ زمانے میں اس مہلک بیماری سے بچنے کے لئے لوگ اپنے گھربار کو چھوڑ کر ہجرت کرلیا کرتے تھے تاکہ یہ بیماری انہیں اپنی لپیٹ میں نہ لےلے۔

جناب ام فروہ اپنے بچوں کو لے کر مدینے سے کچھ فاصلے پر طنفسہ نامی علاقے میں چلی گئیں لیکن کچھ ہی دنوں بعد انہیں احساس ہوا کہ خود وہ اس بیماری میں مبتلا ہوگئیں ہیں یہ عظیم خاتون بجائے اس کے کہ اپنی فکر کرتیں انہوں نے اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے درخواست کی کہ بچوں کو طنفسہ سے ایسی جگہ لے جائیں جہاں یہ بیماری نہ ہو۔ لہذا امام جعفر صادق علیہ السلام سمیت تمام بچوں کو وہاں سے ایک دیہات میں منتقل کردیا گیا ۔

ادھر مدینے میں امام محمد باقر علیہ السلام کو خبر دی گئی کہ آپ کی شریکہ حیات ام فروہ چیچک کی بیماری میں مبتلا ہیں چونکہ یہ خطرناک بیماری تھی اور اس زمانے میں اس کا علاج نہ تھا ۔امام محمد باقر علیہ السلام نے درس ختم کیا تاکہ اپنی شریکہ حیات کی عیادت کے لئے طنفسہ جائیں امام علیہ السلام نے طنفسہ جانے سے پہلے اپنے جد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر پر آئے اور ام فروہ کی شفا یابی کے لئے دعا فرمائی۔

جب ام فروہ نے اپنے شوہر نامدار کو دیکھا تو کہا کہ آپ یہاں کیوں تشریف لائے ہیں کیا آپ کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ میں چیچک جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوں کیا آپ نہیں جانتے کہ چیچک جیسی مہلک بیماری میں مبتلا افراد کی عیادت کے لئے نہیں جایا کرتے کیونکہ ممکن ہے وہ بیماری عیادت کرنے والے میں بھی سرایت کر جائے ۔ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا میں نے روح پیغمبر علیہ السلام سے درخواست کی ہے کہ تمہیں شفا عطا کرے اور میں جانتا ہوں کہ تمہیں بہت جلد شفا نصیب ہوگی اور مجھ میں یہ بیماری سرایت نہیں کرے گی ۔

المختصر یہ کہ فرزند رسول امام محمد باقر علیہ السلام کی دعا سے جناب ام فروہ کو شفا نصیب ہوئی اور بیماری کا ذرہ برابر بھی اثر ان میں نہ رہا ان کی صحتیابی ایک نادر واقعہ تھا کیونکہ چیچک جیسی مہلک و خطرناک بیماری عمر رسیدہ کو بہت ہی کم ہوتی ہے اور اگر سرایت کرجائے تو مریض شفا یاب نہیں ہوتا ۔اور اس طرح سے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی دعا سے کہ جو عظمت و فضیلت کے عظیم منارہ تھے ام فروہ کو شفا نصیب ہوئی ام فروہ صحتیابی کے بعد مدینے واپس آگئیں لیکن چونکہ چیچک کی وبا ابھی تک مدینے میں تھی اس لئے اپنے ساتھ بچوں کو مدینہ نہیں لا‏ئيں حضرت ام فروہ کی تاریخ ولادت معلوم نہیں ہے لیکن اس عظیم و بہادر خاتون کی قبر مدینے میں آج بھی زيارت کامرکز بنی ہوئی ہے ۔

شہر بانوسلام اللہ علیہا, Home

 

شہر بانوسلام اللہ علیہا


فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی شریکہ حیات ایران کے ساسانی بادشاہ یزد گرد کی بیٹی شہربانو تھیں ۔
اہل بیت پیغمبر علیہم السلام کے زمانے میں تاريخ اسلام کی معتبر و عظیم خواتین کی شناخت و معرفت بھی ایک اہم موضوع ہے چونکہ ان خواتین میں بہت سی ایسی ہستیاں بھی ہیں جنہوں نے امام معصوم علیہم السلام کی تربیت وپرورش کی تھی لہذا ضروری ہے کہ ان موضوعات کو بھی بیان کیا جائے تاکہ بعض ائمہ کی مادران گرامی اور ان کی شریکہ ہائے حیات کے بارے میں آشنائی پیدا ہوسکے کیونکہ یہ عظیم خواتین متقی و پرہیزگار تھیں۔

فرزند رسول حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی مادر گرامی کے بارے ميں مختلف روایتیں موجود ہیں ۔

عظیم مورخ اور عالم دین ابن قتیبہ دینوری اور دوسری و تیسری صدی ہجری کے عظیم مورخ ابن سعد نے تحریر کیا ہے کہ فرزند رسول امام حسین علیہ السلام کی شریکہ حیات اہل سند کی ایک کنیز تھیں اور ان کا نام غزالہ یا سلافہ تھا لیکن تاريخی اور روائی تحقیق وجستجو اور بہت سے شیعہ و اہل سنت کے عقیدے کے مطابق فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی شریکہ حیات ایران کے ساسانی بادشاہ یزد گرد کی بیٹی شہربانو تھیں ۔

فرزند رسول حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی مادرگرامی بادشاہ ایران یزدگرد کی بیٹی جناب شہر بانو تھیں آپ کی ولادت ایران کے شاہی دربار میں ہوئی لیکن اپنے ساتھ نشت و برخاست کرنے والوں کے بر خلاف آپ ایمان ، عقیدہ ، عفت و حیا اور پاکیزگی سے مالامال تھیں یہ عظیم خاتون اپنی پاکیزہ فطرت پر پورے استحکام کے ساتھ باقی رہیں اور دربار کے برے اخلاقی اقدار اور بیہودہ نظریات و روایات کا آپ کا آپ کے بیدار ضمیر پر کسی قسم کا اثر نہیں پڑا ۔آپ کی اسیری سے پہلے کے حالات کے بارے میں کوئی خاص معلومات موجود نہیں ہے لیکن آپ نے اسیری کے بعد اس بات کو ثابت کر دکھایا کہ بچپن سے ہی طہارت و پاکیزگی ان کا شیوہ تھا اور امام سجاد علیہ السلام کی ماں بننے کا تمام شرف اور صلاحیت آپ کو حاصل ہے ۔

جناب شہر بانوسلام اللہ علیہا اپنی اسیری کے حالات اور فرزند رسول امام حسین علیہ السلام سے اپنی شادی کے بارے میں فرماتی ہیں ۔ اپنی اسیری سے پہلے میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ پیغمبر اسلام اور امام حسین علیہ السلام ہمارے گھر تشریف لائے اور امام حسین علیہ السلام سے میرا عقد پڑھ دیا صبح کو جب میں نیند سے بیدار ہوئی تو میں نے اپنے دل میں فرزند رسول امام حسین علیہ السلام کی محبت کو موجزن پایا، پھر دوسری رات کو بھی خواب دیکھا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا تشریف لائیں اور مجھے اسلام کی تعلیم دی اور میں ان کے ہاتھوں اسلام لائی اس کے بعد شہزادی حضرت فاطمہ نے مجھ سے فرمایا : عنقریب اسلامی لشکر یہاں قبضہ کرے گا اور بغیرکسی حادثہ یا مشکلات کے تم میرے فرزند حسین کے پاس پہنچ جاؤگی ۔

حضرت امام علی علیہ السلام نے اس خاتون کا نام مریم یا بناء بر ایک قول فاطمہ رکھا اور امام حسین علیہ السلام سے ان کے بارے میں بہت زيادہ تاکید کی اور فرمایا : اس کے ذریعے خداوندعالم تمہیں ایک ایسی اولاد عطا کرے گا جو روئے زمین پر سب سے بہترین فرد ہوگی ۔

یہ عظیم خاتون " سیدۃ النساء " کے لقب سے مشہور تھیں جو آپ کی کرامت و فضیلت اور عظمت کی بہترین علامت ہے جناب شہر بانو کی صرف ایک اولاد تھی ، وہ تھے امام سجاد علیہ السلام ، روایت میں ہے کہ جب آپ مدینہ منورہ میں وارد ہوئیں تو حضرت علی علیہ السلام نے انہیں امام حسین علیہ السلام کے سپرد کرکے فرمایا کہ یہ وہ عصمت پرور بی بی ہے جس کے بطن سے تمہارے بعد افضل اوصیاء اور افضل کائنات ہونے والا بچہ پیدا ہو گا چنانچہ حضرت امام زین العابدین پیدا ہوئے لیکن آپ اپنی ماں کی آغوش میں پرورش پانے کا لطف نہ اٹھا سکے اور چند ماہ بعد جناب شہربانو کی وفات ہو گئی اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کردیا گیا بعض روایتوں میں ہے کہ آپ کربلا میں بھی موجود تھیں بہرحال اس سلسلے میں مختلف اقوال موجود ہیں ۔

Thursday, November 27, 2014


اب آئے ہو بابا
 
وہ کربلا و شام غریباں وہ تیرگی
وہ زینب حزیں وہ حفاظت خیام کی
آیا وہ اک سوار قریب خیام شاہ
بیٹی علی کی غیض میں سوئے فرس بڑھی
الٹی نقاب چہرے سے اپنے سوار نے
پیش نگاہ زینب مظلوم تھے علی
ہر چند صا برہ تھی بہت بنت فاطمہ
بے ساختہ لبوں پہ فریاد آگئی
زینب نے کہا باپ کے قدموں سے لپٹ کر
اب آئے ہو بابا

جب لٹ گیا پردیس میں اماں کا بھرا گھر
اب آئے ہو بابا

بابا اگر آنا ہی تھا خالق کی رضا سے
اس وقت نہ آئے
جب خاک پہ دم توڑ رہا تھا میرا اکبر
اب آئے ہو بابا

کٹ کٹ کے گرے نہر پہ جب بازوئے عباس
اور کوئی نہ تھا پاس
اس وقت صدا آپ کو دیتا تھا دلاور
اب آئے ہو بابا

جب فرش زمین بام و فلک لرزہ فشاں تھے
اس وقت کہاں تھے
جب باپ کے چلو میں تھا خون علی اصغر
اب آئے ہو بابا

جب بھائی کا سر کٹتا تھا میں دیکھ رہی تھی
حضرت کو صدا دی
سر کھولے ہوئی روتی تھی میں خیمے کے در پر
اب آئے ہو بابا

جب لوگ بچا لے گئے لاشے شہدائ کے
حق اپنا جتا کر
بس اک تن شبیر تھا پامالی کی زد پر
اب آئے ہو بابا

جب بالی سکینہ کے گوہر چھینے گئے تھے
لگتے تھے طمانچے
حسرت دے مجھے دیکھتی تھی بانوئے مضطر
اب آئے ہو بابا

اک رات کا مہماں ہیں پھر قید سلاسل
اب سخت ہے منزل
بازار میں ہم صبح کو جائیں گے کھلے سر
اب آئے ہو بابا

کیا آپ نے فردوس سے یہ دیکھا نہ ہو گا
اک حشر بپا تھا
جب پشت سے بیمار کی کھینچا گیا بستر
اب آئے ہو بابا

شاہد رخ حیدر پہ بکھر جاتے تھے آنسو
جب کھول کے گیسو
چلاتی تھی زینب میرے بابا میری چادر
اب آئے ہو بابا

Saturday, November 8, 2014

Home



ابو طالب    علیہ السلام

شریک دعوتِ اسلام ہے ابو طالب


رسول ان کا بڑا احترام کرتے ہیں
ثوابِ دید سے تنظیمِ عام کرتے ہیں
سحر کو اُٹھتے ہی اول یہ کام کرتے ہیں
انہیں نماز سے پہلے سلام کرتے ہیں
نبی کسی کافر کو یوں سلامی ہے
تو پھر ضرور نبوت میں کوئی خامی ہے
شریکِ دعوت ۔۔۔

انہی کے گھر میں خیراُلانعام صلے علیٰ
پسر نبی کا ہے قائم مقام صلے علیٰ
اسے نصیب ہے یہ احترام صلے علیٰ
کہ ان کے خُرد ہیں سارے امام صلے علیٰ
خطا معاف ہو یہ بھی اگر نہیں مومن
تو پھر جہاں میں کو ئی بشر نہیں مومن
شریکِ دعوت ۔۔۔

نہ جانچیئے یہ روایت نہ سیرت و کردار
نبی کی آنکھ سے ان کو دیکھیئے اک بار
یہ بارگاہِ رسالت میں آپ کا تھا وقار
بچھا کے خاک انہیں روئے احمدِ مُختار
وہ عامِ حُزن بنا ان کا جب وصال ہوا
یہ غم رسول کی اُمت میں اک سال ہوا
شریکِ دعوت ۔۔۔

یہ مرنے والا گر ایمان ہی نہ لایا تھا
تو کیا رسول نے کافر کا غم منایا تھا
زُبان پہ وا اباۃٰ بار بار آیا تھا
وہ خود بھی روئے تھے اوروں کو بھی رُلایا تھا
جتا دیا تھا کہ جو مُحسنِ رسالت ہے
تو اُسکو رونا رُلانا نبی  کی سُنت ہے
شریکِ دعوت ۔۔۔

یہ بات اگر ہو اجازت تو پُوچھ لوں میں یہیں
حُسین ابنِ علی کیا نہیں تھے مُحسن ِدیں
ہم ان کو روئیں تو پھر کیوںہو چیں با جبیں
بنے تھے ان کا تو ناقہ رسولِ عرشِ نشیں
حُسین سوئے شہِ مُرسل کے سینے پر
غضب ہے شمر کا زانوں اُنہیں کے سینے پر
شریکِ دعوت ۔۔۔

یہ بگوشِ ہوش کیوں جب حالِ کربلا سُنیئے
سُنا جو میرے تصور نے جو وہ ذرا سُنیئے
بیان ہمتِ صبر و شاہ ِالھُدیٰ سُنیئے
وہ آتی ہے ملک ُالموت کی صدا سُنیئے
مِلا جو حُکم کہ سر سے نکال جانِ حُسین
کہا کہ سخت ہے یا رب یہ امتحانِ حُسین
شریکِ دعوت ۔۔۔

لگا ہے زخم تبر بہہ رہا ہے سر سے لہو
بھرے ہیں خون میں جانِ رسول کے گیسُو
قریب جا کے رکھوں دل پہ کس طرح قابو
کہ اس لہو میں تو ہے فاطمہ کے دودھ کی بُو
ندا یہ آئی کہ آنکھیں تو ڈال آنکھو ں میں
کہا بہن کا ہے اس دم خیال آنکھوں میں
شریکِ دعوت ۔۔۔

ندا یہ آئی کہ گردن سے کھینچ جان ان کی
کہا میں کیا کروں گردن پہ چل رہی ہے چُھری
چُھری پکڑ کہ یہ چلاتی ہے کوئی بی بی
نہ ذبح کر میرے بچے کو میں دُعا دوں گی
جہاں رواں تیرے خنجر کی آب ہے ظالم
یہ بوسہ گاہِ رسالتِ مآب ہے ظالم
شریکِ دعوت ۔۔۔

ندا یہ آئی کہ سینے سے قبض کر لے جان
کہا کہ تیروں سے چھلنی ہے اے میرے رحمان
ابھی تو مار کے برچھی ہٹا ہے اک شیطان
اور اب تو ہے تہہِ زانوئے شمر یہ قرآن
یہ کرم ہے کے رُخِ پاک گردہے یا رب
تیرے حُسین کے سینے میں درد ہے یا رب
شریکِ دعوت ۔۔۔

ندا یہ آئی کہ مظلومیت کا رُتبہ شناس
کمر سے کھینچ لے صابر کی جانِ بیوسواس
کہا ملک نے تڑپ کر با درد و حسرت و یاس
کمر تو ٹوٹ گئی جب سے مر گئے عباس
صدائے غیب یہ آئی بحال ہے چہرہ
کہا ہے خون سے اصغر کے لال ہے چہرہ
شریکِ دعوت ۔۔۔

یہ گُفتگُو تھی کہ مُرجھا گیا رسول کا پُھول
فلک سے آگئے رُوحُ الامین حزین و ملول
کہا پُکار کے مُنہ ڈھانپ لوبرائے رسول
پسر کی لاش پہ کُھولیں گی اپنے بال بتول
صدا یہ سُن کے اس سمت چل پڑی زینب
تڑپ کے خیمے سے باہر نکل پڑی زینب
شریکِ دعوت ۔۔۔

نسیم اُدھر سے تو قُدسی کی صدا آئی
ادھر تڑپتی ہوئی بنتِ مُرتُضٰی آئی
قریبِ لاش جوخواہر بصد بُقا آئی
اخی کے حلقِ بُریدہ سے یہ صدا آئی
کوئی بزرگ نہ اب ہے نہ خُرد ہے زینب
نبی کی آل تمہارے سپرد ہے زینب
 
شریکِ دعوت ۔۔۔ نبی کو حق کا اک انعام ہے ابو طالب
حریم میں وحی میں الہام ہے ابو طالب
حرم کے عظم کا احرام ہے ابو طالب
یہ سُن کے لائے جو غنچہ وہ پھول ہو جائے
پھر اُن کی گود میں پل کر رسول ہو جائے
شریکِ دعوت ۔۔۔

رسولِرب کا نگہبان ہے ابوطالب
ہے دین تو ایمان ہے ابوطالب نبی
نزولِ وحی کا عنوان ہے ابوطالب
بغیر لفظوں کا قرآن ہے ابوطالب
انہی کے دم سے ہوئی ابتدائ بسم اللہ
انہی نے نقطہ دیا زیرِبا ئِ بسم اللہ
شریکِ دعوت ۔۔۔

پیعمبری کی بلائوں کا رد ابوطالب
مدد خُدا کی ہے شکلِ مدد ابوطالب
نبی کی ڈھال دمِ جَدو کد ابوطالب
نشانہ ختم ِرسل اور زد ابوطالب
جہاد ان کا ہے پسِ منظر جہادِ علی
علی ہیں بعد میں ان کے یہ پہلے نادِ علی
شریکِ دعوت ۔۔۔

کہاں ہے تنگ نظر ہم سے بھی تو آنکھ ملا
ہے ان کے کُفر کا دعوہ تو کُچھ ثبوت بھی لا
کوئی تو رسم جہالت کی ان کے گھر میں دِکھا
بُتوں کے آگے جُھکا ا ن کاسر سر اپنا جُھکا
خُدا کے نُور پہ او خاک ڈالنے والے
یہ بُت شکن کو ہیں گودی میں پالنے والے
شریکِ دعوت ۔۔۔