صاحب اخبار الطوال لکھتے ہیں: جناب عباس علیہ السلام امام عالی مقام کے
ساتھ ساتھ تھے اور امام علیہ السلام کا دفاع کر رہے تھے جہاں جہاں امام
جاتے تھے آپ ان کے ساتھ تھے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
خوارزمی اور ابن اعثم کوفی نے آپ کی شہادت کی کیفیت کے بارے میں یوں لکھا ہے: حضرت ابو الفضل علیہ السلام میدان جنگ میں گئے اور یہ رجز پڑھی:
أُقْسِمْتُ بِاللَّهِ الأَعَزُّ الأَعْظَمِ
وَبِالْحُجونِ صادِقاً وَزَمْزَمِ
وَبِالْحَطيمِ وَالْفَنَا الْمُحَرَّمِ
لِيَخْضِبَّنَ الْيَومِ جِسْمى بِدَمى
دُونَ الْحُسَينِ ذِى الفِخارِ الأَقْدَمِ
إِمامِ أَهْلِ الْفَضْلِ وَالتَكُّرمِ
خدائے عظیم و برتر کی قسم اور حجون، زمزم و۔۔۔ کی قسم میں اپنے بدن کو خون میں رنگین کر دوں گا حسین علیہ السلام کے دفاع میں کہ جو ہمیشہ صاحب فخر و فضل و کرم رہے ہیں۔
آپ نے بہت سارے دشمنوں کو تہ تیغ کرنے کے بعد جام شہادت نوش کر لیا۔
امام علیہ السلام آپ کے سرہانے پہنچے اور یوں فریاد بلند کی: «الآنَ انْكَسَرَ ظَهْرى وَقَلَّتْ حيلَتى» اب میری کمر ٹوٹ گئی اور کوئی چارہ کار باقی نہ رہا۔
صاحب لہوف اور مثیر الاحزان نے جناب عباس کی شہادت کو دوسرے انداز سے بیان کیا ہے:
جب امام عالی مقام پر پیاس کا غلبہ ہوا اپنے بھائی کے ہمراہ فرات کی طرف روانہ ہوئے دشمنوں نے حملہ کر کے دونوں کو الگ الگ کر دیا اور جناب عباس شہید ہو گئے۔
ابن شہر آشوب آپ کی شہادت کے بارے میں رقمطراز ہیں: جناب عباس، حرم حسینی کے سقا، قمر بنی ہاشم اور لشکر حسینی کے علمبردار اپنے دوسرے بھائیوں سے بڑے تھے پانی کے لیے فرات کی طرف روانہ ہوئے ۔دشمن نے آپ پر حملہ کیا اور آپ نے بھی ان کا جواب دیا اور یوں رجز پڑھی:
لا ارْهَبُ الْمَوْتَ إِذِ الْمَوْتُ رُقا
حَتَّى اوارى فى الْمَصالِيتِ لِقا
نَفْسى لِنَفْسِ الْمُصْطَفى الْطُّهر وَقا
إنّى أَنَا الْعَبَّاسُ أَعْدُو بِالسَّقا
وَلا أَخافُ الشَّرَّ يَوْمَ الْمُلْتَقى
میں موت سے نہیں ڈرتا اس لیے کہ موت ذریعہ کمال ہے۔ یہاں تک کہ میرا بدن دلیر مردوں کی طرح خاک و خوں میں غلطاں ہو جائے۔
میری جان فدا ہو نفس مصطفیٰ پر جو پاک و مطہر ہے۔ میں عباس ہوں سقا میرا لقب ہے۔ اور ہر گز دشمن کے ساتھ ملاقات کے وقت سے خوف و ہراس نہیں رکھتا۔
اس کے بعد آپ نے حملہ کیا اور دشمن کو تہس نہس کر دیا زید بن ورقا جہنی درخت کے پیچھے آپ کی تاک میں بیٹھا ہوا تھا اور حکیم بن طفیل سنبسی کی مدد سے ایک ضربت ماری اور آپ کا دائیاں بازوں قلم کر دیا۔
جناب عباس نے تلوار کو دوسرے ہاتھ میں لیا اور یوں رجز پڑھی:
وَاللَّهِ إِنْ قَطَعْتُمُ يَمينى
إنّى أُحامِى أبَداً عَنْ دينى
وَعَنْ إمامٍ صادِقِ الْيَقينِ
نَجْلِ النَّبىِّ الْطَّاهِرِ الأَمينِ
خدا کی قسم اگر میرا دائیں ہاتھ قلم کیا [ تو کوئی بات نہیں] میں ابھی بھی اپنے دین کا دفاع کروں گا اور اپنے سچے امام کی حمایت کروں گا جو پاک اور امین نبی کا فرزند ہے۔
مسلسل جنگ میں مصروف رہے یہاں تک کہ ضعف بدن پر طاری ہو گیا اسی ہنگام حکیم بن طفیل طائی کہ جو درخت کی کمین میں تھا نے دوسرا وار کیا تو بائیاں بازوں بھی قلم ہو گیا۔ آپ نے پھر رجز پڑھی:
يا نَفْسِ لا تَخْشى مِنَ الْكُفَّارِ
وَأَبْشِرى بِرَحْمَةِ الْجَبَّارِ
مَعَ الْنَّبى السَّيِّد الْمُختارِ
قَدْ قَطَعُوا بِبَغْيِهِم يِسارى
فَأصْلِهِمْ يا ربِّ حَرِّ النَّارِ
اے نفس کافروں سے مت ڈر اور خدائے جبار کی رحمت اور پیغمبر اکرم [ص] کی ہمنشینی کی بشارت ہو۔ انہوں نے ظلم و ستم سے میرا بائیاں ہاتھ کاٹا پروردگارا انہیں دوزخ کی آگ میں جلا کر راکھ بنا دے۔
اس کے بعد اس ملعون نے ایک لوحے کے اسلحہ سے سر پر ضربت ماری اور آپ شہید ہو گئے۔
مرحوم علامہ مجلسی صاحب مناقب کے کلام کو نقل کرنے کے بعد بعض مرسل منابع سے حضرت عباس کی شہادت کی کیفیت کو بیان کرتے ہیں: جب جناب عباس نے اپنے بھائی کو تنھا محسوس کیا تو ان کے پاس گئے اور میدان میں جانے کی اجازت طلب کی۔ امام عالی مقام نے فرمایا: تم میرے علمبردار ہو میرے لشکر کے سردارہو ۔ عرض کیا: میرا دل تنگ ہو گیا ہے میں زندگی سے سیر ہو گیا ہوں میں ان منافقوں سے بدلنا لینا چاہتا ہوں۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: ان بچوں کے لیے تھوڑا سا پانی مہیا کر کے جاو۔ جناب عباس دشمنوں کی طرف آئے اور ان کو جتنا وعظ و نصیحت کیا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ امام کے پاس واپس گئے اور قضیہ کی اطلاع دی۔
اتنے میں بچوں کی العطش کی صدائیں سنائی دیں۔ مشک کو اٹھایا۔ اور گھوڑے پر سوار ہوئے تاکہ فرات کی طرف جائیں۔ چار ہزار سپاہیوں نے جو فرات پر پیرا دے رہے تھے آپ کو محاصرہ میں لے لیا اور تیروں کی بارش شروع کر دی۔
انہیں دور بھگایا اور ایک روایت کے مطابق ان میں سے اسّی سپاہیوں کو فی نار جہنم کیا۔ فرات میں داخل ہوئے چلّو میں پانی لیا تاکہ اسے پئیں۔ مگر امام حسین علیہ السلام اور ان کے بچوں کی پیاس یاد آ گئی۔ پانی کو پھینک دیا اور مشک کو پانی سے بھرا۔ اور اسے دائیں بازوں پر لگا کر خیموں کا رخ کیا۔ دشمنوں نے راستہ روک لیا۔اور ہر طرف سے آپ کو محاصرہ میں لے لیا۔ جناب عباس نے ان کے ساتھ جنگ شروع کر دی یہاں تک کہ نوفل ازرقی نے آپ کا دائیاں بازوں قلم کر دیا۔ مشک کو بائیں شانہ پر لٹکایا۔ نوفل نے دوسری ضربت سے بائیاں بازوں بھی قلم کر دیا۔ جناب عباس سے مشک کو دانتوں میں لیا اور گھوڑے کو دوڑایا۔ اتنے میں ایک تیر مشک پر پیوست ہوا اور سارا پانی بہ گیا۔ دوسرا تیر آپ کے سینے پر لگا اور آپ زین سے زمین پر گرے۔ اور امام حسین علیہ السلام کو آواز دی۔ مولا ادرکنی۔
جب امام علیہ السلام آپ کے قریب پہنچے تو آپ خون میں لت پت ہو چکے تھے امام علیہ السلام نے حسرت سے فرمایا: الان انکسر ظھری و قلت حیلتی"۔ اب میری کمر ٹوٹ گئی اور میں بے چارہ ہو گیا۔
زیارت ناحیہ میں آپ پر یوں سلام کیا گیا ہے:
السَّلامُ عَلى أبى الْفَضْلِ العَبَّاسِ بْنِ أَميرِالْمُؤمنينَ المُواسي أَخاهُ بِنَفْسِهِ، أَلآخِذُ لِغَدِهِ مِنْ أَمْسِهِ، الْفادى لَهُ الواقى السَّاعى إِلَيْهِ بِمائِه، الْمَقطُوعَةِ يَداه- لَعَنَ اللَّهِ قاتِلَيهُ يَزيدَ بْنَ الرُّقادِ الجُهَنىّ، وَحَكيمِ بْنِ الطُّفَيلِ الطَّائى.
سلام ہو ابو الفضل العباس ابن امیر المومنین پر جنہوں نے اپنے بھائی کی خاطر اپنی جان نثار کر دی۔ جنہوں نے گزشتہ کل سے آئندہ کے لیے ذخیرہ کر لیا۔ جنہوں نے اپنے آپ کو ڈھال قرار دیا اور فدا کر دیا۔ اور پانی پہنچانے کی سعی ناتمام کی یہاں تک کہ دونوں ہاتھ قلم ہو گئے۔ خدا کی لعنت ہو ان کے قاتل یزید بن رقاد جہنی اور حکیم بن طفیل طائی پر ۔
جناب عباس کا روضہ نہر علقمہ کے پاس دوسرے شہدا سے الگ ہے اور آپ کا نورانی حرم تمام عاشقان کے لیے آماجگاہ ہے۔
خوارزمی اور ابن اعثم کوفی نے آپ کی شہادت کی کیفیت کے بارے میں یوں لکھا ہے: حضرت ابو الفضل علیہ السلام میدان جنگ میں گئے اور یہ رجز پڑھی:
أُقْسِمْتُ بِاللَّهِ الأَعَزُّ الأَعْظَمِ
وَبِالْحُجونِ صادِقاً وَزَمْزَمِ
وَبِالْحَطيمِ وَالْفَنَا الْمُحَرَّمِ
لِيَخْضِبَّنَ الْيَومِ جِسْمى بِدَمى
دُونَ الْحُسَينِ ذِى الفِخارِ الأَقْدَمِ
إِمامِ أَهْلِ الْفَضْلِ وَالتَكُّرمِ
خدائے عظیم و برتر کی قسم اور حجون، زمزم و۔۔۔ کی قسم میں اپنے بدن کو خون میں رنگین کر دوں گا حسین علیہ السلام کے دفاع میں کہ جو ہمیشہ صاحب فخر و فضل و کرم رہے ہیں۔
آپ نے بہت سارے دشمنوں کو تہ تیغ کرنے کے بعد جام شہادت نوش کر لیا۔
امام علیہ السلام آپ کے سرہانے پہنچے اور یوں فریاد بلند کی: «الآنَ انْكَسَرَ ظَهْرى وَقَلَّتْ حيلَتى» اب میری کمر ٹوٹ گئی اور کوئی چارہ کار باقی نہ رہا۔
صاحب لہوف اور مثیر الاحزان نے جناب عباس کی شہادت کو دوسرے انداز سے بیان کیا ہے:
جب امام عالی مقام پر پیاس کا غلبہ ہوا اپنے بھائی کے ہمراہ فرات کی طرف روانہ ہوئے دشمنوں نے حملہ کر کے دونوں کو الگ الگ کر دیا اور جناب عباس شہید ہو گئے۔
ابن شہر آشوب آپ کی شہادت کے بارے میں رقمطراز ہیں: جناب عباس، حرم حسینی کے سقا، قمر بنی ہاشم اور لشکر حسینی کے علمبردار اپنے دوسرے بھائیوں سے بڑے تھے پانی کے لیے فرات کی طرف روانہ ہوئے ۔دشمن نے آپ پر حملہ کیا اور آپ نے بھی ان کا جواب دیا اور یوں رجز پڑھی:
لا ارْهَبُ الْمَوْتَ إِذِ الْمَوْتُ رُقا
حَتَّى اوارى فى الْمَصالِيتِ لِقا
نَفْسى لِنَفْسِ الْمُصْطَفى الْطُّهر وَقا
إنّى أَنَا الْعَبَّاسُ أَعْدُو بِالسَّقا
وَلا أَخافُ الشَّرَّ يَوْمَ الْمُلْتَقى
میں موت سے نہیں ڈرتا اس لیے کہ موت ذریعہ کمال ہے۔ یہاں تک کہ میرا بدن دلیر مردوں کی طرح خاک و خوں میں غلطاں ہو جائے۔
میری جان فدا ہو نفس مصطفیٰ پر جو پاک و مطہر ہے۔ میں عباس ہوں سقا میرا لقب ہے۔ اور ہر گز دشمن کے ساتھ ملاقات کے وقت سے خوف و ہراس نہیں رکھتا۔
اس کے بعد آپ نے حملہ کیا اور دشمن کو تہس نہس کر دیا زید بن ورقا جہنی درخت کے پیچھے آپ کی تاک میں بیٹھا ہوا تھا اور حکیم بن طفیل سنبسی کی مدد سے ایک ضربت ماری اور آپ کا دائیاں بازوں قلم کر دیا۔
جناب عباس نے تلوار کو دوسرے ہاتھ میں لیا اور یوں رجز پڑھی:
وَاللَّهِ إِنْ قَطَعْتُمُ يَمينى
إنّى أُحامِى أبَداً عَنْ دينى
وَعَنْ إمامٍ صادِقِ الْيَقينِ
نَجْلِ النَّبىِّ الْطَّاهِرِ الأَمينِ
خدا کی قسم اگر میرا دائیں ہاتھ قلم کیا [ تو کوئی بات نہیں] میں ابھی بھی اپنے دین کا دفاع کروں گا اور اپنے سچے امام کی حمایت کروں گا جو پاک اور امین نبی کا فرزند ہے۔
مسلسل جنگ میں مصروف رہے یہاں تک کہ ضعف بدن پر طاری ہو گیا اسی ہنگام حکیم بن طفیل طائی کہ جو درخت کی کمین میں تھا نے دوسرا وار کیا تو بائیاں بازوں بھی قلم ہو گیا۔ آپ نے پھر رجز پڑھی:
يا نَفْسِ لا تَخْشى مِنَ الْكُفَّارِ
وَأَبْشِرى بِرَحْمَةِ الْجَبَّارِ
مَعَ الْنَّبى السَّيِّد الْمُختارِ
قَدْ قَطَعُوا بِبَغْيِهِم يِسارى
فَأصْلِهِمْ يا ربِّ حَرِّ النَّارِ
اے نفس کافروں سے مت ڈر اور خدائے جبار کی رحمت اور پیغمبر اکرم [ص] کی ہمنشینی کی بشارت ہو۔ انہوں نے ظلم و ستم سے میرا بائیاں ہاتھ کاٹا پروردگارا انہیں دوزخ کی آگ میں جلا کر راکھ بنا دے۔
اس کے بعد اس ملعون نے ایک لوحے کے اسلحہ سے سر پر ضربت ماری اور آپ شہید ہو گئے۔
مرحوم علامہ مجلسی صاحب مناقب کے کلام کو نقل کرنے کے بعد بعض مرسل منابع سے حضرت عباس کی شہادت کی کیفیت کو بیان کرتے ہیں: جب جناب عباس نے اپنے بھائی کو تنھا محسوس کیا تو ان کے پاس گئے اور میدان میں جانے کی اجازت طلب کی۔ امام عالی مقام نے فرمایا: تم میرے علمبردار ہو میرے لشکر کے سردارہو ۔ عرض کیا: میرا دل تنگ ہو گیا ہے میں زندگی سے سیر ہو گیا ہوں میں ان منافقوں سے بدلنا لینا چاہتا ہوں۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: ان بچوں کے لیے تھوڑا سا پانی مہیا کر کے جاو۔ جناب عباس دشمنوں کی طرف آئے اور ان کو جتنا وعظ و نصیحت کیا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ امام کے پاس واپس گئے اور قضیہ کی اطلاع دی۔
اتنے میں بچوں کی العطش کی صدائیں سنائی دیں۔ مشک کو اٹھایا۔ اور گھوڑے پر سوار ہوئے تاکہ فرات کی طرف جائیں۔ چار ہزار سپاہیوں نے جو فرات پر پیرا دے رہے تھے آپ کو محاصرہ میں لے لیا اور تیروں کی بارش شروع کر دی۔
انہیں دور بھگایا اور ایک روایت کے مطابق ان میں سے اسّی سپاہیوں کو فی نار جہنم کیا۔ فرات میں داخل ہوئے چلّو میں پانی لیا تاکہ اسے پئیں۔ مگر امام حسین علیہ السلام اور ان کے بچوں کی پیاس یاد آ گئی۔ پانی کو پھینک دیا اور مشک کو پانی سے بھرا۔ اور اسے دائیں بازوں پر لگا کر خیموں کا رخ کیا۔ دشمنوں نے راستہ روک لیا۔اور ہر طرف سے آپ کو محاصرہ میں لے لیا۔ جناب عباس نے ان کے ساتھ جنگ شروع کر دی یہاں تک کہ نوفل ازرقی نے آپ کا دائیاں بازوں قلم کر دیا۔ مشک کو بائیں شانہ پر لٹکایا۔ نوفل نے دوسری ضربت سے بائیاں بازوں بھی قلم کر دیا۔ جناب عباس سے مشک کو دانتوں میں لیا اور گھوڑے کو دوڑایا۔ اتنے میں ایک تیر مشک پر پیوست ہوا اور سارا پانی بہ گیا۔ دوسرا تیر آپ کے سینے پر لگا اور آپ زین سے زمین پر گرے۔ اور امام حسین علیہ السلام کو آواز دی۔ مولا ادرکنی۔
جب امام علیہ السلام آپ کے قریب پہنچے تو آپ خون میں لت پت ہو چکے تھے امام علیہ السلام نے حسرت سے فرمایا: الان انکسر ظھری و قلت حیلتی"۔ اب میری کمر ٹوٹ گئی اور میں بے چارہ ہو گیا۔
زیارت ناحیہ میں آپ پر یوں سلام کیا گیا ہے:
السَّلامُ عَلى أبى الْفَضْلِ العَبَّاسِ بْنِ أَميرِالْمُؤمنينَ المُواسي أَخاهُ بِنَفْسِهِ، أَلآخِذُ لِغَدِهِ مِنْ أَمْسِهِ، الْفادى لَهُ الواقى السَّاعى إِلَيْهِ بِمائِه، الْمَقطُوعَةِ يَداه- لَعَنَ اللَّهِ قاتِلَيهُ يَزيدَ بْنَ الرُّقادِ الجُهَنىّ، وَحَكيمِ بْنِ الطُّفَيلِ الطَّائى.
سلام ہو ابو الفضل العباس ابن امیر المومنین پر جنہوں نے اپنے بھائی کی خاطر اپنی جان نثار کر دی۔ جنہوں نے گزشتہ کل سے آئندہ کے لیے ذخیرہ کر لیا۔ جنہوں نے اپنے آپ کو ڈھال قرار دیا اور فدا کر دیا۔ اور پانی پہنچانے کی سعی ناتمام کی یہاں تک کہ دونوں ہاتھ قلم ہو گئے۔ خدا کی لعنت ہو ان کے قاتل یزید بن رقاد جہنی اور حکیم بن طفیل طائی پر ۔
جناب عباس کا روضہ نہر علقمہ کے پاس دوسرے شہدا سے الگ ہے اور آپ کا نورانی حرم تمام عاشقان کے لیے آماجگاہ ہے۔
No comments:
Post a Comment