نجمہ خاتون سلام اللہ علیہا
نجمہ خاتون مدینہ میں امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہیں. جناب نجمہ مومنہ ، متقی و پرہیزگار اور نجیب و پارسا خاتون تھیں آپکا گھر اور قبر مطہر مدینہ منورہ میں مرجع خلائق ہے
نجمہ خاتون
تاریخ اسلام اور اہل بیت پیغمبر علیہم السلام کے زمانے کی ایک معتبر اور عظیم المثال خاتون جناب " تکتم " ہیں جو مصر کے جنوبی علاقے کی رہنے والی تھی اور جب یہ ذی شرف خاتون، فرزند رسول حضرت امام موسی بن جعفر علیہ السلام کے گھر میں آئیں تو امام علیہ السلام نے ان کا نام " نجمہ " رکھ دیا آپ عقل و دین اور حیا وعفت میں اپنے زمانے کی تمام عورتوں سے افضل و اکمل تھیں تاریخ کی معتبر کتابوں میں ان کے القاب ام البنین اور طاہرہ تحریر ہیں غالبا یہ ایسے القابات ہیں جو انہیں مختلف مواقع پر دیئے گئے ہیں آپ دوسری صدی ہجری کے وسط میں مدینہ تشریف لائیں اور اس وقت حضرت امام موسی بن جعفر علیہ السلام کی عمر مبارک چوبیس برس تھی فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شریک حیات جناب حمیدہ خاتون نے نجمہ کو خریدا اور انہیں اپنے گھر لے گئیں آپ حمیدہ خاتون کا بہت زيادہ احترام کرتی تھیں اور ان کی عظمت و جلالت کی وجہ سے ان کے پاس نہیں بیٹھتی تھیں ۔
جناب نجمہ مومنہ ، متقی و پرہیزگار اور نجیب و پارسا خاتون تھیں ایک دن جناب حمیدہ خاتون نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ فرمارہے ہیں: اے حمیدہ ، نجمہ کی شادی اپنے بیٹے موسی سے کردو کیونکہ ان کے بطن مبارک سے ایک ایسا بچہ پیدا ہوگا جو روئے زمین کی سب سے بہترین فرد ہوگی۔
اس بشارت کے فورا بعد ہی حمیدہ خاتون نے نجمہ کی شادی اپنے فرزند امام موسی کاظم علیہ السلام سے کردی اور فرمایا : اے میرے لال ، نجمہ، ایک ایسی خاتون ہیں کہ ان سے پہلے میں نے کسی کو بھی اس سے بہتر نہیں دیکھا تھا کیونکہ یہ عقل و دانش اور اخلاق میں بے نظیر ہیں میں انہیں تمہیں عطا کررہی ہوں دیکھو تم بھی ان کے ساتھ نیکی سے پیش آنا ۔ بالآخر اس مبارک و مسعود شادی کے نتیجے میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت با سعادت ہوئی ۔
چوتھی صدی ہجری کے مشہور محدث و مورخ جناب شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی مادر گرامی جناب نجمہ خاتون سے روایت نقل کی ہے آپ فرماتی ہیں : جب مجھ میں آثار حمل نمایاں ہوئے تو مجھے کوئی بھی مشکل پیش نہیں آئی اور جب میں سوجاتی تھی تو تسبیح و تہلیل لاالہ الا اللہ اور حمد خدا کی آوازيں اپنے شکم مبارک سے سنتی تھی لیکن جب بیدار ہوتی تھی تو یہ آوازیں نہیں آتی تھی اور جب یہ سعادتمند بیٹا پیدا ہوا تو اس نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر رکھا اور اپنے سر کو آسمان کی طرف بلند کیا اس کے لب جنبش کررہے تھے اور وہ باتیں کررہے تھے کہ میں نہیں سمجھ پارہی تھی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت سعادت کے بعد جناب نجمہ "طاہرہ" کے لقب سے ملقب ہوئیں یہ عظیم المرتبت خاتون حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت کے بعد آپ ان کی تربیت کرکے اپنی عظمت و رفعت میں بہت زيادہ بلند ہوگئیں ۔
جناب نجمہ خاتون بہت بڑی عبادت گذار اور زاہدہ خاتون تھیں اور اپنے عزيز فرزند کی تربیت کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے خداکی عبادت و راز و نیاز بھی جاری رکھی ۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی مادر گرامی جناب نجمہ خاتون کی قبر مطہر مدینہ منورہ میں مرجع خلائق ہے ۔
اسلامی تاریخ کی ایک اور نامور خاتون حضرت امام رضا علیہ السلام کی شریکہ حیات خیزران ہیں ان کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشن گوئی کی تھی ۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ ایسا کلام کرتے تھے جس میں عظیم حکمت اور دقیق معنی و مفاہیم پوشیدہ ہوتے تھے ایک دن آپ نے اپنے بعض اصحاب کے درمیان فرمایا: میرے باپ کنیزوں کے سب سے بہترین فرزند پر قربان ، نوبہ کے علاقے اور ماریہ قبطیہ کی قوم کی ایک کنیز ،جو پاک و پاکیزہ اور نیک سیرت خاتون ہے ۔
صحابیوں کے جھرمٹ میں سے کسی ایک نے اپنے دوسرے دوست سے پوچھا رسول خدا کی شریکہ حیات کس قوم سے ہیں؟ اس نے سر سے اشارہ کرکے ہامی بھری اور کہا ہاں اے میرے بھائی ، اس نے دوبارہ سوال کیا کہ بتاؤ اس صفت کا حامل کون ہے ؟ اس کے دوست نے جواب دیا شاید یہ اشارہ کسی خاص شخص کے لئے انجام دیا گیا ہے بتاؤ کہ یہ عظیم خاتون کون ہے ؟ دونوں نے آپس میں کہا کہ چلو پیغمبر اسلام سے دریافت کرتے ہیں۔ شاید ان دنوں کسی کو نہیں معلوم تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشنگوئی آپ کے فرزند، عالم تشیع کے آٹھویں رہبر و پیشوا کی شریکہ حیات کے بارے میں ہوگی جو برسہا برس بعد رونما ہوگا اور اپنے زمانے کی عورتوں سے افضل و با فضیلت اور باکمال خاتون "خیزران" یا "سبیکہ" کی شادی بوستان محمدی کے آٹھویں تاجدار حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے ہوگی اور کچھ دنوں کے بعد ان کی زندگی گلدستہ امامت کے نویں پھول حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت با سعادت سے معطر ہوگی ۔
میں فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کا ایک شاگرد یزید بن سلیط ہوں ایک بار میں سفر میں تھا کہ مکہ و مدینہ کے راستے میں حضرت کی زيارت سے مشرف ہوا احوال پرسی کے بعد میں نے امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا اے مولا مدتوں سے میرے دل میں ایک سوال ہے جس نے میرے قلب و دماغ کو مشغول کررکھا ہے امام علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا : اے یزيد بن سلیط ، کس چیز نے تمہارے دل کو مصروف کردیا ہے ۔
میں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ یہ جان لوں کہ آپ کے بعد آپ کا جانشین کون ہوگا ؟ امام علیہ السلام نے سراٹھایا اور میرا ہاتھ پکڑ کر دبایا اور پھر مجھ سے ایسے صفات بیان کئے کہ میری زبان اس کے بیان سے قاصر ہے پھر اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا : اے یزید بن سلیط سنو اس سال مجھےگرفتار کیا جائےگا اور میرے بعد میرا بیٹا علی بن موسی الرضا تمہارے امام ہوں گے ۔
فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی توجہ پھر ایک نکتہ پر جاکر مرکوز ہوگئی اس وقت آپ نے فرمایا : میرے بیٹے رضا کو بشارت دو اور ان سے کہہ دو کہ عنقریب خداوندعالم انہیں ایک مورد اعتماد طیب و طاہر فرزند عطا کرے گا اس وقت میرا بیٹا تم سے سوال کرے گا کہ تم نے مجھے کہاں دیکھا ہے اس وقت تم ان سے کہنا کہ آپ کے بیٹے امام محمد تقی علیہ السلام کی مادر گرامی پیغمبر اسلام کی شریکہ حیات ماریہ قبطیہ کے خاندان کی ایک کنیز ہوگی اس کے بعد امام کاظم علیہ السلام میری طرف متوجہ ہوئے اور تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اگر ممکن ہو تو میرا سلام اس خاتون تک پہنچادینا ، اس طرح میں فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی شریکہ حیات اور حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی مادر گرامی سے باخبر ہوا اور بہت دنوں کے بعد سمجھا کہ " خیزران" پاک و پاکیزہ ، مہربان اور فضائل انسانی و اخلاقی سے مالا مال خاتون ہیں۔اور میں نے امام کاظم علیہ السلام کے سلام و پیام کی حقیقت و اہمیت کو درک کیا۔
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت کا وقت بہت ہی قریب تھا اس بارے میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی بہن جناب حکیمہ کہتی ہیں : میرے بھائی امام رضا نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اے میری پیاری بہن حکیمہ آج کی شب تم میرے گھر قیام کرو کیونکہ ایک بہت ضروری کام ہے میں نے ہامی بھر لی اور کہا کہ جیسا آپ حکم فرمائیں کچھ دیر کے بعد ایک دایہ بھی وہاں پہنچ گئی حضرت امام رضا علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا اے میری پیاری بہن ، دایہ کے ساتھ خیزران کے حجرے میں جائیے میں اپنی جگہ سے اٹھی میرے ساتھ میرے بھائی بھی اٹھے اور خیزران کے حجرے میں گئے امام علیہ السلام نے چراغ روشن کیا اور دروازہ بند کرکے باہر چلے گئے ۔
کچھ ہی دیر بعد جناب خیزران درد زہ سے بے چین ہوگئیں اور عین اسی وقت کمرے کا چراغ بجھ گیا میں بہت زیادہ غمزدہ ہوگئی لیکن میراغم بہت دیر تک باقی نہ رہا کیونکہ امام محمد تقی کے پیدا ہوتے ہی پورا حجرہ ان کے نور سے جگمگا اٹھا کچھ دیر بعد میرے بھائی امام رضا علیہ السلام حجرے میں تشریف لائے اور بچے کو لے کر گہوارے میں لٹا دیا پھر مجھ سے فرمایا : اے بہن اسی گہوارے کے پاس رہيئے۔
ابھی میرے بھتیجے کی ولادت کو تین دن سے زیادہ نہ گذرے تھے کہ میں نے مشاہدہ کیا کہ اس نے اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف کیا اور اپنے دائیں اور بائیں جانب نظر کی اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی اور خدا نہیں ہے اور محمد مصطفی اس کے رسول ہیں ۔میں حیران و پریشان تیزی کے ساتھ اپنے بھائی امام رضا علیہ السلام کے پاس گئی اور جو کچھ دیکھا اور سنا تھا میں نے ان سے نقل کیا میرے بھائی نے میرے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا: حکیمہ تعجب نہ کرو اس بچے کی زندگی کے حیرت انگیز واقعات اس سے بہت زيادہ ہیں جو تم بیان کررہی ہو۔
فرزند رسول حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت کو ابھی چند ہی روز گذرے تھے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے کچھ اصحاب امام رضا علیہ السلام کی زيارت کے لئے آئے ۔ اس وقت امام علیہ السلام اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ حضرت سے محو گفتگو تھے اور اپنی اپنی مشکلیں بیان کررہے تھے اور سوالات کررہے تھے اور امام علیہ السلام بڑے ہی اطمینان کے ساتھ لوگوں کو جواب دے رہے تھے جب آپ کے اصحاب کی گفتگو ختم ہوگئی تو امام علی رضا علیہ السلام نے جن کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : خداوندعالم نے مجھے ایک بیٹا عطاکیا ہے جو موسی بن عمران کی طرح دریا کے سینے کو چاک کرنے والا ہے اور اس کی ماں مریم کی طرح پاک و پاکیزہ اور نیک و پاکدامن ہے ۔
جی ہاں ، حضرت خیزران کا شمار ان خواتین میں ہوتا ہے جو اسلام اور اہل بیت علیہم السلام کی برکت سے فضل وشرف کی ایسی بلندی پر فائز ہوئیں کہ اپنے زمانے کی عورتوں میں سب سے افضل اور فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلا م کی شریکہ حیات قرار پائیں اور ان کی طیب و طاہر آغوش میں امام محمد تقی علیہ السلام نے پرورش پائی ۔ آپ تاریخ اسلام کی ایک عظیم خاتون تھیں حضرت امام رضا علیہ السلام کے فرمان کے مطابق وہ اخلاقی فضائل میں جناب مریم سے مشابہ تھیں ۔ جس وقت عباسی خلیفہ کے سپاہی امام رضا علیہ السلام کو مدینہ سے مرو لےگئے تو امام علیہ السلام اپنے ہمراہ اپنی مہربان زوجہ اور بیٹے کو ساتھ نہیں لے گئے اور وہ مدینہ میں ہی رہے بعض معتبر اقوال کی بنیاد پر جناب خیزران کی قبر مبارک آج بھی مدینے میں محبان اہل بیت کی زيارت گاہ ہے ۔
ماخذ:urdu.irib.ir
***
مدینہ میں امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کا گھر
جب آپ مدینہ منورہ زیارہ کے لئے مشرف ہوتے ہیں، ایک مقام کا مشاہدہ کرتے ہیں جو کنکریٹ کی دیواروں کے ذریعے محصور ہوچکا ہے اور اس کے دروازے پر تالا لگا دیا گیا ہے۔ یہ "مشرب ام ابراہیم" ہے جو اہل بیت علیہم السلام کا گھر ہے اور امام رضا علیہ السلام کی دادی اور والدہ (امام موسی کاظم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ اور زوجہ مطہرہ) کا مزار اقدس بھی یہيں ہے۔
ہم اس مناسبت سے مدینہ منورہ کے ایک محلے "مشربہ ام ابراہیم" کا تعارف کرانا چاہتے ہیں۔
مشربہ ام ابراہیم ایک مقام کا نام ہے جو شراع علی ابن ابی طالب علیہ السلام میں واقع ایک گلی میں واقع ہے؛ جب زائرین اس گلی کے پاس جاکر کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں سفید سیمنٹ سے بنی ایک چاردیواری نظر آتی ہے جس کے دروازے پر ایک تالا لگایا گیا ہے اور جن لوگوں نے تالا لگایا ہوا ہے وہ شاید سمجھ رہے ہیں کہ تالا لگا کر اس مقام کی تاریخی حیثیت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کو چھپایا جاسکتا ہے!
1
مشربہ ام ابراہیم در حقیقت مدینہ کا ایک چھوٹا سے باغ کا نام ہے جو قبا کے مشرق اور بنی قریظہ کے علاقے کے شمال میں واقع العوالی میں واقع ہوا تھا۔ رسول اللہ کے بیٹے ابراہیم (ع) کی والدہ ماجدہ ام المؤمنین حضرت ماریہ قبطیہ (س) کا گھر بھی یہیں تھا اور ابراہیم بن رسول اللہ (ص) یہیں متولد ہوئے تھے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم طویل مدت تک یہیں قیام پذیر رہے اور بہت زیادہ نمازیں پڑھ لیں۔ مشہور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وہاں پانی کے مٹکے رکھے تھے جن سے لوگ پانی پیا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے اس مقام کو مشربہ کہا گیا ہے اور اس کو مشربہ ام ابراہیم کہا گیا ہے کیونکہ ام ابراہیم ام المؤمنین ماریہ قبطیہ کی کنیت ہے۔ اسی مقام پر امام صادق علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ اور امام رضا علیہ السلام کی دادی حضرت حمیدہ خاتون (س)، امام موسی کاظم علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ اور امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت نجمہ خاتون (س) بھی یہيں مدفون ہیں اور امام صادق علیہ السلام نے اس مقام کی زيادت کی سفارش فرمائی ہے ۔
روایت میں ہے کہ عقبہ بن خالد نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: ہم مدینہ کے اطراف میں واقع مساجد کی زیارت کرتے ہیں کونسی مسجد سے شروع کریں تو بہتر ہوگا؟"۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
امام صادق(ع) فرمود: «اِبْدَأْ بِقُبَا فَصَلِّ فِیهِ وَأَکْثِرْ فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَسْجِد صَلَّی فِیهِ رَسُولُ اللَّهِ(ص) فِی هَذِهِ الْعَرْصَةِ ثُمَّ إئْتِ مَشْرَبَةَ أُمِّ إِبْرَاهِیمَ فَصَلِّ فِیهَا وَهِیَ مَسْکَنُ رَسُولِ اللَّهِ (ص) وَمُصَلاَّهُ"۔ (کافی 4/560)
ترجمہ: مسجد قبا سے آغاز کرو اور وہاں زيادہ نماز پڑھو کیونکہ یہ اس علاقے کی پہلی مسجد ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد مشربۂ ام ابراہیم چلے جاؤ اور وہاں نماز پڑھو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مسکن اور مصلّی' (نماز پڑھنے کا مقام) ہے۔
2
اب اس زمانے میں اس مقام کی صورت حال رسول اللہ اور آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ہونے والے نہایت وہابیانہ طرز سلوک کی گواہی دیتی ہے۔ آل سعود نے اس مقدس مقام کے دروازے کو مقفل کردیا ہے لیکن وہ شاید نہیں جانتے کہ زائرین رسول اور آل رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عاشقوں کے عشق کو تالوں سے ختم نہیں کیا جاسکتا؛ یہ وہابیانہ اقدام رسول و آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے لوگوں کی محبت میں اضافہ کر دیتا ہے اور حتی کہ وہ لوگ بھی جو اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نہیں جانتے، جب دیکھتے ہیں کہ ایک مقدس مقام پر تالے لگے ہوئے ہیں تو وہ بھی سوچ میں پڑجاتے ہیں اور جب سمجھ لیتے ہیں اس مقام کا تعلق کن سے ہے وہ بھی اہل بیت علیہم السلام کے عاشق ہوجاتے ہیں۔
روایات کے مطابق حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور حضرت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا پہلا گھر یہی تھا اور ان دو عظیم ہستیوں نے بھی اپنی معنوی اور خیر و برکت سے بھرپور زندگی یہيں سے شروع کی تھی۔ تا ہم مشربہ ام ابراہیم میں دوسرے تاریخی واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ ساتویں امام اور نویں معصوم حضرت امام موسی الکاظم علیہ السلام کی ولادت یہیں ہوئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصال کے بعد اہل بیت علیہم السلام کے پاس رہا اور یہ خود اس جعلی حدیث کی نفی بھی ہے کہ "ہم انبیاء ترکہ نہیں چھوڑا کرتے اور ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے!"۔
ماخذ: ابنا
تاریخ اسلام اور اہل بیت پیغمبر علیہم السلام کے زمانے کی ایک معتبر اور عظیم المثال خاتون جناب " تکتم " ہیں جو مصر کے جنوبی علاقے کی رہنے والی تھی اور جب یہ ذی شرف خاتون، فرزند رسول حضرت امام موسی بن جعفر علیہ السلام کے گھر میں آئیں تو امام علیہ السلام نے ان کا نام " نجمہ " رکھ دیا آپ عقل و دین اور حیا وعفت میں اپنے زمانے کی تمام عورتوں سے افضل و اکمل تھیں تاریخ کی معتبر کتابوں میں ان کے القاب ام البنین اور طاہرہ تحریر ہیں غالبا یہ ایسے القابات ہیں جو انہیں مختلف مواقع پر دیئے گئے ہیں آپ دوسری صدی ہجری کے وسط میں مدینہ تشریف لائیں اور اس وقت حضرت امام موسی بن جعفر علیہ السلام کی عمر مبارک چوبیس برس تھی فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شریک حیات جناب حمیدہ خاتون نے نجمہ کو خریدا اور انہیں اپنے گھر لے گئیں آپ حمیدہ خاتون کا بہت زيادہ احترام کرتی تھیں اور ان کی عظمت و جلالت کی وجہ سے ان کے پاس نہیں بیٹھتی تھیں ۔
جناب نجمہ مومنہ ، متقی و پرہیزگار اور نجیب و پارسا خاتون تھیں ایک دن جناب حمیدہ خاتون نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ فرمارہے ہیں: اے حمیدہ ، نجمہ کی شادی اپنے بیٹے موسی سے کردو کیونکہ ان کے بطن مبارک سے ایک ایسا بچہ پیدا ہوگا جو روئے زمین کی سب سے بہترین فرد ہوگی۔
اس بشارت کے فورا بعد ہی حمیدہ خاتون نے نجمہ کی شادی اپنے فرزند امام موسی کاظم علیہ السلام سے کردی اور فرمایا : اے میرے لال ، نجمہ، ایک ایسی خاتون ہیں کہ ان سے پہلے میں نے کسی کو بھی اس سے بہتر نہیں دیکھا تھا کیونکہ یہ عقل و دانش اور اخلاق میں بے نظیر ہیں میں انہیں تمہیں عطا کررہی ہوں دیکھو تم بھی ان کے ساتھ نیکی سے پیش آنا ۔ بالآخر اس مبارک و مسعود شادی کے نتیجے میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت با سعادت ہوئی ۔
چوتھی صدی ہجری کے مشہور محدث و مورخ جناب شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی مادر گرامی جناب نجمہ خاتون سے روایت نقل کی ہے آپ فرماتی ہیں : جب مجھ میں آثار حمل نمایاں ہوئے تو مجھے کوئی بھی مشکل پیش نہیں آئی اور جب میں سوجاتی تھی تو تسبیح و تہلیل لاالہ الا اللہ اور حمد خدا کی آوازيں اپنے شکم مبارک سے سنتی تھی لیکن جب بیدار ہوتی تھی تو یہ آوازیں نہیں آتی تھی اور جب یہ سعادتمند بیٹا پیدا ہوا تو اس نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر رکھا اور اپنے سر کو آسمان کی طرف بلند کیا اس کے لب جنبش کررہے تھے اور وہ باتیں کررہے تھے کہ میں نہیں سمجھ پارہی تھی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت سعادت کے بعد جناب نجمہ "طاہرہ" کے لقب سے ملقب ہوئیں یہ عظیم المرتبت خاتون حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت کے بعد آپ ان کی تربیت کرکے اپنی عظمت و رفعت میں بہت زيادہ بلند ہوگئیں ۔
جناب نجمہ خاتون بہت بڑی عبادت گذار اور زاہدہ خاتون تھیں اور اپنے عزيز فرزند کی تربیت کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے خداکی عبادت و راز و نیاز بھی جاری رکھی ۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی مادر گرامی جناب نجمہ خاتون کی قبر مطہر مدینہ منورہ میں مرجع خلائق ہے ۔
اسلامی تاریخ کی ایک اور نامور خاتون حضرت امام رضا علیہ السلام کی شریکہ حیات خیزران ہیں ان کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشن گوئی کی تھی ۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ ایسا کلام کرتے تھے جس میں عظیم حکمت اور دقیق معنی و مفاہیم پوشیدہ ہوتے تھے ایک دن آپ نے اپنے بعض اصحاب کے درمیان فرمایا: میرے باپ کنیزوں کے سب سے بہترین فرزند پر قربان ، نوبہ کے علاقے اور ماریہ قبطیہ کی قوم کی ایک کنیز ،جو پاک و پاکیزہ اور نیک سیرت خاتون ہے ۔
صحابیوں کے جھرمٹ میں سے کسی ایک نے اپنے دوسرے دوست سے پوچھا رسول خدا کی شریکہ حیات کس قوم سے ہیں؟ اس نے سر سے اشارہ کرکے ہامی بھری اور کہا ہاں اے میرے بھائی ، اس نے دوبارہ سوال کیا کہ بتاؤ اس صفت کا حامل کون ہے ؟ اس کے دوست نے جواب دیا شاید یہ اشارہ کسی خاص شخص کے لئے انجام دیا گیا ہے بتاؤ کہ یہ عظیم خاتون کون ہے ؟ دونوں نے آپس میں کہا کہ چلو پیغمبر اسلام سے دریافت کرتے ہیں۔ شاید ان دنوں کسی کو نہیں معلوم تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشنگوئی آپ کے فرزند، عالم تشیع کے آٹھویں رہبر و پیشوا کی شریکہ حیات کے بارے میں ہوگی جو برسہا برس بعد رونما ہوگا اور اپنے زمانے کی عورتوں سے افضل و با فضیلت اور باکمال خاتون "خیزران" یا "سبیکہ" کی شادی بوستان محمدی کے آٹھویں تاجدار حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے ہوگی اور کچھ دنوں کے بعد ان کی زندگی گلدستہ امامت کے نویں پھول حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت با سعادت سے معطر ہوگی ۔
میں فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کا ایک شاگرد یزید بن سلیط ہوں ایک بار میں سفر میں تھا کہ مکہ و مدینہ کے راستے میں حضرت کی زيارت سے مشرف ہوا احوال پرسی کے بعد میں نے امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا اے مولا مدتوں سے میرے دل میں ایک سوال ہے جس نے میرے قلب و دماغ کو مشغول کررکھا ہے امام علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا : اے یزيد بن سلیط ، کس چیز نے تمہارے دل کو مصروف کردیا ہے ۔
میں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ یہ جان لوں کہ آپ کے بعد آپ کا جانشین کون ہوگا ؟ امام علیہ السلام نے سراٹھایا اور میرا ہاتھ پکڑ کر دبایا اور پھر مجھ سے ایسے صفات بیان کئے کہ میری زبان اس کے بیان سے قاصر ہے پھر اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا : اے یزید بن سلیط سنو اس سال مجھےگرفتار کیا جائےگا اور میرے بعد میرا بیٹا علی بن موسی الرضا تمہارے امام ہوں گے ۔
فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی توجہ پھر ایک نکتہ پر جاکر مرکوز ہوگئی اس وقت آپ نے فرمایا : میرے بیٹے رضا کو بشارت دو اور ان سے کہہ دو کہ عنقریب خداوندعالم انہیں ایک مورد اعتماد طیب و طاہر فرزند عطا کرے گا اس وقت میرا بیٹا تم سے سوال کرے گا کہ تم نے مجھے کہاں دیکھا ہے اس وقت تم ان سے کہنا کہ آپ کے بیٹے امام محمد تقی علیہ السلام کی مادر گرامی پیغمبر اسلام کی شریکہ حیات ماریہ قبطیہ کے خاندان کی ایک کنیز ہوگی اس کے بعد امام کاظم علیہ السلام میری طرف متوجہ ہوئے اور تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اگر ممکن ہو تو میرا سلام اس خاتون تک پہنچادینا ، اس طرح میں فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی شریکہ حیات اور حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی مادر گرامی سے باخبر ہوا اور بہت دنوں کے بعد سمجھا کہ " خیزران" پاک و پاکیزہ ، مہربان اور فضائل انسانی و اخلاقی سے مالا مال خاتون ہیں۔اور میں نے امام کاظم علیہ السلام کے سلام و پیام کی حقیقت و اہمیت کو درک کیا۔
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت کا وقت بہت ہی قریب تھا اس بارے میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی بہن جناب حکیمہ کہتی ہیں : میرے بھائی امام رضا نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اے میری پیاری بہن حکیمہ آج کی شب تم میرے گھر قیام کرو کیونکہ ایک بہت ضروری کام ہے میں نے ہامی بھر لی اور کہا کہ جیسا آپ حکم فرمائیں کچھ دیر کے بعد ایک دایہ بھی وہاں پہنچ گئی حضرت امام رضا علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا اے میری پیاری بہن ، دایہ کے ساتھ خیزران کے حجرے میں جائیے میں اپنی جگہ سے اٹھی میرے ساتھ میرے بھائی بھی اٹھے اور خیزران کے حجرے میں گئے امام علیہ السلام نے چراغ روشن کیا اور دروازہ بند کرکے باہر چلے گئے ۔
کچھ ہی دیر بعد جناب خیزران درد زہ سے بے چین ہوگئیں اور عین اسی وقت کمرے کا چراغ بجھ گیا میں بہت زیادہ غمزدہ ہوگئی لیکن میراغم بہت دیر تک باقی نہ رہا کیونکہ امام محمد تقی کے پیدا ہوتے ہی پورا حجرہ ان کے نور سے جگمگا اٹھا کچھ دیر بعد میرے بھائی امام رضا علیہ السلام حجرے میں تشریف لائے اور بچے کو لے کر گہوارے میں لٹا دیا پھر مجھ سے فرمایا : اے بہن اسی گہوارے کے پاس رہيئے۔
ابھی میرے بھتیجے کی ولادت کو تین دن سے زیادہ نہ گذرے تھے کہ میں نے مشاہدہ کیا کہ اس نے اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف کیا اور اپنے دائیں اور بائیں جانب نظر کی اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی اور خدا نہیں ہے اور محمد مصطفی اس کے رسول ہیں ۔میں حیران و پریشان تیزی کے ساتھ اپنے بھائی امام رضا علیہ السلام کے پاس گئی اور جو کچھ دیکھا اور سنا تھا میں نے ان سے نقل کیا میرے بھائی نے میرے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا: حکیمہ تعجب نہ کرو اس بچے کی زندگی کے حیرت انگیز واقعات اس سے بہت زيادہ ہیں جو تم بیان کررہی ہو۔
فرزند رسول حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت کو ابھی چند ہی روز گذرے تھے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے کچھ اصحاب امام رضا علیہ السلام کی زيارت کے لئے آئے ۔ اس وقت امام علیہ السلام اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ حضرت سے محو گفتگو تھے اور اپنی اپنی مشکلیں بیان کررہے تھے اور سوالات کررہے تھے اور امام علیہ السلام بڑے ہی اطمینان کے ساتھ لوگوں کو جواب دے رہے تھے جب آپ کے اصحاب کی گفتگو ختم ہوگئی تو امام علی رضا علیہ السلام نے جن کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : خداوندعالم نے مجھے ایک بیٹا عطاکیا ہے جو موسی بن عمران کی طرح دریا کے سینے کو چاک کرنے والا ہے اور اس کی ماں مریم کی طرح پاک و پاکیزہ اور نیک و پاکدامن ہے ۔
جی ہاں ، حضرت خیزران کا شمار ان خواتین میں ہوتا ہے جو اسلام اور اہل بیت علیہم السلام کی برکت سے فضل وشرف کی ایسی بلندی پر فائز ہوئیں کہ اپنے زمانے کی عورتوں میں سب سے افضل اور فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلا م کی شریکہ حیات قرار پائیں اور ان کی طیب و طاہر آغوش میں امام محمد تقی علیہ السلام نے پرورش پائی ۔ آپ تاریخ اسلام کی ایک عظیم خاتون تھیں حضرت امام رضا علیہ السلام کے فرمان کے مطابق وہ اخلاقی فضائل میں جناب مریم سے مشابہ تھیں ۔ جس وقت عباسی خلیفہ کے سپاہی امام رضا علیہ السلام کو مدینہ سے مرو لےگئے تو امام علیہ السلام اپنے ہمراہ اپنی مہربان زوجہ اور بیٹے کو ساتھ نہیں لے گئے اور وہ مدینہ میں ہی رہے بعض معتبر اقوال کی بنیاد پر جناب خیزران کی قبر مبارک آج بھی مدینے میں محبان اہل بیت کی زيارت گاہ ہے ۔
ماخذ:urdu.irib.ir
***
مدینہ میں امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کا گھر
جب آپ مدینہ منورہ زیارہ کے لئے مشرف ہوتے ہیں، ایک مقام کا مشاہدہ کرتے ہیں جو کنکریٹ کی دیواروں کے ذریعے محصور ہوچکا ہے اور اس کے دروازے پر تالا لگا دیا گیا ہے۔ یہ "مشرب ام ابراہیم" ہے جو اہل بیت علیہم السلام کا گھر ہے اور امام رضا علیہ السلام کی دادی اور والدہ (امام موسی کاظم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ اور زوجہ مطہرہ) کا مزار اقدس بھی یہيں ہے۔
ہم اس مناسبت سے مدینہ منورہ کے ایک محلے "مشربہ ام ابراہیم" کا تعارف کرانا چاہتے ہیں۔
مشربہ ام ابراہیم ایک مقام کا نام ہے جو شراع علی ابن ابی طالب علیہ السلام میں واقع ایک گلی میں واقع ہے؛ جب زائرین اس گلی کے پاس جاکر کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں سفید سیمنٹ سے بنی ایک چاردیواری نظر آتی ہے جس کے دروازے پر ایک تالا لگایا گیا ہے اور جن لوگوں نے تالا لگایا ہوا ہے وہ شاید سمجھ رہے ہیں کہ تالا لگا کر اس مقام کی تاریخی حیثیت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کو چھپایا جاسکتا ہے!
1
مشربہ ام ابراہیم در حقیقت مدینہ کا ایک چھوٹا سے باغ کا نام ہے جو قبا کے مشرق اور بنی قریظہ کے علاقے کے شمال میں واقع العوالی میں واقع ہوا تھا۔ رسول اللہ کے بیٹے ابراہیم (ع) کی والدہ ماجدہ ام المؤمنین حضرت ماریہ قبطیہ (س) کا گھر بھی یہیں تھا اور ابراہیم بن رسول اللہ (ص) یہیں متولد ہوئے تھے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم طویل مدت تک یہیں قیام پذیر رہے اور بہت زیادہ نمازیں پڑھ لیں۔ مشہور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وہاں پانی کے مٹکے رکھے تھے جن سے لوگ پانی پیا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے اس مقام کو مشربہ کہا گیا ہے اور اس کو مشربہ ام ابراہیم کہا گیا ہے کیونکہ ام ابراہیم ام المؤمنین ماریہ قبطیہ کی کنیت ہے۔ اسی مقام پر امام صادق علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ اور امام رضا علیہ السلام کی دادی حضرت حمیدہ خاتون (س)، امام موسی کاظم علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ اور امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت نجمہ خاتون (س) بھی یہيں مدفون ہیں اور امام صادق علیہ السلام نے اس مقام کی زيادت کی سفارش فرمائی ہے ۔
روایت میں ہے کہ عقبہ بن خالد نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: ہم مدینہ کے اطراف میں واقع مساجد کی زیارت کرتے ہیں کونسی مسجد سے شروع کریں تو بہتر ہوگا؟"۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
امام صادق(ع) فرمود: «اِبْدَأْ بِقُبَا فَصَلِّ فِیهِ وَأَکْثِرْ فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَسْجِد صَلَّی فِیهِ رَسُولُ اللَّهِ(ص) فِی هَذِهِ الْعَرْصَةِ ثُمَّ إئْتِ مَشْرَبَةَ أُمِّ إِبْرَاهِیمَ فَصَلِّ فِیهَا وَهِیَ مَسْکَنُ رَسُولِ اللَّهِ (ص) وَمُصَلاَّهُ"۔ (کافی 4/560)
ترجمہ: مسجد قبا سے آغاز کرو اور وہاں زيادہ نماز پڑھو کیونکہ یہ اس علاقے کی پہلی مسجد ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد مشربۂ ام ابراہیم چلے جاؤ اور وہاں نماز پڑھو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مسکن اور مصلّی' (نماز پڑھنے کا مقام) ہے۔
2
اب اس زمانے میں اس مقام کی صورت حال رسول اللہ اور آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ہونے والے نہایت وہابیانہ طرز سلوک کی گواہی دیتی ہے۔ آل سعود نے اس مقدس مقام کے دروازے کو مقفل کردیا ہے لیکن وہ شاید نہیں جانتے کہ زائرین رسول اور آل رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عاشقوں کے عشق کو تالوں سے ختم نہیں کیا جاسکتا؛ یہ وہابیانہ اقدام رسول و آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے لوگوں کی محبت میں اضافہ کر دیتا ہے اور حتی کہ وہ لوگ بھی جو اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نہیں جانتے، جب دیکھتے ہیں کہ ایک مقدس مقام پر تالے لگے ہوئے ہیں تو وہ بھی سوچ میں پڑجاتے ہیں اور جب سمجھ لیتے ہیں اس مقام کا تعلق کن سے ہے وہ بھی اہل بیت علیہم السلام کے عاشق ہوجاتے ہیں۔
روایات کے مطابق حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور حضرت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا پہلا گھر یہی تھا اور ان دو عظیم ہستیوں نے بھی اپنی معنوی اور خیر و برکت سے بھرپور زندگی یہيں سے شروع کی تھی۔ تا ہم مشربہ ام ابراہیم میں دوسرے تاریخی واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ ساتویں امام اور نویں معصوم حضرت امام موسی الکاظم علیہ السلام کی ولادت یہیں ہوئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصال کے بعد اہل بیت علیہم السلام کے پاس رہا اور یہ خود اس جعلی حدیث کی نفی بھی ہے کہ "ہم انبیاء ترکہ نہیں چھوڑا کرتے اور ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے!"۔
ماخذ: ابنا