Wednesday, August 5, 2015

Home

حضرت علی(ع) کے متعلق قرآن کریم کی آیتیں,Home

  • حضرت علی(ع) کے متعلق قرآن کریم کی آیتیں

حضرت علی(ع) کے متعلق قرآن کریم میں متعدد آیات نا زل ھو ئی ھیں ، قرآن نے رسول اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے بعد آپ(ع) کواسلام کی سب سے بڑی شخصیت کے عنوان سے پیش کیا ھے ،اللہ کی نگاہ میں آپ(ع) کی بڑی فضیلت اوربہت اھمیت ھے ۔متعدد منابع و مصادر کے مطابق آپ(ع) کی شان میں تین سو آیات نازل ھوئی ھیں[1] جو آپ(ع) کے فضل و ایمان کی محکم دلیل ھے۔
یہ بات شایان ذکر ھے کہ کسی بھی اسلا می شخصیت کے سلسلہ میں اتنی آیات نازل نھیں ھوئیں آپ کی شان میں نازل ھونے والی آیات کی مندرجہ ذیل قسمیں ھیں :
۱۔وہ آیات جو خاص طور سے آپ کی شان میں نازل ھوئی ھیں ۔
۲۔وہ آیات جو آپ(ع) اور آپ(ع) کے اھل بیت(ع)کی شان میں نازل ھو ئی ھیں ۔
۳۔وہ آیات جو آپ(ع) اور نیک صحابہ کی شان میں نازل ھو ئی ھیں ۔
۴۔وہ آیات جو آپ(ع) کی شان اور آپ(ع) کے دشمنوں کی مذمت میں نازل ھو ئی ھیں ۔
ھم ذیل میں ان میں سے کچھ آیات نقل کر رھے ھیں :
آپ(ع) کی شان میں نازل ھونے والی آیات
آپ(ع)کی فضیلت اورعظیم الشان منزلت کے بارے میں جوآیات نازل ھوئی ھیں ھم ان میں سے ذیل میں بعض آیات پیش کرتے ھیں :
۱۔اللہ کا ارشاد ھے :”انماانت منذرولکل قوم ھاد“۔[2]
”آپ کہہ دیجئے کہ میں صرف ڈرانے والا ھوں اور ھر قوم کے لئے ایک ھادی اور رھبر ھے “۔
طبری نے ابن عباس سے نقل کیا ھے کہ جب یہ آیت نازل ھو ئی تو نبی نے اپنا دست مبارک اپنے سینہ پر رکھ کر فرمایا:”اناالمنذرولکل قوم ھاد “،اور آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے علی(ع) کے کندھے کی طرف اشارہ کرتے ھوئے فرمایا:”انت الھادي بک یھتدي المھتدون بعدي“۔[3]
”آپ ھا دی ھیں اور میرے بعد ھدایت پانے والے تجھ سے ھدایت پا ئیں گے “۔
۲۔خداوند عالم کا فرمان ھے :”وتعیھااذن واعیة“۔[4]
”تاکہ اسے تمھارے لئے نصیحت بنائیںاور محفوظ رکھنے والے کان سُن لیں“۔
امیر المو منین حضرت علی(ع) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ھیں کہ مجھ سے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اسلام نے فرمایا:
”سالتُ رَبِّیْ اَن یَجْعَلَھَااذُنُکَ یاعلیُّ،فماسمعتُ مِنْ رسُولِ اللّٰہِ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) شَیْئاًفنَسِیْتُہُ “۔[5]
”میں نے پروردگار عالم سے دعا کی کہ وہ کان تمھارا ھے لہٰذا میں نے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے جو کچھ سنا ھے اسے کبھی نھیں بھولا“۔
۳۔خداوند عالم کا فرمان ھے :<الَّذِینَ یُنفِقُونَ اٴَمْوَالَہُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَار ِسِرًّا وَعَلاَنِیَةً اسباب النزول ِ واحدی، صفحہ ۳۲۹۔تفسیر طبری، جلد ۲۹،صفحہ ۳۵۔تفسیر کشاف، جلد ۴، صفحہ ۶۰۔در منثور ،جلد ۸،صفحہ ۲۶۷۔ فَلَہُمْ اٴَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلاَخَوْفٌعَلَیْہِمْ وَلاَہُمْ یَحْزَنُونَ>۔[6]
”جو لوگ اپنے اموال کو راہ خدا میں رات میں ،دن میں خا مو شی سے اور علی الاعلان خرچ کرتے ھیں اُن کے لئے پیش پروردگار اجر بھی ھے اور انھیں نہ کو ئی خوف ھو گا اور نہ حزن و ملال “۔
امام(ع) کے پاس چار درھم تھے جن میں سے آپ(ع) نے ایک درھم رات میں خرچ کیا ،ایک درھم دن میں ،ایک درھم مخفی طور پر اور ایک درھم علی الاعلان خرچ کیا ۔تو رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے آپ(ع) سے فرمایا : آپ(ع) نے ایساکیوں کیا ھے ؟مولائے کا ئنات نے جواب دیا:میں وعدہ پروردگار کامستحق بنناچاہتا ھوں اسی لئے میں نے ایسا کیا “اس وقت یہ آیت نازل ھو ئی۔[7]
۴۔خدا وند عالم کا ارشاد ھے :<إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلَئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ >۔[8]
”اور بیشک جو لوگ ایمان لائے ھیںاور انھوں نے نیک اعمال کئے ھیںوہ بہترین خلائق ھیں “۔
ابن عساکر نے جابر بن عبد اللہ سے روایت کی ھے : ھم نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خدمت میں حاضر تھے کہ علی(ع) وھاں پر تشریف لائے تو رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:”وِالَّذِیْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ اِنَّ ھٰذَا وَشِیْعَتَہُ ھُمُ الْفَائِزُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ “۔”خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ھے بیشک یہ اور ان کے شیعہ قیامت کے دن کامیاب ھیں “۔
اسی موقع پر یہ آیہ کریمہ نازل ھو ئی ،اس کے بعد سے جب بھی مو لائے کا ئنات اصحاب کے پاس آتے تھے تو نبی کے یہ اصحاب کھا کرتے تھے :خیر البریہ آئے ھیں۔[9]
۵۔خداوند عالم کا فرمان ھے :< فَاسْاٴَلُوا اٴَہْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ >۔[10]
”اگر تم نھیں جانتے ھو تو جاننے والوں سے دریافت کرو“۔
طبری نے جابر جعفی سے نقل کیا ھے :جب یہ آیت نازل ھو ئی تو حضرت علی(ع) نے فرمایا :”ھم اھل ذکر ھیں “۔[11]
۶۔خداوند عالم کا فرمان ھے :< یَااٴَیُّہَاالرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَابَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ إِنَّ اللهَ لاَیَہْدِي الْقَوْمَ الْکَافِرِین>۔[12]
”اے پیغمبر! آپ اس حکم کو پھنچا دیں جوآپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ھے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گو یا اس کے پیغام کو نھیں پھنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا بیشک اللہ کافروں کی ھدایت نھیں کرتا ھے“۔
جب رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) حجة الوداع سے واپس تشریف لا رھے تھے تو غدیر خم کے میدان میں یہ آیت اس وقت نازل ھوئی جب آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو اپنے بعد حضرت علی(ع) کواپنا جانشین معین کرنے کا حکم دیا گیا اس وقت رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے حضرت علی(ع) کو اپنے بعد اس امت کا خلیفہ و جا نشین معین فرمایااور آپ(ع) نے اپنا مشھور قول ارشاد فرمایا :”من کنت مولاہ فعلی مولاہ ،اللّھم وال من والاہ،وعادِمَن عاداہ، وانصرمَن نصرہ،واخذُلْ مَنْ خَذَلَہُ“۔
” جس کا میں مو لا ھوں اس کے یہ علی بھی مو لا ھیںخدا یا جو اسے دو ست رکھے تو اسے دوست رکھ اورجو اس سے دشمنی کرے اسے دشمن رکھ اور جو اس کی مدد کرے اس کی مدد کر جو اسے چھوڑ دے اسے ذلیل و رسوا کر “ ۔
عمر نے کھڑے ھو کر کھا :مبارک ھو اے علی بن ابی طالب آپ(ع) آج میرے اورھر مومن اور مومنہ کے مولا ھوگئے ھیں ‘ ‘۔[13]
۷۔خداوند عالم کا ارشاد ھے :< الْیَوْمَ اٴَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَاٴَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِي وَ رَضِیتُ لَکُمْ الْإِسْلاَمَ دِینًا>۔[14]
”آج میں نے تمھارے لئے دین کو کا مل کردیاھے اوراپنی نعمتوںکو تمام کردیاھے اورتمھارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنا دیا ھے“۔
یہ آیت ۱۸ ذی الحجہ ۱۰ سن ھ کواس وقت نازل ھو ئی جب رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اپنے بعد کےلئے حضرت علی(ع) کو خلیفہ معین فرمایااور آنحضرت نے اس آیت کے نازل ھونے کے بعد فرمایا : ”اللّٰہ اکبر علیٰ اِکمالِ الدِّین،وَاِتْمَامِ النِّعْمَةِ،ورضِیَ الرَّبِّ بِرِسَالَتِي وَالْوِلایَةِ لِعَلِيْبنِ اَبِیْ طَالِب“۔[15]
”اللہ سب سے بڑا ھے دین کا مل ھو گیا ،نعمتیں تمام ھو گئیں ،اور پروردگار میری رسالت اور علی بن ابی طالب(ع) کی ولایت سے راضی ھو گیا “۔
جلیل القدر صحابی جناب ابوذر سے روایت ھے :میں رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) خدا کے ساتھ مسجد میں نمازظھر پڑھ رھا تھا تو ایک سائل نے مسجد میں آکر سوال کیا لیکن کسی نے اس کو کچھ نھیں دیا تو سائل نے آسمان کی طرف ھاتھ اٹھا کر کھا :خدا یا گواہ رھنا کہ میں نے مسجد رسول میں آکر سوال کیا لیکن مجھے کسی نے کچھ نھیں دیا ، حضرت علی(ع) نے رکوع کی حالت میں اپنے داھنے ھاتھ کی انگلی سے انگوٹھی اتارنے کا اشارہ کیاسائل نے آگے بڑھ کر نبی(ع) کے سامنے ھاتھ سے انگوٹھی نکال لی ،اس وقت رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اسلام نے فرمایا :خدایا !میرے بھا ئی مو سیٰ(ع) نے تجھ سے یوں سوال کیا : <رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۔وَیَسِّرْلي اٴَمْرِي۔وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِی۔یَفْقَہُوا قَوْلِي وَاجْعَلْ لِي وَزِیرًامِنْ اٴَہْلِي ہَارُونَ اٴَخي اشْدُدْ بِہِ اٴَزْرِي۔وَاٴَشْرِکْہُ فِي اٴَمْرِی >۔[16]
”خدایا ! میرے سینہ کو کشادہ کردے ،میرے کام کو آسان کردے ، اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات سمجھ سکیں ،اورمیرے اھل میںسے میرا وزیر قرار دے ،ھارون کو جو میرا بھا ئی بھی ھے اس سے میری پشت کو مضبوط کردے اسے میرے کام میں شریک کردے “تونے قرآن ناطق میں نازل کیا :< سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِاٴَخِیکَ وَنَجْعَلُ لَکُمَا سُلْطَانًا>۔[17]
” ھم تمھارے بازؤوں کو تمھارے بھا ئی سے مضبوط کر دیں گے ،اور تمھارے لئے ایسا غلبہ قراردیں گے کہ یہ لوگ تم تک پھنچ ھی نہ سکیں گے “۔
”خدایا میں تیرا نبی محمد اور تیرا منتخب کردہ ھوں میرے سینہ کو کشادہ کردے ،میرے کام کو آسان کردے ،میرے اھل میںسے علی(ع)کو میرا وزیر قرار دے اور ان کے ذریعہ میری پشت کو مضبوط کردے ‘ ‘ ۔
جناب ابوذر کا کھنا ھے :خدا کی قسم یہ کلمات ابھی ختم نھیں ھونے پائے تھے کہ جبرئیل خدا کا یہ پیغام لیکر نازل ھوئے ،اے رسول پڑھئے :<اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ۔۔۔>۔ [18]
اس روایت نے عام ولایت کو اللہ ،رسول اسلام اور امیر المو منین(ع) میں محصور کر دیا ھے ،آیت میں صیغہ جمع تعظیم و تکریم کے لئے آیا ھے ،جو جملہ اسمیہ کی طرف مضاف ھوا ھے اور اس کولفظ اِنَّما کے ذریعہ محصور کردیا ھے ،حالانکہ ان کے لئے عمومی ولایت کی تا کید کی گئی ھے اور حسان بن ثابت نے اس آیت کے امام(ع) کی شان میں نازل ھونے کو یوں نظم کیا ھے :
مَن ذَابِخَاتِمِہِ تَصَدَّقَ رَاکِعاً
وَاَسَرَّھَافِيْ نَفْسِہِ اِسْرارا۔[19]
”علی(ع) اس ذات کا نام ھے جس نے حالت رکوع میں زکات دی اور یہ صدقہ آپ(ع) نے نھایت مخفیانہ انداز میں دیا“۔
حوالہ جات
[1] تاریخ بغداد، جلد ۶،صفحہ ۲۲۱۔صواعق محرقہ ،صفحہ ۲۷۶۔نورالابصار ،صفحہ ۷۶،وغیرہ ۔
[2] سورئہ رعد، آیت ۷۔
[3] تفسیر طبری ،جلد ۱۳،صفحہ ۷۲۔اور تفسیر رازی میں بھی تقریباً یھی مطلب درج ھے ۔کنز العمال ،جلد ۶،صفحہ ۱۵۷ ۔ تفسیر حقائق، صفحہ ۴۲۔مستدرک حاکم، جلد ۳، صفحہ ۱۲۹۔
[4] سورئہ حاقہ، آیت ۱۲۔
[5] کنزالعمال ،جلد ۶،صفحہ ۱۰۸۔
[6] سورئہ بقرہ ،آیت ۲۷۴۔
[7] اسد الغابہ، جلد ۴،صفحہ ۲۵،صواعق المحرقہ، صفحہ ۷۸۔اسباب النزول مولف واحدی، صفحہ ۶۴۔
[8] سورئہ بینہ، آیت ۷۔
[9] در المنثور ”اسی آیت کی تفسیر میں “جلد ۸ ،صفحہ ۳۸۹۔تفسیر طبری، جلد ۳۰،صفحہ ۱۷۔صواعق المحرقہ ،صفحہ ۹۶۔
[10] سورئہ نحل، آیت ۴۳۔
[11] تفسیر طبری ،جلد ۸ ،صفحہ ۱۴۵۔
[12] سورئہ مائدہ ،آیت ۶۷۔
[13] ا سباب النزول، صفحہ ۱۵۰۔تاریخ بغداد، جلد ۸،صفحہ ۲۹۰۔تفسیر رازی، جلد ۴،صفحہ ۴۰۱۔در منثور، جلد ۶،صفحہ ۱۱۷۔
[14] سورئہ مائدہ ،آیت ۳
[15] دلائل الصدق ،جلد ۲،صفحہ ۱۵۲۔
[16] سورئہ طہ، آیت ۲۵۔۳۲۔
[17] سورئہ قصص، آیت ۳۵۔
[18] تفسیر رازی ،جلد ۱۲،صفحہ ۲۶،نورالابصار ،صفحہ ۱۷۰۔تفسیر طبری، جلد ۶،صفحہ ۱۸۶۔
[19] در منثور، جلد ۳،صفحہ ۱۰۶۔کشاف، جلد ۱،صفحہ ۶۹۲۔ذخائر العقبیٰ ،صفحہ ۱۰۲۔مجمع الزوائد ،جلد ۷،صفحہ ۱۷۔کنز العمال، جلد ۷صفحہ ۳۰۵۔ 

Home, ازواج مطہرات رضی اللہ




ازواج مطہرات رضی اللہ
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مختلف روایات میں گیارہ سے تیرہ ازواج کے نام ملتے ہیں جنہیں امہات المؤمنین کہا جاتا ہے یعنی مؤمنین کی مائیں۔ اس کے علاوہ انہیں ازواج مطہرات بھی کہا جاتا ہے۔

ازواج مطہرات رضی اللہ کے نام
حفصہ

مطلب:

شیرنی
انگریزی:
Hafsa
سودہ
مطلب: 
مشک، نشان
انگریزی: 
Saoda
زینب
مطلب: 
ایک خوشبودار خوبصورت درخت
انگریزی: 
Zainab

عائشہ
مطلب: 
زندگی والی
انگریزی: 
Aisha

جویریہ
مطلب: 
عہد و پیمان
انگریزی: 
Jawairia
خدیجہ
مطلب: 
ناتمام
انگریزی: 
Khadija
میمونہ
مطلب: 
برکت والی
انگریزی: 
Maimuna
صفیہ
مطلب: 
منتخب
انگریزی: 
Safia
رملہ
مطلب: 
ریتلی زمین، خوبصورت
انگریزی: 

Ramla



Home


ام المؤمنین کی اصطلاح کس طرح پیدا ھوئی؟
"ام المومنین" یعنی مومنوں کی ماں، یہ اصطلاح آیہ شریفہ "اُولویت" ،" بیشک نبی تمام مومنین سے ان کے نفس کی بہ نسبت زیاده اولی ہے اور ان کی بیویاں ان سب کی مائیں ہین اور مؤمنین و مہاجرین میں سے قرابتدار ایک دوسرے سے زیاده اولویت اور قربت رکہتے ہیں"[1] کے نازل ہونے کے ساتہه حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے بارے میں مومنوں کے درمیان رائج ہوئی۔ خدائے متعال اس آیہ شریفہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات کو مؤمنوں کی ماؤں کی منزلت پر جانتا ہے، (البتہ روحانی اور معنوی مائیں)۔ جس طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امت کے معنوی اور روحانی باپ ہیں۔
۲۔ یہ حکم (کہ ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں ہیں) ایک شرعی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مخصوص ہے۔ [2] جس طرح سوره احزاب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج کی دوسری عورتوں کے ساتہه برابری کی نفی کی گئی ہے" اے زنان پیغمبر تم اگر تقوی اختیار کرو تو تمہارا مرتبہ کسی عام عورت جیسا نہیں ہے ، لہذا کسی آدمی سے لگی لپتی بات نہ کرنا کہ جس کے دل میں بیماری ہو اسے لالچ پیدا ہوجائے اور ہمیشہ نیک باتیں کیا کرو" [3]
۳۔ پیغمبر کی ازواج مطہرات کی ماؤں کے ساتہه تشبیہ ، صرف ماں کے بعض اثرات کے ساتہه تشبیہ ہے، نہ کہ سب کے ساتہه۔ یعنی ماں کے اپنے فرزندوں پر حقوق ہوتے ہیں، اور ان کے درمیان دو طرفہ احکام ہوتے ہیں، جو سب اس مسئلہ میں لاگو نہیں ہیں۔ یہاں پر صرف دو حکم : الف:"ان کے احترام کا واجب ہونا اور انکی حرمت رکہنا۔ ب : ان کے ساتہه شادی کرنا حرام ہے"   شامل ہیں۔ کیوں کہ ماں میں ان دو احکام کے علاوه دوسرے اثرات بہی پائے جاتے ہیں ، جیسے وه اپنے فرزند سے میراث لیتی ہے اور اس کے فرزند اس سے میراث لیتے ہیں۔ اس کے چہرے پر نظر کرنا جایز ہے ان کی لڑکیوں کے ساتہه جو دوسرے شوہر سے ہوں شادی نہیں کی جاسکتی وغیروغیره۔
لیکن پیغمبر اکرم (ص) کی ازواج مطہرات کے لئے ان دو حکم کے علاوه ( احترام کا واجب ہونا ، اور شادی کا حرام ہونا [4]) دوسرے احکام جاری نہیں ہیں ۔ پس ازواج مطہرات کی ماؤں کے ساتہه تشبیہ دینے کے حکم کا اثر دو مسئلوں میں ہی ہے اور وه دو حکم : (الف) احترام کا واجب ہونا۔ (ب ) شادی کا حرام ہونا ، ہیں۔
۴۔ یہ حکم :
اولا: ازواج مطہرات کا احترام کرنے کیلئے ہے ، کیون کہ ازواج مطہرات رسول اکرم صلی اللہ عیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہونے سے کی وجه سے مسلمانوں کے درمیان خاص احترام کی حامل ہیں، اور یہ قدرتی بات ہے کہ دوسری عورتوں کے ساتہه ان کا فرق ہے جس کو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔[5]
ثانیا: ان کا احترام کرنا پیغمبر کے احترام کرنے کے برابر ہے۔ جیسا که آیت کی شان نزول سے پتا چلتا ہے کہ بعض مخالفوں نے انتقام لینے کی غرض سے اور رسول اکرم کی ذات مقدس کی توہین کرنے کی غرض سے رسول کی رحلت کے بعد ان کی ازواج مطہرات سے شادی کرنے کا قصد کیا تہا۔
ثالثا: اندرونی دشمنوں کی بعض سازشوں اور ان سے غلط فائده اٹہانے کو روکنا۔ ان اندرونی دشمنوں کی غرض یہ تہی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد ان کی ازواج کے ساتہه شادی کرکے اپنے پست سیاسی مقاصد تک پہنچا جائے تہے۔ استاد مطہری ، کے مطابق ، دوسرے لوگوں سے ازواج مطہرات کی شادی حرام کہونے کا راز یہ تہا کہ ان کے بعد میں ہونے والے شوہر ازواج مطہرات کے احترام اور شہرت سے غلط فائده اٹہاتے اور بعض خود خواه عناصر سیاسی اور سماجی مسائل میں ان عورتوں کو  اپنا آلہ کار بناتے۔ [6]
[1] " النبی اولی بالمومنین من انفسہم و ازواجہ امہاتہم ۔۔۔" سوره احزاب / ۶۔
[2]  طباطبائی ، محمد حسین ، المیزان ، ( ترجمہ فارسی) ج ۱۶، ص ۴۱۴۔
[3]  " یا نساء النبی لستن کاحد من النساء ۔۔۔" سوره احزاب / ۳۲۔
[4]  تفسیر نمونہ ، ج ۱۷، ص ۲۰۷ ۔ ۲۰۵۔
[5]  سوره احزاب / ۳۲۔
[6] مطہری ، مرتضی ، مجموعہ آثار ، ج ۱۹ ، ص ۴۳۱ ، اس سلسلے میں مزید معلومات کیلئے تفسیر المیزان ، ج ۱۶ ، آیات ۱۔۔ ۵۴ سوره احزاب ، اور تفسیر نمونہ ج ۱۷ ، آیات ۱ ۔۔ ۵۴ ص ۴۰۶ اور ۴۰۵ کی جانب رجوع کریں۔

Home

"انتظار"

امام زمانہ (ع) کا ظہور خدا کے نہ بدلنے والے فیصلوں میں ہے۔ کیونکہ خدا نے اس دنیا کو بلندی اور کمال تک پہنچنے کے لئے بنایا ہے جیساکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ "وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون" ہم نے جن اور انسانوں کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ زندگی کے ہر میدان میں خدا کی بندگی وہ آخری کمال اور بلندی ہے جس کے لئے خدا نے انسانوں کو بنایا ہے اور اگر یہ دنیا ظلم اور ناانصافی پر ختم ہوجائے تو دنیا کا مقصد پورا نہیں ہوگا ۔
 آخری امام کو ظہور کے بعد پوری دنیا میں خدا کی بندگی کا پرچم لہرانا ہوگا۔ اگر کسی ملک میں کوئی تبدیلی آنا ہو تو لوگوں کو اس کے لئے کتنی تیاری کرنا پڑتی ہے۔ اگرکوئی ملک کسی دوسرے ملک کا غلام ہو یا اس ملک میں ڈکٹیٹرشپ چل رہی ہو  اور لوگ اپنے ملک کو آزاد کرانا چاہتے ہوں تو اس کے لئے انہیں کتنی تیاری کرنا ہوتی ہے، اپنے آپ کو  بدلنا ہوتا ہے، جیسے حالات ہوتے ہیں اس کے حساب سے وہ انقلاب لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ملک کو آزاد کرانے کےلئے اسلحے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اسلحہ استعمال کرتے ہیں، اگر قربانی دینے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ قربانی دیتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہوتا ہے کہ وہ اچانک قربانی دینے کے لئے تیار ہوجائیں بلکہ اس کے لئے انہیں کئی سالوں تک کوشش کرنا ہوتی ہے،جتنا بڑا انقلاب ہوتا ہے اتنے ہی سال اس کی تیاری میں لگتے ہیں، لوگوں کو  اپنے آپ کو بدلنا ہوتا ہے، اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ہوتا ہے، اپنا کیرکٹر بدلنا ہوتا ہے تب کہیں وہ ملک کے لئے اپنی قربانی دینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ورنہ جو لوگ اپنی زندگی میں مست مگن رہتے ہیں انہیں اس کی فکر نہیں ہوتی ہے کہ وہ غلام ہیں اور اگر وہ سمجھتے بھی ہیں تب بھی وہ اپنے آپ کو غلامی سے آزاد کرانے کے لئے کوشش نہیں کرتے ہیں کیونکہ اس کے لئے انہیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا، اپنی زندگی میں تبدیلی لانا ہوگی، جس عیش و آرام کو وہ اچھا سمجھ رہے ہیں اسے چھوڑنا ہوگا لیکن وہ یہ سب کچھ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں آزادی کی قیمت نہیں معلوم ہے وہ غلامی میں رہ کر تھوڑے بہت عیش و آرام کو اچھا سمجھتے ہیں اور اسی میں خوش  رہتےہیں۔ مگر جو لوگ جانتے ہیں کہ آزادی کیا ہوتی ہے وہ اس کے لئے کوشش کرتے ہیں اور پھر ان کے لئے اپنی زندگی بدلنا اور         عیش و آرام چھوڑنا آسان ہوجاتا ہے ۔
امام زمانہ(ع)کسی ایک ملک کو نہیں بلکہ  اس پوری دنیا کو ظالم اور ڈکٹیٹر لیڈروں سے آزاد کرانے کے لئے آئیں گے ، پوری دنیا کو ظلم اور شرک کی غلامی سے آزاد کرانے کے لئے آئیں گے جس کے لئے وہ زندگی کے ہر میدان میں تبدیلیاں لائیں گے۔ تو یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ پوری دنیا کو بدلنے والا یہ عظیم انقلاب اچانک نہیں آجائے گا بلکہ اس کے لئے ان لوگوں کو تیاری کرنا ہوگی جو اس انقلاب میں امام کا ساتھ دینا چاہیں گے اور امام کے دشمنوں کے لشکر میں نہیں بلکہ امام کے لشکر میں رہنا چاہتے ہیں اور ہمیشہ یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ خدایا! ہمیں امام کے مددگاروں میں شامل کردے۔
پوری دنیا کو بدلنے والے اس انقلاب کے لئے بہت سی شرطیں ہیں جنہیں ہم یہاں پر پیش کررہے ہیں:
۱۔ پرسنل تیاری: جیسا کہ ہم نے اوپر کہا کہ کوئی بھی باہری انقلاب اندرونی انقلاب کے بعد ہی آتا ہے۔ جب تک خود انسان کے اندر کوئی بدلاؤ نہ ہو تب تک وہ باہر کوئی بدلاؤ نہیں لاسکتا ہے۔ جب تک لوگوں کے سوچنے کا انداز اور کردار نہ بدل جائے تب تک وہ اس دنیا میں کچھ بھی نہیں بدل سکتے ہیں۔ دنیا میں جتنے لوگ انقلاب لائے ہیں یا انہوں نے بڑی تبدیلیاں کی ہیں اور جن لوگوں نے ان کا ساتھ دیا ہے ہم انہیں دیکھ سکتے ہیں کہ پہلے انہوں نے اپنے آپ کو بدلا ہے، وہ اپنے اندر ایک انقلاب لائے ہیں اور پھر وہ باہر انقلاب لانے میں کامیاب رہے ہیں۔
پرسنل تیاری کا مطلب صرف یہ  نہیں ہوتا ہے کہ  آدمی اپنے کردار کو اچھا بنا لے، نمازیں پڑھے، دعائیں پڑھے اور گناہوں سے دور رہے بلکہ جیسا انقلاب ہوتا ہے اس کے لئے ویسی ہی تیاری کرنا ہوتی ہے۔ امام پوری دنیا کے سسٹم کو بدلیں گے اور اس سسٹم میں ظالم اور گناہگار لوگوں کی جگہ نیک کردار انسانوں کو لائیں گے لیکن یہ لوگ ایسے نہیں ہوں گے جو صرف مسجد میں بیٹھ کر عبادت کرنا جانتے ہوں گے بلکہ یہ دنیا کا سسٹم چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔  یہ خدا کی بندگی کریں گے لیکن صرف مسجد میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر میدان میں۔
۲۔لوگوں کا ذہنی اعتبار سے تیار رہنا: یعنی لوگوں کی سوچ اتنی بلند ہوجائے کہ وہ رنگ ، نسل اور ملک کا فرق بھول جائیں اور کسی ایسے آدمی کی بات ماننے کی صلاحیت رکھتے ہوں جو نہ ان کے رنگ اور نسل کا ہے اورنہ ان کے ملک کا لیکن وہ سچائی اور انصاف کی طرف بلانے والا ہے اس لئے لوگ اس کی بات ماننے پر تیار ہوں۔
۳۔سماجی تیاری: لوگ ظلم اور ناانصافی کرنے والی حکومتوں اور انسانوں کا خون چوسنے والے سسٹم سے اتنے پریشان اور تھک چکے ہوں کہ وہ سب کسی نجات دینے والے کی طرف آنکھ لگائے بیٹھے ہوں ۔وہ یہ سمجھ گئے ہوں کہ اب دنیا کے یہ سسٹم انہیں اچھی زندگی نہیں دے سکتے ہیں۔ نہ انہیں اس دنیا میں سکون دے سکتے ہیں اور نہ آخرت کی زندگی کے لئے کچھ کرسکتے ہیں۔ اس لئے انہیں کسی ایسے آدمی کا انتظار ہوگا جو خدا کی طرف سے آئے اور انہیں اس دنیا اور آخرت کی وہ ساری نعمتیں دے جن کی وہ ہمیشہ آرزو کرتے رہے ہیں۔ 
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام زمانہ(ع) کے ظہور کی دعا مانگنے والوں کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو اچھا بنائیں بلکہ ان کی ذمہ داری یہ ہے بھی ہے کہ وہ اپنے سماج کو اچھا بنانے کی کوشش کریں، لوگوں کو ظالم حکومتوں کے ظلم کے بارے میں بتائیں، ان میں ظالموں سے نفرت اور ان سے مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کریں۔ ورنہ ظالموں کے ظلم کے سامنے خاموش بیٹھ کر امام کے ظہور کی دعا کرنا مناسب نہیں ہے۔ بلکہ ظالموں کی مخالفت امام زمانہ(ع) کی حمایت ہے۔
جب ہم یہ تینوں چیزیں سمجھ جائیں گے تب ہمیں معلوم ہوگا کہ روایات میں "انتظار" پر اتنا زور کیوں دیا گیا ہے اور یہ کیوں کہا گیا ہے کہ انتظار سب سے بڑا عمل ہے۔ یعنی انتظار عمل کرنے کا نام ہے خاموش بیٹھ جانے کا نہیں۔