Wednesday, August 5, 2015

Home


ام المؤمنین کی اصطلاح کس طرح پیدا ھوئی؟
"ام المومنین" یعنی مومنوں کی ماں، یہ اصطلاح آیہ شریفہ "اُولویت" ،" بیشک نبی تمام مومنین سے ان کے نفس کی بہ نسبت زیاده اولی ہے اور ان کی بیویاں ان سب کی مائیں ہین اور مؤمنین و مہاجرین میں سے قرابتدار ایک دوسرے سے زیاده اولویت اور قربت رکہتے ہیں"[1] کے نازل ہونے کے ساتہه حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے بارے میں مومنوں کے درمیان رائج ہوئی۔ خدائے متعال اس آیہ شریفہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات کو مؤمنوں کی ماؤں کی منزلت پر جانتا ہے، (البتہ روحانی اور معنوی مائیں)۔ جس طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امت کے معنوی اور روحانی باپ ہیں۔
۲۔ یہ حکم (کہ ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں ہیں) ایک شرعی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مخصوص ہے۔ [2] جس طرح سوره احزاب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج کی دوسری عورتوں کے ساتہه برابری کی نفی کی گئی ہے" اے زنان پیغمبر تم اگر تقوی اختیار کرو تو تمہارا مرتبہ کسی عام عورت جیسا نہیں ہے ، لہذا کسی آدمی سے لگی لپتی بات نہ کرنا کہ جس کے دل میں بیماری ہو اسے لالچ پیدا ہوجائے اور ہمیشہ نیک باتیں کیا کرو" [3]
۳۔ پیغمبر کی ازواج مطہرات کی ماؤں کے ساتہه تشبیہ ، صرف ماں کے بعض اثرات کے ساتہه تشبیہ ہے، نہ کہ سب کے ساتہه۔ یعنی ماں کے اپنے فرزندوں پر حقوق ہوتے ہیں، اور ان کے درمیان دو طرفہ احکام ہوتے ہیں، جو سب اس مسئلہ میں لاگو نہیں ہیں۔ یہاں پر صرف دو حکم : الف:"ان کے احترام کا واجب ہونا اور انکی حرمت رکہنا۔ ب : ان کے ساتہه شادی کرنا حرام ہے"   شامل ہیں۔ کیوں کہ ماں میں ان دو احکام کے علاوه دوسرے اثرات بہی پائے جاتے ہیں ، جیسے وه اپنے فرزند سے میراث لیتی ہے اور اس کے فرزند اس سے میراث لیتے ہیں۔ اس کے چہرے پر نظر کرنا جایز ہے ان کی لڑکیوں کے ساتہه جو دوسرے شوہر سے ہوں شادی نہیں کی جاسکتی وغیروغیره۔
لیکن پیغمبر اکرم (ص) کی ازواج مطہرات کے لئے ان دو حکم کے علاوه ( احترام کا واجب ہونا ، اور شادی کا حرام ہونا [4]) دوسرے احکام جاری نہیں ہیں ۔ پس ازواج مطہرات کی ماؤں کے ساتہه تشبیہ دینے کے حکم کا اثر دو مسئلوں میں ہی ہے اور وه دو حکم : (الف) احترام کا واجب ہونا۔ (ب ) شادی کا حرام ہونا ، ہیں۔
۴۔ یہ حکم :
اولا: ازواج مطہرات کا احترام کرنے کیلئے ہے ، کیون کہ ازواج مطہرات رسول اکرم صلی اللہ عیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہونے سے کی وجه سے مسلمانوں کے درمیان خاص احترام کی حامل ہیں، اور یہ قدرتی بات ہے کہ دوسری عورتوں کے ساتہه ان کا فرق ہے جس کو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔[5]
ثانیا: ان کا احترام کرنا پیغمبر کے احترام کرنے کے برابر ہے۔ جیسا که آیت کی شان نزول سے پتا چلتا ہے کہ بعض مخالفوں نے انتقام لینے کی غرض سے اور رسول اکرم کی ذات مقدس کی توہین کرنے کی غرض سے رسول کی رحلت کے بعد ان کی ازواج مطہرات سے شادی کرنے کا قصد کیا تہا۔
ثالثا: اندرونی دشمنوں کی بعض سازشوں اور ان سے غلط فائده اٹہانے کو روکنا۔ ان اندرونی دشمنوں کی غرض یہ تہی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد ان کی ازواج کے ساتہه شادی کرکے اپنے پست سیاسی مقاصد تک پہنچا جائے تہے۔ استاد مطہری ، کے مطابق ، دوسرے لوگوں سے ازواج مطہرات کی شادی حرام کہونے کا راز یہ تہا کہ ان کے بعد میں ہونے والے شوہر ازواج مطہرات کے احترام اور شہرت سے غلط فائده اٹہاتے اور بعض خود خواه عناصر سیاسی اور سماجی مسائل میں ان عورتوں کو  اپنا آلہ کار بناتے۔ [6]
[1] " النبی اولی بالمومنین من انفسہم و ازواجہ امہاتہم ۔۔۔" سوره احزاب / ۶۔
[2]  طباطبائی ، محمد حسین ، المیزان ، ( ترجمہ فارسی) ج ۱۶، ص ۴۱۴۔
[3]  " یا نساء النبی لستن کاحد من النساء ۔۔۔" سوره احزاب / ۳۲۔
[4]  تفسیر نمونہ ، ج ۱۷، ص ۲۰۷ ۔ ۲۰۵۔
[5]  سوره احزاب / ۳۲۔
[6] مطہری ، مرتضی ، مجموعہ آثار ، ج ۱۹ ، ص ۴۳۱ ، اس سلسلے میں مزید معلومات کیلئے تفسیر المیزان ، ج ۱۶ ، آیات ۱۔۔ ۵۴ سوره احزاب ، اور تفسیر نمونہ ج ۱۷ ، آیات ۱ ۔۔ ۵۴ ص ۴۰۶ اور ۴۰۵ کی جانب رجوع کریں۔

No comments:

Post a Comment