Friday, October 31, 2014

Rajaz e Abbas ibn Ali as

صاحب اخبار الطوال لکھتے ہیں: جناب عباس علیہ السلام امام عالی مقام کے ساتھ ساتھ تھے اور امام علیہ السلام کا دفاع کر رہے تھے جہاں جہاں امام جاتے تھے آپ ان کے ساتھ تھے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
خوارزمی اور ابن اعثم کوفی نے آپ کی شہادت کی کیفیت کے بارے میں یوں لکھا ہے: حضرت ابو الفضل علیہ السلام میدان جنگ میں گئے اور یہ رجز پڑھی:

أُقْسِمْتُ بِاللَّهِ الأَعَزُّ الأَعْظَمِ

وَبِالْحُجونِ صادِقاً وَزَمْزَمِ‏
وَبِالْحَطيمِ وَالْفَنَا الْمُحَرَّمِ
لِيَخْضِبَّنَ الْيَومِ جِسْمى‏ بِدَمى‏

دُونَ الْحُسَينِ ذِى الفِخارِ الأَقْدَمِ

إِمامِ أَهْلِ الْفَضْلِ وَالتَكُّرمِ‏

خدائے عظیم و برتر کی قسم اور حجون، زمزم و۔۔۔ کی قسم میں اپنے بدن کو خون میں رنگین کر دوں گا حسین علیہ السلام کے دفاع میں کہ جو ہمیشہ صاحب فخر و فضل و کرم رہے ہیں۔

آپ نے بہت سارے دشمنوں کو تہ تیغ کرنے کے بعد جام شہادت نوش کر لیا۔
امام علیہ السلام آپ کے سرہانے پہنچے اور یوں فریاد بلند کی: «الآنَ انْكَسَرَ ظَهْرى‏ وَقَلَّتْ حيلَتى» اب میری کمر ٹوٹ گئی اور کوئی چارہ کار باقی نہ رہا۔
صاحب لہوف اور مثیر الاحزان نے جناب عباس کی شہادت کو دوسرے انداز سے بیان کیا ہے:
جب امام عالی مقام پر پیاس کا غلبہ ہوا اپنے بھائی کے ہمراہ فرات کی طرف روانہ ہوئے دشمنوں نے حملہ کر کے دونوں کو الگ الگ کر دیا اور جناب عباس شہید ہو گئے۔
ابن شہر آشوب آپ کی شہادت کے بارے میں رقمطراز ہیں: جناب عباس، حرم حسینی کے سقا، قمر بنی ہاشم اور لشکر حسینی کے علمبردار اپنے دوسرے بھائیوں سے بڑے تھے پانی کے لیے فرات کی طرف روانہ ہوئے ۔دشمن نے آپ پر حملہ کیا اور آپ نے بھی ان کا جواب دیا اور یوں رجز پڑھی:

لا ارْهَبُ الْمَوْتَ إِذِ الْمَوْتُ رُقا

حَتَّى اوارى‏ فى‏ الْمَصالِيتِ لِقا
نَفْسى‏ لِنَفْسِ الْمُصْطَفى الْطُّهر وَقا
إنّى‏ أَنَا الْعَبَّاسُ أَعْدُو بِالسَّقا
وَلا أَخافُ الشَّرَّ يَوْمَ الْمُلْتَقى‏
میں موت سے نہیں ڈرتا اس لیے کہ موت ذریعہ کمال ہے۔ یہاں تک کہ میرا بدن دلیر مردوں کی طرح خاک و خوں میں غلطاں ہو جائے۔
میری جان فدا ہو نفس مصطفیٰ پر جو پاک و مطہر ہے۔ میں عباس ہوں سقا میرا لقب ہے۔ اور ہر گز دشمن کے ساتھ ملاقات کے وقت سے خوف و ہراس نہیں رکھتا۔
اس کے بعد آپ نے حملہ کیا اور دشمن کو تہس نہس کر دیا زید بن ورقا جہنی درخت کے پیچھے آپ کی تاک میں بیٹھا ہوا تھا اور حکیم بن طفیل سنبسی کی مدد سے ایک ضربت ماری اور آپ کا دائیاں بازوں قلم کر دیا۔
جناب عباس نے تلوار کو دوسرے ہاتھ میں لیا اور یوں رجز پڑھی:

وَاللَّهِ إِنْ قَطَعْتُمُ يَمينى‏

إنّى‏ أُحامِى أبَداً عَنْ دينى‏
وَعَنْ إمامٍ صادِقِ الْيَقينِ
نَجْلِ النَّبىِّ الْطَّاهِرِ الأَمينِ‏
خدا کی قسم اگر میرا دائیں ہاتھ قلم کیا [ تو کوئی بات نہیں] میں ابھی بھی اپنے دین کا دفاع کروں گا اور اپنے سچے امام کی حمایت کروں گا جو پاک اور امین نبی کا فرزند ہے۔
مسلسل جنگ میں مصروف رہے یہاں تک کہ ضعف بدن پر طاری ہو گیا اسی ہنگام حکیم بن طفیل طائی کہ جو درخت کی کمین میں تھا نے دوسرا وار کیا تو بائیاں بازوں بھی قلم ہو گیا۔ آپ نے پھر رجز پڑھی:

يا نَفْسِ لا تَخْشى‏ مِنَ الْكُفَّارِ

وَأَبْشِرى‏ بِرَحْمَةِ الْجَبَّارِ
مَعَ الْنَّبى‏ السَّيِّد الْمُختارِ
قَدْ قَطَعُوا بِبَغْيِهِم يِسارى‏
فَأصْلِهِمْ يا ربِّ حَرِّ النَّارِ
اے نفس کافروں سے مت ڈر اور خدائے جبار کی رحمت اور پیغمبر اکرم [ص] کی ہمنشینی کی بشارت ہو۔ انہوں نے ظلم و ستم سے میرا بائیاں ہاتھ کاٹا پروردگارا انہیں دوزخ کی آگ میں جلا کر راکھ بنا دے۔
اس کے بعد اس ملعون نے ایک لوحے کے اسلحہ سے سر پر ضربت ماری اور آپ شہید ہو گئے۔
مرحوم علامہ مجلسی صاحب مناقب کے کلام کو نقل کرنے کے بعد بعض مرسل منابع سے حضرت عباس کی شہادت کی کیفیت کو بیان کرتے ہیں: جب جناب عباس نے اپنے بھائی کو تنھا محسوس کیا تو ان کے پاس گئے اور میدان میں جانے کی اجازت طلب کی۔ امام عالی مقام نے فرمایا: تم میرے علمبردار ہو میرے لشکر کے سردارہو ۔ عرض کیا: میرا دل تنگ ہو گیا ہے میں زندگی سے سیر ہو گیا ہوں میں ان منافقوں سے بدلنا لینا چاہتا ہوں۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: ان بچوں کے لیے تھوڑا سا پانی مہیا کر کے جاو۔ جناب عباس دشمنوں کی طرف آئے اور ان کو جتنا وعظ و نصیحت کیا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ امام کے پاس واپس گئے اور قضیہ کی اطلاع دی۔
اتنے میں بچوں کی العطش کی صدائیں سنائی دیں۔ مشک کو اٹھایا۔ اور گھوڑے پر سوار ہوئے تاکہ فرات کی طرف جائیں۔ چار ہزار سپاہیوں نے جو فرات پر پیرا دے رہے تھے آپ کو محاصرہ میں لے لیا اور تیروں کی بارش شروع کر دی۔
انہیں دور بھگایا اور ایک روایت کے مطابق ان میں سے اسّی سپاہیوں کو فی نار جہنم کیا۔ فرات میں داخل ہوئے چلّو میں پانی لیا تاکہ اسے پئیں۔ مگر امام حسین علیہ السلام اور ان کے بچوں کی پیاس یاد آ گئی۔ پانی کو پھینک دیا اور مشک کو پانی سے بھرا۔ اور اسے دائیں بازوں پر لگا کر خیموں کا رخ کیا۔ دشمنوں نے راستہ روک لیا۔اور ہر طرف سے آپ کو محاصرہ میں لے لیا۔ جناب عباس نے ان کے ساتھ جنگ شروع کر دی یہاں تک کہ نوفل ازرقی نے آپ کا دائیاں بازوں قلم کر دیا۔ مشک کو بائیں شانہ پر لٹکایا۔ نوفل نے دوسری ضربت سے بائیاں بازوں بھی قلم کر دیا۔ جناب عباس سے مشک کو دانتوں میں لیا اور گھوڑے کو دوڑایا۔ اتنے میں ایک تیر مشک پر پیوست ہوا اور سارا پانی بہ گیا۔ دوسرا تیر آپ کے سینے پر لگا اور آپ زین سے زمین پر گرے۔ اور امام حسین علیہ السلام کو آواز دی۔ مولا ادرکنی۔
جب امام علیہ السلام آپ کے قریب پہنچے تو آپ خون میں لت پت ہو چکے تھے امام علیہ السلام نے حسرت سے فرمایا: الان انکسر ظھری و قلت حیلتی"۔ اب میری کمر ٹوٹ گئی اور میں بے چارہ ہو گیا۔
زیارت ناحیہ میں آپ پر یوں سلام کیا گیا ہے:
السَّلامُ عَلى أبى‏ الْفَضْلِ العَبَّاسِ بْنِ أَميرِالْمُؤمنينَ المُواسي أَخاهُ بِنَفْسِهِ، أَلآخِذُ لِغَدِهِ مِنْ أَمْسِهِ، الْفادى‏ لَهُ الواقى‏ السَّاعى‏ إِلَيْهِ بِمائِه، الْمَقطُوعَةِ يَداه- لَعَنَ اللَّهِ قاتِلَيهُ يَزيدَ بْنَ الرُّقادِ الجُهَنىّ، وَحَكيمِ بْنِ الطُّفَيلِ الطَّائى‏.
سلام ہو ابو الفضل العباس ابن امیر المومنین پر جنہوں نے اپنے بھائی کی خاطر اپنی جان نثار کر دی۔ جنہوں نے گزشتہ کل سے آئندہ کے لیے ذخیرہ کر لیا۔ جنہوں نے اپنے آپ کو ڈھال قرار دیا اور فدا کر دیا۔ اور پانی پہنچانے کی سعی ناتمام کی یہاں تک کہ دونوں ہاتھ قلم ہو گئے۔ خدا کی لعنت ہو ان کے قاتل یزید بن رقاد جہنی اور حکیم بن طفیل طائی پر ۔
جناب عباس کا روضہ نہر علقمہ کے پاس دوسرے شہدا سے الگ ہے اور آپ کا نورانی حرم تمام عاشقان کے لیے آماجگاہ ہے۔

Tuesday, October 28, 2014

Abbas as kay name

حضرت عباس علیہ السلام
منقبت مولا عباس علیہ السلام

جب قلم لکھنے لگا حضرتِ عباس کا نام
پھول بن بن کے کھلا حضرتِ عباس کا نام
جب بھی آلودہ فضاﺅں میں کھلے اُن کا علم
پاک کرتا ہے فضا حضرتِ عباس کا نام
یوں لگا گھر میں میرے چاند اُتر آیا ہے
میں جو دُہراتا رہا حضرتِ عباس کا نام
تھی کڑی دھوپ مجھ پہ گھنا سایا تھا
بس میرے ذہین میں تھا حضرتِ عباس کا نام
مشکلیں آ کے میرے پاس پڑی مشکل میں
اُن کوبھی لینا پڑا حضرتِ عباس کا نام
نام عباس کا عباس نہیں ہو تا اگر
بلقین ہوتا وفا حضرتِ عباس کا نام
مجھ کو ریحان میری ماں نے سکھائی ہے یہ بات
بس وظیفہ ہو تیرا حضرتِ عباس کا نام


کچھ مشہور القابات:
 ۱۔قمر بنی ہاشم: حضرت عباس(ع) خوش چہرہ و رخسار تھے اور چہرے کی چمک کمال و جمال کی نشانیوں میں شمار ہوتا تھا چنانچہ آپ کو قمر بن ہاشم کا لقب لیا گیا تھا۔
۲۔ باب الحوائج: حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کے مشہور ترین القاب میں سے ایک باب الحوائج ہے اور آپ کا یہ لقب آشناترین اور مشہورترین لقب یہی ہے۔
 یعنی حضرت عباس علمدار(ع) ایک کریم ہیں کریموں کے خاندان سے کہ جب بھی کوئی ان کی درگاہ سے کوئی حاجت مانگتا ہے خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔
۳۔ طیار: یہ لقب عالم قدس اور بہشت جاویدان کی فضاو ¿ں میں حضرت ابوالفضل العباس(ع) کی شان و مرتبت کو نمایاں کرتا ہے۔ امیرالمو ¿منین(ع) نے فرمایا: "عباس کے ہاتھ حسین(ع) کی حمایت میں قلم ہونگے اور پروردگار متعال اس کو دو شہپر عطا فرمائے گا اور وہ اپنے چچا جعفر طیار(ع) کی مانند جنت میں پرواز کرے گا۔
 ۴۔الشہید: شہادت ابوالفضل(ع) کا نمایاں ترین نشان ہے جو آپ کی حیات مبارکہ کے افق پر چمک رہا ہے اور آپ کے اس لقب کی بنیاد آپ کی شہادت ہی ہے۔
 ۵۔ سقّا :؛ دلاوری عباس پیاسوں تک پانی کا پہنچانا تھی ، اسی وجہ سے آپ کوسقا کا لقب ملا . علامہ قرشی لکھتے ہیں: سقا حضرت عباس کے اہم ترین القاب میں سے ایک لقب ہے جو حضرت عباس(ع) کو بہت پسند تھا۔
 ۶۔بَطَل ± العَلقَمی: علقمی بہادر یا علقمی غازی۔ اس لقب کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عباس(ع) نہر علقمہ کے کنارے شہید ہوئے۔ علقمہ اس نہر کا نام تھا جس پر اموی لشکر کا بھاری پہرا تھا تاکہ اصحاب حسین(ع) میں سے کوئی وہاں تک رسائی نہ پاسکے اور حسین(ع) اور آپ کے اہل بیت اور اصحاب پیاسے رہیں۔
۷۔ عبد صالح: یہ وہ لقب ہے جس کی طرف امام صادق(ع) نے بھی آپ کے زیارتنامے میں اشارہ فرمایا ہے۔ : "اَلسَّلام ± عَلیک اَیہاَ العَبد ± الصّالِح ± الم ±طع ± لللہِ وَلِرَس ±ولِ وَلاَِمیرِالم ±و ¿مِنینَ وَالحَسَنِ والح ±سینَ صَلَّ اللہ ± عَلَیہِم وَسَلَّمَ"۔ (ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے خدا کے نیک بندے اے اللہ، اس کے رسول، امیرالمو ¿منین اور حسن و حسین صلی اللہ علیہم و سلم، کے اطاعت گزار و فرمانبردار۔۔۔"۔
۸۔ علمدار: حضرت عباس کے مشہور القاب میں علمدار (حامل اللوائ ) شاملہ ہے؛ حضرت عباس(ع) روز عاشور اہم ترین اور قابل قدر ترین پرچم کے حامل تھے جو احرار عالم کے باپ سیدالشہدائ امام حسین(ع) کا پرچم تھا۔
۹۔ کبش الکتیبہ: وہ لقب ہے جو سپہ سالاری کے زمرے میں اعلی ترین رتبے کے حامل سپہ سالار کو دیا جاتا ہے اور اس کی بنیاد ح ±سنِ تدبیر اور شجاعت و دلاوری نیز ماتحت افواج کو محفوظ رکھنے جیسے اوصاف ہوتے ہیں۔
 ۰۱۔سپہ سالار: آپ روز عاشور بھائی کے لشکر کے اعلی ترین سپہ سالار تھے اور سپاہ حسین(ع) کے عسکری قائد تھے؛ چنانچہ آپ کو یہ لقب عطا ہوا ہے۔
۱۱۔حامی الظعینہ (خواتین کا حامی): حضرت ابوالفضل قمر بنی ہاشم علیہ السلام کے مشہور ترین القاب میں سے ایک حامی الظعینہ ہے۔ سید جعفر حلی نے اپنے عمدہ قصیدے میں حضرت ابو الفضل کے سوگ میں اظہار غم کرتے ہوئے اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے:
"۰۱۔سپہ سالار: آپ روز عاشور بھائی کے لشکر کے اعلی ترین سپہ سالار تھے اور سپاہ حسین(ع) کے عسکری قائد تھے؛ چنانچہ آپ کو یہ لقب عطا ہوا ہے۔
۱۱۔حامی الظعینہ (خواتین کا حامی): حضرت ابوالفضل قمر بنی ہاشم علیہ السلام کے مشہور ترین القاب میں سے ایک حامی الظعینہ ہے۔ سید جعفر حلی نے اپنے عمدہ قصیدے میں حضرت ابو الفضل کے سوگ میں اظہار غم کرتے ہوئے اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے:
"حامی الظعینہ کہاں، ربیعہ کجا، حامی الظعینہ کے باپ امام المتقین کہاں اور مکدّم کجا"۔

Saturday, October 18, 2014

جناب سکینہ علیھا السلام

جناب سکینہ علیھا السلام
  اکثرموٴرخین لکھتے ھیں : آپ کی وفات کی علامت وہ خواب تھا،جو آپ نے زندان شام میں دیکھاتھا،چنانچہ شیخ عباس قمی رحمۃ اللہ علیہ نے” منتھی الامال“[i] میں کتاب” عثیرالاحزان“ کے حوالہ سے نقل کیاھے کہ یزیدنے اہلبیت علیھم السلام کوایسے زندان میں قیدکیاتھاجس میں سردی اور گرمی سے بچنے کے لئے کوئی انتظام نہ تھا، یھاں تک کے شدت گرمی سے ان کے جسموں کی کھال اُترنے لگی تھی ، اوران سے زرد پانی اورپیپ جاری ھوگیاتھا،بعض مقاتل میں ھے کے اہلبیت علیہم السلام جس مقام میں قیدتھے وہ ایک کھنڈرکی شکل میں تھا،کیونکہ یزیدکایہ مقصدتھاکہ وہ مکان ان پرگرپڑے اوریہ سب کے سب ختم ھوجائے۔
شیخ بھائی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ھیں : خاندان نبوت علیہ السلام کی خواتین، جب مقید کر کے لے جائی جانے لگیں تو وہ اپنے مردوں کے حالات جو شھید ھوگئے تھے، بچوں اور بچیوں سے پوشیدہ رکھتی تھیں ،اورھربچہ سے کہتی تھیں کہ ”تمھارے باپ فلاں سفرپرگئے ھوئے ھیں ،اوروہ واپس آجائےں گے“ یھاں تک کے وہ یزیدکے قیدخانہ میں پہنچ گئےں ،ان میں ایک چارسال کی بچی تھی ، یہ بچی ایک رات نیندسے بیدارھوئی اورکہنے لگی:” میرے باباحسین علیہ السلام کھاں ھیں ؟ میں نے ابھی خواب میں دیکھاھے“ وہ بچی بہت پریشان ھوئی، جس سے تمام خواتین اور بچے بھی رونے لگے ،اور جب انکی آہ وفغاں بلند ھوئی تو یزید جو اپنے قصرمیں سورھا تھا وہ بیدار ھوگیا،اور حالات معلوم کئے اسے تمام واقعہ بتایا گیا،تو وہ لعین کہنے لگا ، کہ اس کے باپ کا سر لے جاکر اس کے پاس رکھ دیا جائے پس وہ سرلایاگیا،اوراس چارسالہ بچی کے پاس رکھ دیاگیا،اس نے دریافت کیاکہ یہ کیاچیزھے؟ توبتایاگیاکہ ”یہ تمھارے پدرکاسرھے، وہ بچی ڈرگئی اورفریادکرنے لگی، اور بیمارھوگئی، اوراسی حالت میں اس کی روح قفس عنصری سے پروازکرگئی۔ [ii]

جناب سکینہ علیھا السلام کی قبرمیں پانی کابھرجانا
حاج ملا ھاشم خراسانی کتاب -”منتخب التواریخ“میں نقل کرتے ھیں کہ عالم جلیل شیخ علی شامی رحمۃ اللہ علیہ نے نجف اشرف میں حقیر (ھاشم خراسانی )سے کھا تھا کہ میرے جد بزرگوار آقا سید ابراھیم دمشقی جن کا نسب سید مرتضٰی رحمۃ اللہ علیہ (علم الھدیٰ)سے ملاتا ھے ، بہت بزرگ اور محترم شخصیت کے حامل تھے ، آپ کی تین بیٹیاں تھیں ، ایک رات بڑی بیٹی نے خواب میں جناب سکینہ علیھا السلام کو یہ کہتے دیکھا: ”اپنے پدر سے کھو کہ میری قبر میں پانی بھر گیا ھے ،اور میری لحد اور بدن زیر آب ھے ، جس سے مجھے اذیت ھورھی ھے ،والی شام سے جاکر کھے کہ میری قبر کو تعمیر کروائے “صبح کو لڑکی نے اپنے والد سے خواب بیان کیا ،مگر سید نے دشمنوں کے خوف کی وجہ سے خواب پر زیادہ توجہ نھیں دی ۔
دوسری شب سید کی دوسری بیٹی نے یھی خواب دیکھا اور اپنے والدسے بیان کیا ، مگر سید نے پھر کوئی اھمیت نہ دی ۔
تیسری شب سید کی چھوٹی بیٹی نے اسی طرح کا خواب دیکھا ،اوراس بار خواب میں جناب سکینہ علیھا السلام نے تاکید کرتے ھوئے فرمایا : آخر کیوں تیرے والد والی شام کو کیوں نھیں خبر دیتے ؟
صبح سیدنے والی شام سے اس خواب کوبیان کیا،اس نے حکم دیاکہ تمام شام کے علماء وصلحاء جائےں غسل کریں اورپاک لباس زیب تن کریں ، پھرحرم کے قفل کوکھولےں ،اورجس کے ھاتھ سے قفل کھل جائے ،وھی قبربھی کھولے ،اس کے بعدجسدمطھرکوباھرنکالے اوردوبارہ قبرکوتعمیرکرے ۔
پس تمام علماء نے مکمل آداب کے ساتھ غسل کیا،اورپاک کپڑے پہنے ،مگرکسی کے ھاتھوں سے قفل نھیں کھل سکاسوائے مرحوم سیدابراھیم رحمۃ اللہ علیہ کے، البتہ بعد میں تمام علماء وصلحاء حرم شریف میں داخل ھوئے،اورھرایک نے کدال اُٹھاکرزمین کوکھودناشروع کیامگرکسی کی بھی کدال زمین پراثر نہ کرسکی سوائے سیدکے ،اس کے بعدحرم کوخالی کیاگیا،اورلحدکوشگافتہ کیاگیا،سید رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھاکہ ایک بدن نازنین لحداورکفن کے درمیان بالکل صحیح وسالم ھے ،لیکن پانی لحد میں بہت زیادجمع ھے،سیدابراھیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس مخدرہٴ عصمت وطھارت علیہ السلام کے جسم اقدس کولحدسے باھرنکالااوراپنے زانوں پررکھا،تین روزتک آپ نے اسی طرح اپنے زانوں پرجسدمبارک کو رکھے رکھا،اورگریہ کرتے رھے ،تین روزبعدجب پانی بالکل خالی کردیاگیا آپ نے اس جسم نازنین کوپھرسے لحدمیں بندکردیا،اس درمیان نمازکے اوقات میں سید؛جناب سکینہ علیھا السلام کے لاشہ کوکسی پاک جگہ رکھ دیتے تھے ، اس معجزہ کی وجہ سے سیدابراھیم رحمۃ اللہ علیہ کوان تین دنوں میں نہ بھوک کااحساس ھوانہ پیاس کی شدت محسوس ھوئی اورنہ ھی آپ کاوضوباطل ھوا،جب آپ اس مخدرہٴ عصمت و طھارت کو دفن کررھے تھے،تو آپ نے دعاکی کہ یاخدا !مجھے ایک بیٹاعطاکر،چنانچہ سید کی یہ دعامستجاب ھوئی، اوراس ضعیفی میں خدانے فرزندکی دولت عطافرمائی ،جسکانام آپ رحمۃ اللہ علیہ نے سیدمصطفی رکھا،یہ واقعہ ۱۲۸۰ ھ ء میں پیش آیاتھا۔[iii]
آج جناب سکینہ علیھا السلام کے مرقداقدس کی وجہ سے شھردمشق منورھے، اور آپ کاحرم ناصرف یہ کہ شیعوں کی زیارت گاہ بناھواھے، بلکہ اہل سنت بھی اس سے کافی عقیدت رکھتے ھیں ،جناب سکینہ علیھا السلام کاحرم آج بھی انسانی ذہنوں کوچودہ سوسال پُرانی یاددلاتاھے ،کہ یزیداپنی تما ترکوششوں کے باوجوداسلام کے نام کونہ مٹاسکا،بلکہ اس کوشش میں وہ خودمٹ گیا، آج اسلام بھی زندہ ھے اور بحمداللہ اس کے بچانے والے اہلبیت علیھم السلام بھی زندہ ھیں ۔

حشر تک سوئے گی زنداں میں سکینہ چین سے
کہئے گا بابا سے اب تڑپیں نہ دختر کے لئے
(علامہ ذیشان حیدر جوادی )
-----------------------------

[i] ماخوذاز” منتھی ال آمال“ ج ۱ ،فصل۸
[ii] ماخوذ از”منتھی ال آمال“ج ۱ ، فصل۸
[iii] ”منتخب التواریخ“ص۳۸۸

 

نوحہ,


نوحہ, 

سکینہ ناز پرور قید خانے میں رسن بستہ
ستم بِن باپ کی بچی پہ ڈھاتی ہے عدُو کیسا

پدر کے سینے پر آرام جو کرتی تھی شہزادی
اندھیرے قید خانے کی زمیں پر ہے اُسے سونا
سکینہ ناز پرور ۔۔۔۔۔

شاہِ والا کی پیاری کی ہے کیسی دیکھیئے غُربت
جو برسے اُس تن پر توسہارا ہے پھٹا کُرتا
سکینہ ناز پرور ۔۔۔۔۔

ستم گر نے یوں کھینچا گوشواروں کو سکینہ کے
مچل کررِہ گئی بچی لہو کانوں سے بہتا تھا
سکینہ ناز پرور ۔۔۔۔۔

مصائب چار سالہ شہہ کی دُختر نے سہے کیا کیا
یتیمی اور اسیری قید خانہ شمر کی ایزا
سکینہ ناز پرور ۔۔۔۔۔

جو دیکھا خواب میں چہرا پِدر کا رو اُٹھی بچی
پِدر کے غم میں روئی تو ملا پُرسہ تماچوں کا
سکینہ ناز پرور ۔۔۔۔۔

ڈھایا ظلم ظالم نے سکینہ پر کہا رو کر
بچا لے شمر سے اس دم نہ روئوں گی میں اب بھیّا
سکینہ ناز پرور ۔۔۔۔۔

فصّی اپنے پِدر کا سر جو دیکھا طشت میں اُس نے
پھٹے دامن کو پھیلا کر کہا آجائیے بابا
سکینہ ناز پرور ۔۔۔۔۔

نوحہ

نوحہ
زندان میں سکینہ عابد سے کہہ رہی ہے
دم گُھٹ رہا ہے بھیا یہ رات آخری ہے

جَلا میرا کُرتا چھینے گوشوارے
ستم گرنے مجھکو طمانچے ہیں مارے
ستاتے ہیں مجھکو یہ بابا کے قاتل
یہ دُکھیا مصیبت میں کس کو پکارے
بابا کے قاتلوں سے ہرگز کفن نہ لینا 
ہے یہ میری وصیّت خواہش میری یہی ہے

سکینہ پہ بھیا کٹھن یہ گھڑی ہے
اسیری ہے مجھ پر مصیبت بڑی ہے
وطن یاد آتا ہے بھیا چلو گھر
مدینے کی راہوں پہ صغرا کھڑی ہے
ہر شام یہ پرندے جاتے ہیں اپنے گھرکو
    کب جاو نگی وطن میں روکر وہ پوچھتی ہے  

        
مری دادی زہرا کا رتبہ ہے عالی
یہ حق جنکی چوکھٹ سے لوٹا نہ خالی
فدک بھیک میں ہم نے جنکو دیا ہو
سکینہ کفن کی ہو اُن سے سوالی!
بابا کے قاتلوں سے ہرگز کفن نہ لینا   
ہے یہ میری وصیّت خواہش میری یہی ہے 

جو محوِ خطابت سرِ شاہِ دیں ہے
سناں پر وہ دوشِ نبی کا مکیں ہے
ہُوا ہے جو فلک سے پتھر سے ظاہر
ہے وہ خونِ نا حق جو چھپتا نہیں ہے
نیزے پہ شاہِ دیں کے سر کا خطاب کرنا   
مقتول کا تصرّف قاتل کی بے بسی ہے 

زمین پر میں زنداں کی سوتی ہوں بابا
میں اشکوں سے دامن بھگوتی ہوں بابا
خدارا مجھے پاس اپنے بلالو
جدا ہو کے تم سے میںروتی ہوں بابا
صدیاں گزر چکی ہیں اب بھی ہر اک محب کو  
زنداں سے سسکیوں کی آواز آرہی ہے

شاعر: محب فاضلی
 نوحہ خواں سنگت: ناظم پارٹی، انجمن شباب المومنین، کراچی