Wednesday, August 5, 2015

Home

حضرت علی(ع) کے متعلق قرآن کریم کی آیتیں,Home

  • حضرت علی(ع) کے متعلق قرآن کریم کی آیتیں

حضرت علی(ع) کے متعلق قرآن کریم میں متعدد آیات نا زل ھو ئی ھیں ، قرآن نے رسول اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے بعد آپ(ع) کواسلام کی سب سے بڑی شخصیت کے عنوان سے پیش کیا ھے ،اللہ کی نگاہ میں آپ(ع) کی بڑی فضیلت اوربہت اھمیت ھے ۔متعدد منابع و مصادر کے مطابق آپ(ع) کی شان میں تین سو آیات نازل ھوئی ھیں[1] جو آپ(ع) کے فضل و ایمان کی محکم دلیل ھے۔
یہ بات شایان ذکر ھے کہ کسی بھی اسلا می شخصیت کے سلسلہ میں اتنی آیات نازل نھیں ھوئیں آپ کی شان میں نازل ھونے والی آیات کی مندرجہ ذیل قسمیں ھیں :
۱۔وہ آیات جو خاص طور سے آپ کی شان میں نازل ھوئی ھیں ۔
۲۔وہ آیات جو آپ(ع) اور آپ(ع) کے اھل بیت(ع)کی شان میں نازل ھو ئی ھیں ۔
۳۔وہ آیات جو آپ(ع) اور نیک صحابہ کی شان میں نازل ھو ئی ھیں ۔
۴۔وہ آیات جو آپ(ع) کی شان اور آپ(ع) کے دشمنوں کی مذمت میں نازل ھو ئی ھیں ۔
ھم ذیل میں ان میں سے کچھ آیات نقل کر رھے ھیں :
آپ(ع) کی شان میں نازل ھونے والی آیات
آپ(ع)کی فضیلت اورعظیم الشان منزلت کے بارے میں جوآیات نازل ھوئی ھیں ھم ان میں سے ذیل میں بعض آیات پیش کرتے ھیں :
۱۔اللہ کا ارشاد ھے :”انماانت منذرولکل قوم ھاد“۔[2]
”آپ کہہ دیجئے کہ میں صرف ڈرانے والا ھوں اور ھر قوم کے لئے ایک ھادی اور رھبر ھے “۔
طبری نے ابن عباس سے نقل کیا ھے کہ جب یہ آیت نازل ھو ئی تو نبی نے اپنا دست مبارک اپنے سینہ پر رکھ کر فرمایا:”اناالمنذرولکل قوم ھاد “،اور آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے علی(ع) کے کندھے کی طرف اشارہ کرتے ھوئے فرمایا:”انت الھادي بک یھتدي المھتدون بعدي“۔[3]
”آپ ھا دی ھیں اور میرے بعد ھدایت پانے والے تجھ سے ھدایت پا ئیں گے “۔
۲۔خداوند عالم کا فرمان ھے :”وتعیھااذن واعیة“۔[4]
”تاکہ اسے تمھارے لئے نصیحت بنائیںاور محفوظ رکھنے والے کان سُن لیں“۔
امیر المو منین حضرت علی(ع) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ھیں کہ مجھ سے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اسلام نے فرمایا:
”سالتُ رَبِّیْ اَن یَجْعَلَھَااذُنُکَ یاعلیُّ،فماسمعتُ مِنْ رسُولِ اللّٰہِ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) شَیْئاًفنَسِیْتُہُ “۔[5]
”میں نے پروردگار عالم سے دعا کی کہ وہ کان تمھارا ھے لہٰذا میں نے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے جو کچھ سنا ھے اسے کبھی نھیں بھولا“۔
۳۔خداوند عالم کا فرمان ھے :<الَّذِینَ یُنفِقُونَ اٴَمْوَالَہُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَار ِسِرًّا وَعَلاَنِیَةً اسباب النزول ِ واحدی، صفحہ ۳۲۹۔تفسیر طبری، جلد ۲۹،صفحہ ۳۵۔تفسیر کشاف، جلد ۴، صفحہ ۶۰۔در منثور ،جلد ۸،صفحہ ۲۶۷۔ فَلَہُمْ اٴَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلاَخَوْفٌعَلَیْہِمْ وَلاَہُمْ یَحْزَنُونَ>۔[6]
”جو لوگ اپنے اموال کو راہ خدا میں رات میں ،دن میں خا مو شی سے اور علی الاعلان خرچ کرتے ھیں اُن کے لئے پیش پروردگار اجر بھی ھے اور انھیں نہ کو ئی خوف ھو گا اور نہ حزن و ملال “۔
امام(ع) کے پاس چار درھم تھے جن میں سے آپ(ع) نے ایک درھم رات میں خرچ کیا ،ایک درھم دن میں ،ایک درھم مخفی طور پر اور ایک درھم علی الاعلان خرچ کیا ۔تو رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے آپ(ع) سے فرمایا : آپ(ع) نے ایساکیوں کیا ھے ؟مولائے کا ئنات نے جواب دیا:میں وعدہ پروردگار کامستحق بنناچاہتا ھوں اسی لئے میں نے ایسا کیا “اس وقت یہ آیت نازل ھو ئی۔[7]
۴۔خدا وند عالم کا ارشاد ھے :<إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلَئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ >۔[8]
”اور بیشک جو لوگ ایمان لائے ھیںاور انھوں نے نیک اعمال کئے ھیںوہ بہترین خلائق ھیں “۔
ابن عساکر نے جابر بن عبد اللہ سے روایت کی ھے : ھم نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خدمت میں حاضر تھے کہ علی(ع) وھاں پر تشریف لائے تو رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:”وِالَّذِیْ نَفْسِيْ بِیَدِہِ اِنَّ ھٰذَا وَشِیْعَتَہُ ھُمُ الْفَائِزُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ “۔”خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ھے بیشک یہ اور ان کے شیعہ قیامت کے دن کامیاب ھیں “۔
اسی موقع پر یہ آیہ کریمہ نازل ھو ئی ،اس کے بعد سے جب بھی مو لائے کا ئنات اصحاب کے پاس آتے تھے تو نبی کے یہ اصحاب کھا کرتے تھے :خیر البریہ آئے ھیں۔[9]
۵۔خداوند عالم کا فرمان ھے :< فَاسْاٴَلُوا اٴَہْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ >۔[10]
”اگر تم نھیں جانتے ھو تو جاننے والوں سے دریافت کرو“۔
طبری نے جابر جعفی سے نقل کیا ھے :جب یہ آیت نازل ھو ئی تو حضرت علی(ع) نے فرمایا :”ھم اھل ذکر ھیں “۔[11]
۶۔خداوند عالم کا فرمان ھے :< یَااٴَیُّہَاالرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَابَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ إِنَّ اللهَ لاَیَہْدِي الْقَوْمَ الْکَافِرِین>۔[12]
”اے پیغمبر! آپ اس حکم کو پھنچا دیں جوآپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ھے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گو یا اس کے پیغام کو نھیں پھنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا بیشک اللہ کافروں کی ھدایت نھیں کرتا ھے“۔
جب رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) حجة الوداع سے واپس تشریف لا رھے تھے تو غدیر خم کے میدان میں یہ آیت اس وقت نازل ھوئی جب آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو اپنے بعد حضرت علی(ع) کواپنا جانشین معین کرنے کا حکم دیا گیا اس وقت رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے حضرت علی(ع) کو اپنے بعد اس امت کا خلیفہ و جا نشین معین فرمایااور آپ(ع) نے اپنا مشھور قول ارشاد فرمایا :”من کنت مولاہ فعلی مولاہ ،اللّھم وال من والاہ،وعادِمَن عاداہ، وانصرمَن نصرہ،واخذُلْ مَنْ خَذَلَہُ“۔
” جس کا میں مو لا ھوں اس کے یہ علی بھی مو لا ھیںخدا یا جو اسے دو ست رکھے تو اسے دوست رکھ اورجو اس سے دشمنی کرے اسے دشمن رکھ اور جو اس کی مدد کرے اس کی مدد کر جو اسے چھوڑ دے اسے ذلیل و رسوا کر “ ۔
عمر نے کھڑے ھو کر کھا :مبارک ھو اے علی بن ابی طالب آپ(ع) آج میرے اورھر مومن اور مومنہ کے مولا ھوگئے ھیں ‘ ‘۔[13]
۷۔خداوند عالم کا ارشاد ھے :< الْیَوْمَ اٴَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَاٴَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِي وَ رَضِیتُ لَکُمْ الْإِسْلاَمَ دِینًا>۔[14]
”آج میں نے تمھارے لئے دین کو کا مل کردیاھے اوراپنی نعمتوںکو تمام کردیاھے اورتمھارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنا دیا ھے“۔
یہ آیت ۱۸ ذی الحجہ ۱۰ سن ھ کواس وقت نازل ھو ئی جب رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے اپنے بعد کےلئے حضرت علی(ع) کو خلیفہ معین فرمایااور آنحضرت نے اس آیت کے نازل ھونے کے بعد فرمایا : ”اللّٰہ اکبر علیٰ اِکمالِ الدِّین،وَاِتْمَامِ النِّعْمَةِ،ورضِیَ الرَّبِّ بِرِسَالَتِي وَالْوِلایَةِ لِعَلِيْبنِ اَبِیْ طَالِب“۔[15]
”اللہ سب سے بڑا ھے دین کا مل ھو گیا ،نعمتیں تمام ھو گئیں ،اور پروردگار میری رسالت اور علی بن ابی طالب(ع) کی ولایت سے راضی ھو گیا “۔
جلیل القدر صحابی جناب ابوذر سے روایت ھے :میں رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) خدا کے ساتھ مسجد میں نمازظھر پڑھ رھا تھا تو ایک سائل نے مسجد میں آکر سوال کیا لیکن کسی نے اس کو کچھ نھیں دیا تو سائل نے آسمان کی طرف ھاتھ اٹھا کر کھا :خدا یا گواہ رھنا کہ میں نے مسجد رسول میں آکر سوال کیا لیکن مجھے کسی نے کچھ نھیں دیا ، حضرت علی(ع) نے رکوع کی حالت میں اپنے داھنے ھاتھ کی انگلی سے انگوٹھی اتارنے کا اشارہ کیاسائل نے آگے بڑھ کر نبی(ع) کے سامنے ھاتھ سے انگوٹھی نکال لی ،اس وقت رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اسلام نے فرمایا :خدایا !میرے بھا ئی مو سیٰ(ع) نے تجھ سے یوں سوال کیا : <رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ۔وَیَسِّرْلي اٴَمْرِي۔وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِی۔یَفْقَہُوا قَوْلِي وَاجْعَلْ لِي وَزِیرًامِنْ اٴَہْلِي ہَارُونَ اٴَخي اشْدُدْ بِہِ اٴَزْرِي۔وَاٴَشْرِکْہُ فِي اٴَمْرِی >۔[16]
”خدایا ! میرے سینہ کو کشادہ کردے ،میرے کام کو آسان کردے ، اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات سمجھ سکیں ،اورمیرے اھل میںسے میرا وزیر قرار دے ،ھارون کو جو میرا بھا ئی بھی ھے اس سے میری پشت کو مضبوط کردے اسے میرے کام میں شریک کردے “تونے قرآن ناطق میں نازل کیا :< سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِاٴَخِیکَ وَنَجْعَلُ لَکُمَا سُلْطَانًا>۔[17]
” ھم تمھارے بازؤوں کو تمھارے بھا ئی سے مضبوط کر دیں گے ،اور تمھارے لئے ایسا غلبہ قراردیں گے کہ یہ لوگ تم تک پھنچ ھی نہ سکیں گے “۔
”خدایا میں تیرا نبی محمد اور تیرا منتخب کردہ ھوں میرے سینہ کو کشادہ کردے ،میرے کام کو آسان کردے ،میرے اھل میںسے علی(ع)کو میرا وزیر قرار دے اور ان کے ذریعہ میری پشت کو مضبوط کردے ‘ ‘ ۔
جناب ابوذر کا کھنا ھے :خدا کی قسم یہ کلمات ابھی ختم نھیں ھونے پائے تھے کہ جبرئیل خدا کا یہ پیغام لیکر نازل ھوئے ،اے رسول پڑھئے :<اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ۔۔۔>۔ [18]
اس روایت نے عام ولایت کو اللہ ،رسول اسلام اور امیر المو منین(ع) میں محصور کر دیا ھے ،آیت میں صیغہ جمع تعظیم و تکریم کے لئے آیا ھے ،جو جملہ اسمیہ کی طرف مضاف ھوا ھے اور اس کولفظ اِنَّما کے ذریعہ محصور کردیا ھے ،حالانکہ ان کے لئے عمومی ولایت کی تا کید کی گئی ھے اور حسان بن ثابت نے اس آیت کے امام(ع) کی شان میں نازل ھونے کو یوں نظم کیا ھے :
مَن ذَابِخَاتِمِہِ تَصَدَّقَ رَاکِعاً
وَاَسَرَّھَافِيْ نَفْسِہِ اِسْرارا۔[19]
”علی(ع) اس ذات کا نام ھے جس نے حالت رکوع میں زکات دی اور یہ صدقہ آپ(ع) نے نھایت مخفیانہ انداز میں دیا“۔
حوالہ جات
[1] تاریخ بغداد، جلد ۶،صفحہ ۲۲۱۔صواعق محرقہ ،صفحہ ۲۷۶۔نورالابصار ،صفحہ ۷۶،وغیرہ ۔
[2] سورئہ رعد، آیت ۷۔
[3] تفسیر طبری ،جلد ۱۳،صفحہ ۷۲۔اور تفسیر رازی میں بھی تقریباً یھی مطلب درج ھے ۔کنز العمال ،جلد ۶،صفحہ ۱۵۷ ۔ تفسیر حقائق، صفحہ ۴۲۔مستدرک حاکم، جلد ۳، صفحہ ۱۲۹۔
[4] سورئہ حاقہ، آیت ۱۲۔
[5] کنزالعمال ،جلد ۶،صفحہ ۱۰۸۔
[6] سورئہ بقرہ ،آیت ۲۷۴۔
[7] اسد الغابہ، جلد ۴،صفحہ ۲۵،صواعق المحرقہ، صفحہ ۷۸۔اسباب النزول مولف واحدی، صفحہ ۶۴۔
[8] سورئہ بینہ، آیت ۷۔
[9] در المنثور ”اسی آیت کی تفسیر میں “جلد ۸ ،صفحہ ۳۸۹۔تفسیر طبری، جلد ۳۰،صفحہ ۱۷۔صواعق المحرقہ ،صفحہ ۹۶۔
[10] سورئہ نحل، آیت ۴۳۔
[11] تفسیر طبری ،جلد ۸ ،صفحہ ۱۴۵۔
[12] سورئہ مائدہ ،آیت ۶۷۔
[13] ا سباب النزول، صفحہ ۱۵۰۔تاریخ بغداد، جلد ۸،صفحہ ۲۹۰۔تفسیر رازی، جلد ۴،صفحہ ۴۰۱۔در منثور، جلد ۶،صفحہ ۱۱۷۔
[14] سورئہ مائدہ ،آیت ۳
[15] دلائل الصدق ،جلد ۲،صفحہ ۱۵۲۔
[16] سورئہ طہ، آیت ۲۵۔۳۲۔
[17] سورئہ قصص، آیت ۳۵۔
[18] تفسیر رازی ،جلد ۱۲،صفحہ ۲۶،نورالابصار ،صفحہ ۱۷۰۔تفسیر طبری، جلد ۶،صفحہ ۱۸۶۔
[19] در منثور، جلد ۳،صفحہ ۱۰۶۔کشاف، جلد ۱،صفحہ ۶۹۲۔ذخائر العقبیٰ ،صفحہ ۱۰۲۔مجمع الزوائد ،جلد ۷،صفحہ ۱۷۔کنز العمال، جلد ۷صفحہ ۳۰۵۔ 

Home, ازواج مطہرات رضی اللہ




ازواج مطہرات رضی اللہ
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مختلف روایات میں گیارہ سے تیرہ ازواج کے نام ملتے ہیں جنہیں امہات المؤمنین کہا جاتا ہے یعنی مؤمنین کی مائیں۔ اس کے علاوہ انہیں ازواج مطہرات بھی کہا جاتا ہے۔

ازواج مطہرات رضی اللہ کے نام
حفصہ

مطلب:

شیرنی
انگریزی:
Hafsa
سودہ
مطلب: 
مشک، نشان
انگریزی: 
Saoda
زینب
مطلب: 
ایک خوشبودار خوبصورت درخت
انگریزی: 
Zainab

عائشہ
مطلب: 
زندگی والی
انگریزی: 
Aisha

جویریہ
مطلب: 
عہد و پیمان
انگریزی: 
Jawairia
خدیجہ
مطلب: 
ناتمام
انگریزی: 
Khadija
میمونہ
مطلب: 
برکت والی
انگریزی: 
Maimuna
صفیہ
مطلب: 
منتخب
انگریزی: 
Safia
رملہ
مطلب: 
ریتلی زمین، خوبصورت
انگریزی: 

Ramla



Home


ام المؤمنین کی اصطلاح کس طرح پیدا ھوئی؟
"ام المومنین" یعنی مومنوں کی ماں، یہ اصطلاح آیہ شریفہ "اُولویت" ،" بیشک نبی تمام مومنین سے ان کے نفس کی بہ نسبت زیاده اولی ہے اور ان کی بیویاں ان سب کی مائیں ہین اور مؤمنین و مہاجرین میں سے قرابتدار ایک دوسرے سے زیاده اولویت اور قربت رکہتے ہیں"[1] کے نازل ہونے کے ساتہه حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے بارے میں مومنوں کے درمیان رائج ہوئی۔ خدائے متعال اس آیہ شریفہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات کو مؤمنوں کی ماؤں کی منزلت پر جانتا ہے، (البتہ روحانی اور معنوی مائیں)۔ جس طرح پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امت کے معنوی اور روحانی باپ ہیں۔
۲۔ یہ حکم (کہ ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں ہیں) ایک شرعی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مخصوص ہے۔ [2] جس طرح سوره احزاب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج کی دوسری عورتوں کے ساتہه برابری کی نفی کی گئی ہے" اے زنان پیغمبر تم اگر تقوی اختیار کرو تو تمہارا مرتبہ کسی عام عورت جیسا نہیں ہے ، لہذا کسی آدمی سے لگی لپتی بات نہ کرنا کہ جس کے دل میں بیماری ہو اسے لالچ پیدا ہوجائے اور ہمیشہ نیک باتیں کیا کرو" [3]
۳۔ پیغمبر کی ازواج مطہرات کی ماؤں کے ساتہه تشبیہ ، صرف ماں کے بعض اثرات کے ساتہه تشبیہ ہے، نہ کہ سب کے ساتہه۔ یعنی ماں کے اپنے فرزندوں پر حقوق ہوتے ہیں، اور ان کے درمیان دو طرفہ احکام ہوتے ہیں، جو سب اس مسئلہ میں لاگو نہیں ہیں۔ یہاں پر صرف دو حکم : الف:"ان کے احترام کا واجب ہونا اور انکی حرمت رکہنا۔ ب : ان کے ساتہه شادی کرنا حرام ہے"   شامل ہیں۔ کیوں کہ ماں میں ان دو احکام کے علاوه دوسرے اثرات بہی پائے جاتے ہیں ، جیسے وه اپنے فرزند سے میراث لیتی ہے اور اس کے فرزند اس سے میراث لیتے ہیں۔ اس کے چہرے پر نظر کرنا جایز ہے ان کی لڑکیوں کے ساتہه جو دوسرے شوہر سے ہوں شادی نہیں کی جاسکتی وغیروغیره۔
لیکن پیغمبر اکرم (ص) کی ازواج مطہرات کے لئے ان دو حکم کے علاوه ( احترام کا واجب ہونا ، اور شادی کا حرام ہونا [4]) دوسرے احکام جاری نہیں ہیں ۔ پس ازواج مطہرات کی ماؤں کے ساتہه تشبیہ دینے کے حکم کا اثر دو مسئلوں میں ہی ہے اور وه دو حکم : (الف) احترام کا واجب ہونا۔ (ب ) شادی کا حرام ہونا ، ہیں۔
۴۔ یہ حکم :
اولا: ازواج مطہرات کا احترام کرنے کیلئے ہے ، کیون کہ ازواج مطہرات رسول اکرم صلی اللہ عیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہونے سے کی وجه سے مسلمانوں کے درمیان خاص احترام کی حامل ہیں، اور یہ قدرتی بات ہے کہ دوسری عورتوں کے ساتہه ان کا فرق ہے جس کو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔[5]
ثانیا: ان کا احترام کرنا پیغمبر کے احترام کرنے کے برابر ہے۔ جیسا که آیت کی شان نزول سے پتا چلتا ہے کہ بعض مخالفوں نے انتقام لینے کی غرض سے اور رسول اکرم کی ذات مقدس کی توہین کرنے کی غرض سے رسول کی رحلت کے بعد ان کی ازواج مطہرات سے شادی کرنے کا قصد کیا تہا۔
ثالثا: اندرونی دشمنوں کی بعض سازشوں اور ان سے غلط فائده اٹہانے کو روکنا۔ ان اندرونی دشمنوں کی غرض یہ تہی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد ان کی ازواج کے ساتہه شادی کرکے اپنے پست سیاسی مقاصد تک پہنچا جائے تہے۔ استاد مطہری ، کے مطابق ، دوسرے لوگوں سے ازواج مطہرات کی شادی حرام کہونے کا راز یہ تہا کہ ان کے بعد میں ہونے والے شوہر ازواج مطہرات کے احترام اور شہرت سے غلط فائده اٹہاتے اور بعض خود خواه عناصر سیاسی اور سماجی مسائل میں ان عورتوں کو  اپنا آلہ کار بناتے۔ [6]
[1] " النبی اولی بالمومنین من انفسہم و ازواجہ امہاتہم ۔۔۔" سوره احزاب / ۶۔
[2]  طباطبائی ، محمد حسین ، المیزان ، ( ترجمہ فارسی) ج ۱۶، ص ۴۱۴۔
[3]  " یا نساء النبی لستن کاحد من النساء ۔۔۔" سوره احزاب / ۳۲۔
[4]  تفسیر نمونہ ، ج ۱۷، ص ۲۰۷ ۔ ۲۰۵۔
[5]  سوره احزاب / ۳۲۔
[6] مطہری ، مرتضی ، مجموعہ آثار ، ج ۱۹ ، ص ۴۳۱ ، اس سلسلے میں مزید معلومات کیلئے تفسیر المیزان ، ج ۱۶ ، آیات ۱۔۔ ۵۴ سوره احزاب ، اور تفسیر نمونہ ج ۱۷ ، آیات ۱ ۔۔ ۵۴ ص ۴۰۶ اور ۴۰۵ کی جانب رجوع کریں۔

Home

"انتظار"

امام زمانہ (ع) کا ظہور خدا کے نہ بدلنے والے فیصلوں میں ہے۔ کیونکہ خدا نے اس دنیا کو بلندی اور کمال تک پہنچنے کے لئے بنایا ہے جیساکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ "وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون" ہم نے جن اور انسانوں کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ زندگی کے ہر میدان میں خدا کی بندگی وہ آخری کمال اور بلندی ہے جس کے لئے خدا نے انسانوں کو بنایا ہے اور اگر یہ دنیا ظلم اور ناانصافی پر ختم ہوجائے تو دنیا کا مقصد پورا نہیں ہوگا ۔
 آخری امام کو ظہور کے بعد پوری دنیا میں خدا کی بندگی کا پرچم لہرانا ہوگا۔ اگر کسی ملک میں کوئی تبدیلی آنا ہو تو لوگوں کو اس کے لئے کتنی تیاری کرنا پڑتی ہے۔ اگرکوئی ملک کسی دوسرے ملک کا غلام ہو یا اس ملک میں ڈکٹیٹرشپ چل رہی ہو  اور لوگ اپنے ملک کو آزاد کرانا چاہتے ہوں تو اس کے لئے انہیں کتنی تیاری کرنا ہوتی ہے، اپنے آپ کو  بدلنا ہوتا ہے، جیسے حالات ہوتے ہیں اس کے حساب سے وہ انقلاب لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ملک کو آزاد کرانے کےلئے اسلحے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اسلحہ استعمال کرتے ہیں، اگر قربانی دینے کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ قربانی دیتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہوتا ہے کہ وہ اچانک قربانی دینے کے لئے تیار ہوجائیں بلکہ اس کے لئے انہیں کئی سالوں تک کوشش کرنا ہوتی ہے،جتنا بڑا انقلاب ہوتا ہے اتنے ہی سال اس کی تیاری میں لگتے ہیں، لوگوں کو  اپنے آپ کو بدلنا ہوتا ہے، اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ہوتا ہے، اپنا کیرکٹر بدلنا ہوتا ہے تب کہیں وہ ملک کے لئے اپنی قربانی دینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ورنہ جو لوگ اپنی زندگی میں مست مگن رہتے ہیں انہیں اس کی فکر نہیں ہوتی ہے کہ وہ غلام ہیں اور اگر وہ سمجھتے بھی ہیں تب بھی وہ اپنے آپ کو غلامی سے آزاد کرانے کے لئے کوشش نہیں کرتے ہیں کیونکہ اس کے لئے انہیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا، اپنی زندگی میں تبدیلی لانا ہوگی، جس عیش و آرام کو وہ اچھا سمجھ رہے ہیں اسے چھوڑنا ہوگا لیکن وہ یہ سب کچھ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں آزادی کی قیمت نہیں معلوم ہے وہ غلامی میں رہ کر تھوڑے بہت عیش و آرام کو اچھا سمجھتے ہیں اور اسی میں خوش  رہتےہیں۔ مگر جو لوگ جانتے ہیں کہ آزادی کیا ہوتی ہے وہ اس کے لئے کوشش کرتے ہیں اور پھر ان کے لئے اپنی زندگی بدلنا اور         عیش و آرام چھوڑنا آسان ہوجاتا ہے ۔
امام زمانہ(ع)کسی ایک ملک کو نہیں بلکہ  اس پوری دنیا کو ظالم اور ڈکٹیٹر لیڈروں سے آزاد کرانے کے لئے آئیں گے ، پوری دنیا کو ظلم اور شرک کی غلامی سے آزاد کرانے کے لئے آئیں گے جس کے لئے وہ زندگی کے ہر میدان میں تبدیلیاں لائیں گے۔ تو یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ پوری دنیا کو بدلنے والا یہ عظیم انقلاب اچانک نہیں آجائے گا بلکہ اس کے لئے ان لوگوں کو تیاری کرنا ہوگی جو اس انقلاب میں امام کا ساتھ دینا چاہیں گے اور امام کے دشمنوں کے لشکر میں نہیں بلکہ امام کے لشکر میں رہنا چاہتے ہیں اور ہمیشہ یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ خدایا! ہمیں امام کے مددگاروں میں شامل کردے۔
پوری دنیا کو بدلنے والے اس انقلاب کے لئے بہت سی شرطیں ہیں جنہیں ہم یہاں پر پیش کررہے ہیں:
۱۔ پرسنل تیاری: جیسا کہ ہم نے اوپر کہا کہ کوئی بھی باہری انقلاب اندرونی انقلاب کے بعد ہی آتا ہے۔ جب تک خود انسان کے اندر کوئی بدلاؤ نہ ہو تب تک وہ باہر کوئی بدلاؤ نہیں لاسکتا ہے۔ جب تک لوگوں کے سوچنے کا انداز اور کردار نہ بدل جائے تب تک وہ اس دنیا میں کچھ بھی نہیں بدل سکتے ہیں۔ دنیا میں جتنے لوگ انقلاب لائے ہیں یا انہوں نے بڑی تبدیلیاں کی ہیں اور جن لوگوں نے ان کا ساتھ دیا ہے ہم انہیں دیکھ سکتے ہیں کہ پہلے انہوں نے اپنے آپ کو بدلا ہے، وہ اپنے اندر ایک انقلاب لائے ہیں اور پھر وہ باہر انقلاب لانے میں کامیاب رہے ہیں۔
پرسنل تیاری کا مطلب صرف یہ  نہیں ہوتا ہے کہ  آدمی اپنے کردار کو اچھا بنا لے، نمازیں پڑھے، دعائیں پڑھے اور گناہوں سے دور رہے بلکہ جیسا انقلاب ہوتا ہے اس کے لئے ویسی ہی تیاری کرنا ہوتی ہے۔ امام پوری دنیا کے سسٹم کو بدلیں گے اور اس سسٹم میں ظالم اور گناہگار لوگوں کی جگہ نیک کردار انسانوں کو لائیں گے لیکن یہ لوگ ایسے نہیں ہوں گے جو صرف مسجد میں بیٹھ کر عبادت کرنا جانتے ہوں گے بلکہ یہ دنیا کا سسٹم چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔  یہ خدا کی بندگی کریں گے لیکن صرف مسجد میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر میدان میں۔
۲۔لوگوں کا ذہنی اعتبار سے تیار رہنا: یعنی لوگوں کی سوچ اتنی بلند ہوجائے کہ وہ رنگ ، نسل اور ملک کا فرق بھول جائیں اور کسی ایسے آدمی کی بات ماننے کی صلاحیت رکھتے ہوں جو نہ ان کے رنگ اور نسل کا ہے اورنہ ان کے ملک کا لیکن وہ سچائی اور انصاف کی طرف بلانے والا ہے اس لئے لوگ اس کی بات ماننے پر تیار ہوں۔
۳۔سماجی تیاری: لوگ ظلم اور ناانصافی کرنے والی حکومتوں اور انسانوں کا خون چوسنے والے سسٹم سے اتنے پریشان اور تھک چکے ہوں کہ وہ سب کسی نجات دینے والے کی طرف آنکھ لگائے بیٹھے ہوں ۔وہ یہ سمجھ گئے ہوں کہ اب دنیا کے یہ سسٹم انہیں اچھی زندگی نہیں دے سکتے ہیں۔ نہ انہیں اس دنیا میں سکون دے سکتے ہیں اور نہ آخرت کی زندگی کے لئے کچھ کرسکتے ہیں۔ اس لئے انہیں کسی ایسے آدمی کا انتظار ہوگا جو خدا کی طرف سے آئے اور انہیں اس دنیا اور آخرت کی وہ ساری نعمتیں دے جن کی وہ ہمیشہ آرزو کرتے رہے ہیں۔ 
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام زمانہ(ع) کے ظہور کی دعا مانگنے والوں کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو اچھا بنائیں بلکہ ان کی ذمہ داری یہ ہے بھی ہے کہ وہ اپنے سماج کو اچھا بنانے کی کوشش کریں، لوگوں کو ظالم حکومتوں کے ظلم کے بارے میں بتائیں، ان میں ظالموں سے نفرت اور ان سے مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کریں۔ ورنہ ظالموں کے ظلم کے سامنے خاموش بیٹھ کر امام کے ظہور کی دعا کرنا مناسب نہیں ہے۔ بلکہ ظالموں کی مخالفت امام زمانہ(ع) کی حمایت ہے۔
جب ہم یہ تینوں چیزیں سمجھ جائیں گے تب ہمیں معلوم ہوگا کہ روایات میں "انتظار" پر اتنا زور کیوں دیا گیا ہے اور یہ کیوں کہا گیا ہے کہ انتظار سب سے بڑا عمل ہے۔ یعنی انتظار عمل کرنے کا نام ہے خاموش بیٹھ جانے کا نہیں۔

Wednesday, December 3, 2014

Home,نجمہ خاتون مدینہ میں امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہیں. جناب نجمہ مومنہ ، متقی و پرہیزگار اور نجیب و پارسا خاتون تھیں آپکا گھر اور قبر مطہر مدینہ منورہ میں مرجع خلائق ہے

 

نجمہ خاتون سلام اللہ علیہا




نجمہ خاتون مدینہ میں امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہیں. جناب نجمہ مومنہ ، متقی و پرہیزگار اور نجیب و پارسا خاتون تھیں آپکا گھر اور قبر مطہر مدینہ منورہ میں مرجع خلائق ہے

نجمہ خاتون 
تاریخ اسلام اور اہل بیت پیغمبر علیہم السلام کے زمانے کی ایک معتبر اور عظیم المثال خاتون جناب " تکتم " ہیں جو مصر کے جنوبی علاقے کی رہنے والی تھی اور جب یہ ذی شرف خاتون، فرزند رسول حضرت امام موسی بن جعفر علیہ السلام کے گھر میں آئیں تو امام علیہ السلام نے ان کا نام " نجمہ " رکھ دیا آپ عقل و دین اور حیا وعفت میں اپنے زمانے کی تمام عورتوں سے افضل و اکمل تھیں تاریخ کی معتبر کتابوں میں ان کے القاب ام البنین اور طاہرہ تحریر ہیں غالبا یہ ایسے القابات ہیں جو انہیں مختلف مواقع پر دیئے گئے ہیں آپ دوسری صدی ہجری کے وسط میں مدینہ تشریف لائیں اور اس وقت حضرت امام موسی بن جعفر علیہ السلام کی عمر مبارک چوبیس برس تھی فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی شریک حیات جناب حمیدہ خاتون نے نجمہ کو خریدا اور انہیں اپنے گھر لے گئیں آپ حمیدہ خاتون کا بہت زيادہ احترام کرتی تھیں اور ان کی عظمت و جلالت کی وجہ سے ان کے پاس نہیں بیٹھتی تھیں ۔

جناب نجمہ مومنہ ، متقی و پرہیزگار اور نجیب و پارسا خاتون تھیں ایک دن جناب حمیدہ خاتون نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ فرمارہے ہیں: اے حمیدہ ، نجمہ کی شادی اپنے بیٹے موسی سے کردو کیونکہ ان کے بطن مبارک سے ایک ایسا بچہ پیدا ہوگا جو روئے زمین کی سب سے بہترین فرد ہوگی۔

اس بشارت کے فورا بعد ہی حمیدہ خاتون نے نجمہ کی شادی اپنے فرزند امام موسی کاظم علیہ السلام سے کردی اور فرمایا : اے میرے لال ، نجمہ، ایک ایسی خاتون ہیں کہ ان سے پہلے میں نے کسی کو بھی اس سے بہتر نہیں دیکھا تھا کیونکہ یہ عقل و دانش اور اخلاق میں بے نظیر ہیں میں انہیں تمہیں عطا کررہی ہوں دیکھو تم بھی ان کے ساتھ نیکی سے پیش آنا ۔ بالآخر اس مبارک و مسعود شادی کے نتیجے میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت با سعادت ہوئی ۔

چوتھی صدی ہجری کے مشہور محدث و مورخ جناب شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی مادر گرامی جناب نجمہ خاتون سے روایت نقل کی ہے آپ فرماتی ہیں : جب مجھ میں آثار حمل نمایاں ہو‏ئے تو مجھے کوئی بھی مشکل پیش نہیں آئی اور جب میں سوجاتی تھی تو تسبیح و تہلیل لاالہ الا اللہ اور حمد خدا کی آوازيں اپنے شکم مبارک سے سنتی تھی لیکن جب بیدار ہوتی تھی تو یہ آوازیں نہیں آتی تھی اور جب یہ سعادتمند بیٹا پیدا ہوا تو اس نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر رکھا اور اپنے سر کو آسمان کی طرف بلند کیا اس کے لب جنبش کررہے تھے اور وہ باتیں کررہے تھے کہ میں نہیں سمجھ پارہی تھی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت سعادت کے بعد جناب نجمہ "طاہرہ" کے لقب سے ملقب ہوئیں یہ عظیم المرتبت خاتون حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت کے بعد آپ ان کی تربیت کرکے اپنی عظمت و رفعت میں بہت زيادہ بلند ہوگئیں ۔

جناب نجمہ خاتون بہت بڑی عبادت گذار اور زاہدہ خاتون تھیں اور اپنے عزيز فرزند کی تربیت کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے خداکی عبادت و راز و نیاز بھی جاری رکھی ۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی مادر گرامی جناب نجمہ خاتون کی قبر مطہر مدینہ منورہ میں مرجع خلائق ہے ۔

اسلامی تاریخ کی ایک اور نامور خاتون حضرت امام رضا علیہ السلام کی شریکہ حیات خیزران ہیں ان کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشن گوئی کی تھی ۔

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیشہ ایسا کلام کرتے تھے جس میں عظیم حکمت اور دقیق معنی و مفاہیم پوشیدہ ہوتے تھے ایک دن آپ نے اپنے بعض اصحاب کے درمیان فرمایا: میرے باپ کنیزوں کے سب سے بہترین فرزند پر قربان ، نوبہ کے علاقے اور ماریہ قبطیہ کی قوم کی ایک کنیز ،جو پاک و پاکیزہ اور نیک سیرت خاتون ہے ۔

صحابیوں کے جھرمٹ میں سے کسی ایک نے اپنے دوسرے دوست سے پوچھا رسول خدا کی شریکہ حیات کس قوم سے ہیں؟ اس نے سر سے اشارہ کرکے ہامی بھری اور کہا ہاں اے میرے بھائی ، اس نے دوبارہ سوال کیا کہ بتاؤ اس صفت کا حامل کون ہے ؟ اس کے دوست نے جواب دیا شاید یہ اشارہ کسی خاص شخص کے لئے انجام دیا گیا ہے بتاؤ کہ یہ عظیم خاتون کون ہے ؟ دونوں نے آپس میں کہا کہ چلو پیغمبر اسلام سے دریافت کرتے ہیں۔ شاید ان دنوں کسی کو نہیں معلوم تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشنگوئی آپ کے فرزند، عالم تشیع کے آٹھویں رہبر و پیشوا کی شریکہ حیات کے بارے میں ہوگی جو برسہا برس بعد رونما ہوگا اور اپنے زمانے کی عورتوں سے افضل و با فضیلت اور باکمال خاتون "خیزران" یا "سبیکہ" کی شادی بوستان محمدی کے آٹھویں تاجدار حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے ہوگی اور کچھ دنوں کے بعد ان کی زندگی گلدستہ امامت کے نویں پھول حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت با سعادت سے معطر ہوگی ۔

میں فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کا ایک شاگرد یزید بن سلیط ہوں ایک بار میں سفر میں تھا کہ مکہ و مدینہ کے راستے میں حضرت کی زيارت سے مشرف ہوا احوال پرسی کے بعد میں نے امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا اے مولا مدتوں سے میرے دل میں ایک سوال ہے جس نے میرے قلب و دماغ کو مشغول کررکھا ہے امام علیہ السلام نے مسکراتے ہو‏ئے فرمایا : اے یزيد بن سلیط ، کس چیز نے تمہارے دل کو مصروف کردیا ہے ۔

میں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ یہ جان لوں کہ آپ کے بعد آپ کا جانشین کون ہوگا ؟ امام علیہ السلام نے سراٹھایا اور میرا ہاتھ پکڑ کر دبایا اور پھر مجھ سے ایسے صفات بیان کئے کہ میری زبان اس کے بیان سے قاصر ہے پھر اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا : اے یزید بن سلیط سنو اس سال مجھےگرفتار کیا جائےگا اور میرے بعد میرا بیٹا علی بن موسی الرضا تمہارے امام ہوں گے ۔

فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی توجہ پھر ایک نکتہ پر جاکر مرکوز ہوگئی اس وقت آپ نے فرمایا : میرے بیٹے رضا کو بشارت دو اور ان سے کہہ دو کہ عنقریب خداوندعالم انہیں ایک مورد اعتماد طیب و طاہر فرزند عطا کرے گا اس وقت میرا بیٹا تم سے سوال کرے گا کہ تم نے مجھے کہاں دیکھا ہے اس وقت تم ان سے کہنا کہ آپ کے بیٹے امام محمد تقی علیہ السلام کی مادر گرامی پیغمبر اسلام کی شریکہ حیات ماریہ قبطیہ کے خاندان کی ایک کنیز ہوگی اس کے بعد امام کاظم علیہ السلام میری طرف متوجہ ہوئے اور تاکید کرتے ہو‏ئے فرمایا: اگر ممکن ہو تو میرا سلام اس خاتون تک پہنچادینا ، اس طرح میں فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی شریکہ حیات اور حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی مادر گرامی سے باخبر ہوا اور بہت دنوں کے بعد سمجھا کہ " خیزران" پاک و پاکیزہ ، مہربان اور فضائل انسانی و اخلاقی سے مالا مال خاتون ہیں۔اور میں نے امام کاظم علیہ السلام کے سلام و پیام کی حقیقت و اہمیت کو درک کیا۔

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت کا وقت بہت ہی قریب تھا اس بارے میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی بہن جناب حکیمہ کہتی ہیں : میرے بھائی امام رضا نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اے میری پیاری بہن حکیمہ آج کی شب تم میرے گھر قیام کرو کیونکہ ایک بہت ضروری کام ہے میں نے ہامی بھر لی اور کہا کہ جیسا آپ حکم فرمائیں کچھ دیر کے بعد ایک دایہ بھی وہاں پہنچ گئی حضرت امام رضا علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا اے میری پیاری بہن ، دایہ کے ساتھ خیزران کے حجرے میں جائیے میں اپنی جگہ سے اٹھی میرے ساتھ میرے بھائی بھی اٹھے اور خیزران کے حجرے میں گئے امام علیہ السلام نے چراغ روشن کیا اور دروازہ بند کرکے باہر چلے گئے ۔

کچھ ہی دیر بعد جناب خیزران درد زہ سے بے چین ہوگئیں اور عین اسی وقت کمرے کا چراغ بجھ گیا میں بہت زیادہ غمزدہ ہوگئی لیکن میراغم بہت دیر تک باقی نہ رہا کیونکہ امام محمد تقی کے پیدا ہوتے ہی پورا حجرہ ان کے نور سے جگمگا اٹھا کچھ دیر بعد میرے بھائی امام رضا علیہ السلام حجرے میں تشریف لائے اور بچے کو لے کر گہوارے میں لٹا دیا پھر مجھ سے فرمایا : اے بہن اسی گہوارے کے پاس رہيئے۔

ابھی میرے بھتیجے کی ولادت کو تین دن سے زیادہ نہ گذرے تھے کہ میں نے مشاہدہ کیا کہ اس نے اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف کیا اور اپنے دائیں اور بائیں جانب نظر کی اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی اور خدا نہیں ہے اور محمد مصطفی اس کے رسول ہیں ۔میں حیران و پریشان تیزی کے ساتھ اپنے بھائی امام رضا علیہ السلام کے پاس گئی اور جو کچھ دیکھا اور سنا تھا میں نے ان سے نقل کیا میرے بھائی نے میرے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا: حکیمہ تعجب نہ کرو اس بچے کی زندگی کے حیرت انگیز واقعات اس سے بہت زيادہ ہیں جو تم بیان کررہی ہو۔

فرزند رسول حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت کو ابھی چند ہی روز گذرے تھے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے کچھ اصحاب امام رضا علیہ السلام کی زيارت کے لئے آئے ۔ اس وقت امام علیہ السلام اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ حضرت سے محو گفتگو تھے اور اپنی اپنی مشکلیں بیان کررہے تھے اور سوالات کررہے تھے اور امام علیہ السلام بڑے ہی اطمینان کے ساتھ لوگوں کو جواب دے رہے تھے جب آپ کے اصحاب کی گفتگو ختم ہوگئی تو امام علی رضا علیہ السلام نے جن کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : خداوندعالم نے مجھے ایک بیٹا عطاکیا ہے جو موسی بن عمران کی طرح دریا کے سینے کو چاک کرنے والا ہے اور اس کی ماں مریم کی طرح پاک و پاکیزہ اور نیک و پاکدامن ہے ۔

جی ہاں ، حضرت خیزران کا شمار ان خواتین میں ہوتا ہے جو اسلام اور اہل بیت علیہم السلام کی برکت سے فضل وشرف کی ایسی بلندی پر فائز ہوئیں کہ اپنے زمانے کی عورتوں میں سب سے افضل اور فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلا م کی شریکہ حیات قرار پائیں اور ان کی طیب و طاہر آغوش میں امام محمد تقی علیہ السلام نے پرورش پائی ۔ آپ تاریخ اسلام کی ایک عظیم خاتون تھیں حضرت امام رضا علیہ السلام کے فرمان کے مطابق وہ اخلاقی فضائل میں جناب مریم سے مشابہ تھیں ۔ جس وقت عباسی خلیفہ کے سپاہی امام رضا علیہ السلام کو مدینہ سے مرو لےگئے تو امام علیہ السلام اپنے ہمراہ اپنی مہربان زوجہ اور بیٹے کو ساتھ نہیں لے گئے اور وہ مدینہ میں ہی رہے بعض معتبر اقوال کی بنیاد پر جناب خیزران کی قبر مبارک آج بھی مدینے میں محبان اہل بیت کی زيارت گاہ ہے ۔
ماخذ:urdu.irib.ir
***

مدینہ میں امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کا گھر

جب آپ مدینہ منورہ زیارہ کے لئے مشرف ہوتے ہیں، ایک مقام کا مشاہدہ کرتے ہیں جو کنکریٹ کی دیواروں کے ذریعے محصور ہوچکا ہے اور اس کے دروازے پر تالا لگا دیا گیا ہے۔ یہ "مشرب ام ابراہیم" ہے جو اہل بیت علیہم السلام کا گھر ہے اور امام رضا علیہ السلام کی دادی اور والدہ (امام موسی کاظم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ اور زوجہ مطہرہ) کا مزار اقدس بھی یہيں ہے۔

ہم اس مناسبت سے مدینہ منورہ کے ایک محلے "مشربہ ام ابراہیم" کا تعارف کرانا چاہتے ہیں۔
مشربہ ام ابراہیم ایک مقام کا نام ہے جو شراع علی ابن ابی طالب علیہ السلام میں واقع ایک گلی میں واقع ہے؛ جب زائرین اس گلی کے پاس جاکر کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں سفید سیمنٹ سے بنی ایک چاردیواری نظر آتی ہے جس کے دروازے پر ایک تالا لگایا گیا ہے اور جن لوگوں نے تالا لگایا ہوا ہے وہ شاید سمجھ رہے ہیں کہ تالا لگا کر اس مقام کی تاریخی حیثیت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کو چھپایا جاسکتا ہے!

1

مشربہ ام ابراہیم در حقیقت مدینہ کا ایک چھوٹا سے باغ کا نام ہے جو قبا کے مشرق اور بنی قریظہ کے علاقے کے شمال میں واقع العوالی میں واقع ہوا تھا۔ رسول اللہ کے بیٹے ابراہیم (ع) کی والدہ ماجدہ ام المؤمنین حضرت ماریہ قبطیہ (س) کا گھر بھی یہیں تھا اور ابراہیم بن رسول اللہ (ص) یہیں متولد ہوئے تھے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم طویل مدت تک یہیں قیام پذیر رہے اور بہت زیادہ نمازیں پڑھ لیں۔ مشہور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وہاں پانی کے مٹکے رکھے تھے جن سے لوگ پانی پیا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے اس مقام کو مشربہ کہا گیا ہے اور اس کو مشربہ ام ابراہیم کہا گیا ہے کیونکہ ام ابراہیم ام المؤمنین ماریہ قبطیہ کی کنیت ہے۔ اسی مقام پر امام صادق علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ اور امام رضا علیہ السلام کی دادی حضرت حمیدہ خاتون (س)، امام موسی کاظم علیہ السلام کی زوجہ مطہرہ اور امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت نجمہ خاتون (س) بھی یہيں مدفون ہیں اور امام صادق علیہ السلام نے اس مقام کی زيادت کی سفارش فرمائی ہے ۔
روایت میں ہے کہ عقبہ بن خالد نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: ہم مدینہ کے اطراف میں واقع مساجد کی زیارت کرتے ہیں کونسی مسجد سے شروع کریں تو بہتر ہوگا؟"۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
امام صادق(ع) فرمود: «اِبْدَأْ بِقُبَا فَصَلِّ فِیهِ وَأَکْثِرْ فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَسْجِد صَلَّی فِیهِ رَسُولُ اللَّهِ(ص) فِی هَذِهِ الْعَرْصَةِ ثُمَّ إئْتِ مَشْرَبَةَ أُمِّ إِبْرَاهِیمَ فَصَلِّ فِیهَا وَهِیَ مَسْکَنُ رَسُولِ اللَّهِ (ص) وَمُصَلاَّهُ"۔ (کافی 4/560)
ترجمہ: مسجد قبا سے آغاز کرو اور وہاں زيادہ نماز پڑھو کیونکہ یہ اس علاقے کی پہلی مسجد ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد مشربۂ ام ابراہیم چلے جاؤ اور وہاں نماز پڑھو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مسکن اور مصلّی' (نماز پڑھنے کا مقام) ہے۔

2

اب اس زمانے میں اس مقام کی صورت حال رسول اللہ اور آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ہونے والے نہایت وہابیانہ طرز سلوک کی گواہی دیتی ہے۔ آل سعود نے اس مقدس مقام کے دروازے کو مقفل کردیا ہے لیکن وہ شاید نہیں جانتے کہ زائرین رسول اور آل رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عاشقوں کے عشق کو تالوں سے ختم نہیں کیا جاسکتا؛ یہ وہابیانہ اقدام رسول و آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے لوگوں کی محبت میں اضافہ کر دیتا ہے اور حتی کہ وہ لوگ بھی جو اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نہیں جانتے، جب دیکھتے ہیں کہ ایک مقدس مقام پر تالے لگے ہوئے ہیں تو وہ بھی سوچ میں پڑجاتے ہیں اور جب سمجھ لیتے ہیں اس مقام کا تعلق کن سے ہے وہ بھی اہل بیت علیہم السلام کے عاشق ہوجاتے ہیں۔
روایات کے مطابق حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور حضرت سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا پہلا گھر یہی تھا اور ان دو عظیم ہستیوں نے بھی اپنی معنوی اور خیر و برکت سے بھرپور زندگی یہيں سے شروع کی تھی۔ تا ہم مشربہ ام ابراہیم میں دوسرے تاریخی واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ ساتویں امام اور نویں معصوم حضرت امام موسی الکاظم علیہ السلام کی ولادت یہیں ہوئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصال کے بعد اہل بیت علیہم السلام کے پاس رہا اور یہ خود اس جعلی حدیث کی نفی بھی ہے کہ "ہم انبیاء ترکہ نہیں چھوڑا کرتے اور ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے!"۔
ماخذ: ابنا

حمیدہ بنت صاعد سلام اللہ علیہا,Home

 

حمیدہ بنت صاعد سلام اللہ علیہا


فرزند رسول حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی شریک حیات اور حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حمیدہ بنت صاعد تاریخ اسلام کی ایک عظیم المرتبت ، نامور اور بافضیلت خاتون ہیں۔

فرزند رسول حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی شریک حیات اور حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حمیدہ بنت صاعد تاریخ اسلام کی ایک عظیم المرتبت ، نامور اور بافضیلت خاتون ہیں۔

فرزند رسول حضرت امام محمد باقر علیہ السلام جناب حمیدہ کے بارے میں فرماتے ہیں: " وہ دنیا میں حمیدہ یعنی پسندیدہ اور آخرت میں محمودہ یعنی نیک صفات کی حامل خاتون ہیں"۔جناب حمیدہ جو فرزند رسول حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی کنیز تھیں، انہیں آپ نے اپنے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کو بخش دیا تھا ۔

فرزند رسول حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے حمیدہ سے نکاح کیا اوران کو اعلی مرتبے پر فائز کیا، جناب حمیدہ سے چار اولادیں یعنی حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام، اسحاق، فاطمۂکبری اور محمد پیدا ہوئے ۔ خاندان علوی میں حمیدہ کو اعلی مقام حاصل تھا اور ہر شخص ان کا احترام کرتا تھا خانوادۂ عصمت و طہارت میں زندگی بسر کرنے کی وجہ سے روز بروز ان کے علم و فضل میں اضافہ ہوتا گیا، چنانچہ آپ فرزندرسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے حکم سے مدینے کی خواتین کو احکام و معارف اسلامی کی تعلیم دیتی تھیں، مؤرخین کے مطابق جناب حمیدہ عفت و حیا اور فضائل و کمالات کے لحاظ سے اپنے زمانے کی خواتین کے درمیان فقید المثال خاتون تھیں اور شائستگی، انتظامی امور کی صلاحیت اور امانت و صداقت جیسے اعلی صفات سے متصف تھیں، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اہل مدینہ کی واجبات کی ادائیگی کے امور ہمیشہ اپنی والدہ ماجدہ ام فروہ اور اپنی شریک حیات جناب حمیدہ کے سپرد کیا کرتے تھے۔اس کے علاوہ جناب حمیدہ حدیث بھی نقل کرتی تھیں، حضرت امام جعفر صادق کی اس مشہور و معروف حدیث کی راوی بھی آپ ہی ہیں جو آپ نے دنیائے محن کو ترک کرنے سے کچھ لمحہ قبل ارشاد فرمائی تھیں کہ : "جو شخص نماز کو سبک سمجھےگا اسے ہماری شفاعت نصیب نہیں ہوگی ۔

تاريخ اسلام کی ایک اور عظیم و مثالی خاتون فاطمہ بنت عبداللہ بن ابراہیم ہیں، جو اپنے بیٹے داؤد کی وجہ سے ام داؤد کی کنیت سے مشہور ہیں، یہ وہی خاتون ہیں جن سے رجب المرجّب کی پندرہویں تاریخ کا عمل " عمل ام داود" منسوب ہے۔ جناب ام داؤد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی رضاعی ماں ہیں۔ ساتویں صدی کے معروف عالم دین سیّد ابن طاؤس علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: میری دادی ام داؤد ایک نیک و شائستہ اور مؤمنہ خاتون تھیں ۔

ماہ رجب المرّجب کی پندرہویں تاریخ کا عمل اور دعائے ام داؤد مشکلات اور سختیوں سے نجات اور ظالمو ں کے شر سے بچنے کے لئے بہت ہی مؤثر عمل ہے اس عمل کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ نقل کیا گیا ہے ۔ جناب ام داؤد کہتی ہیں: عباسی خلیفہ منصور دوانیقی نے مدینۂ منورہ پر یلغار کے لئے فوج بھیجی اور عباسی لشکر نے سادات کی ایک بڑی تعداد کو قید کرکے پابند سلاسل کردیا جس میں میرا بیٹا داؤد بھی شامل تھا ، چنانچہ اسے بھی دوسرے قیدیوں کے ساتھ مدینے سے بغداد لے جایا گیا جہاں انہیں ایک ہولناک زندان میں قید کیا گیا۔

داؤد کی گرفتاری اور اسارت کے بعد اس کا میری نظروں سے اوجھل ہونا میرے لئے ناقابل برداشت تھا، میں غم واندوہ کی حالت میں گریہ وزاری کرتی رہی اور اپنی پریشانیوں سے نجات اور بیٹے کی رہائی کے لئے مؤمنین سے التجا کرتی تھی کہ وہ دعا کریں، لیکن کوئی نتیحہ نہیں نکلا جب کہ آئے دن میرے بیٹے کے بارے میں بری خبریں ملتی رہیں یہاں تک کہ یہ دلسوز خبر ملی کہ وہ ماراگیا ایسے حالات میں میرے غم واندوہ میں اضافہ ہوتا گیا اور جوان بیٹے کے غم نے مجھے کمزور و ناتواں کردیا، میں مایوس ہوگئی تھی اورنا امیدی کے عالم میں سوچا کرتی تھی کہ اپنے بیٹے کا کبھی بھی چہرہ نہیں دیکھ پاؤں گی ۔

اسی دوران مجھے اطلاع ملی کہ امام جعفر صادق علیہ السلام بیمار ہیں ، میں عیادت کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، جب میں واپس جانے لگی تو آپ نے فرمایا" کیا داؤد کے بارے میں کوئی اطلاع ملی؟ ام داؤد کہتی ہیں: جیسے ہی میں نے داؤد کا نام سنا تو میرے آنکھیں اشکبار ہوگئیں ، میں نے آہ سرد کھینچی اور کہا: اے میرے سید و سردار میری جانیں آپ پر قربان، کافی عرصے سے اس کے بارے میں کوئی خبر نہیں ملی ہے اور اس وقت وہ عراق کے قید خانے میں ہے اور میں اس سے دوری اور شومئی قسمت کی وجہ سے بہت ہی مضطرب و پریشان ہوں آپ چونکہ اس کے رضاعی بھائی بھی ہیں میں آپ سے التماس کرتی ہوں کہ اس کی آزادی اور مشکلوں سے نجات کے لئے دعا فرمائیے ۔امام علیہ السلام نے میرے اضطراب کو دیکھ کر فرمایا : تم نے اب تک دعائے استفتاح کیوں نہیں پڑھی ؟ کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اس دعا کے ذریعے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور الہی فرشتے دعا کرنے والے کو بشارت و خوشخبری سناتے ہيں کہ کوئی بھی دعا کرنے والا مایوس نہیں ہوگا اور خداوندعالم اس دعا کرنے والے کو اجر و ثواب کے بدلے میں بہشت عطا فرمائے گا ۔یہ جواب سن کر میری ناامیدی امید میں تبدیل ہوگئيں اور میں نے حضرت سے سوال کردیا اے میرے مولا وہ کون سی دعا ہے اور اس کے آداب کیا ہیں؟

فرزند رسول حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا: اے ام داؤد، خدا کا محترم مہینہ " رجب " عنقریب آنے والا ہے اس مبارک مہینے میں دعائیں مستجاب ہوتی ہیں اس مہینے کی تیرہویں ، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں میں جنہیں ایام البیض کہتے ہیں روزہ رکھو اور پندرہويں تاریخ کو ظہر کے وقت غسل کرو اور آٹھ رکعت نماز پورے سکون و اطمینان اور خضوع و خشوع کے ساتھ پڑھو اس کے بعد امام علیہ السلام نے انہیں مخصوص اعمال کی تعلیم دی ۔

ام داؤد کہتی ہیں میں نے امام علیہ السلام کی بتائی ہوئی دعا اور اعمال کو لکھ لیا اور پھر خداحافظ کرکے واپس آگئی ۔ ماہ رجب آگیا اور امام علیہ السلام نے جن اعمال کے بارے میں تعلیم دی تھی میں نے تمام اعمال انہیں دنوں میں انجام دیئے سولہویں رجب کی آدھی رات گذر چکی تھی میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تمام فرشتوں اور صلحاء کو جن کے لئے دعائیں کی تھیں ان سب کو خواب میں دیکھا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ام داؤد یہ گروہ جو تم دیکھ رہی ہو تمہاری شفاعت کرنے والے ہیں انہوں نے تمہارے لئے دعائیں کی ہیں اور تمہیں خوشخبری و بشارت دے رہے ہیں کہ تمہاری حاجتیں قبول بارگاہ احدیت ہوگئی ہیں اور خداوندعالم نے تم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائی ہیں خدا تمہارے بچے کی حفاظت کرے گا اور صحیح و سالم تمہارے پاس پہنچا دے گا جیسے ہی سورج طلوع ہوا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وعدے اور وہ نور امید جو میرے غمزدہ قلب میں روشن ہواتھا اس کی بناء پر میں نے اپنے اندر ایک تازگی محسوس کی اور جس دن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے فرزند کے واپس آنے کی بشارت و خبر دی تھی اسی روز ایک سوار بہت تیزي کے ساتھ عراق سے مدینہ آیا ، اچانک میرے گھر کا دروازہ کھلا اور میری آنکھوں کا تارا میری نگاہوں کے سامنے کھڑا تھا۔

داؤد اپنی ماں کے پاس آگئے ماں نے داؤد سے ان کی رہائی کے بارے میں سوال کیاکہ تمہیں کیسے رہا کیا گیا داؤد نے کہا " میں بغداد کے قیدخانے میں مقید تھا میرے ہاتھوں اور پیروں کوطوق و زنجیر سے باندھاگیا تھا طوق و سلاسل میں جکڑے اور قیدخانے کے تنگ و تاریک ہونے کی وجہ سے میری زندگی بہت تلخ ہوگئی تھی مگر جیسے ہی پندرہویں رجب کا دن گذرا اور سولہویں کی شب آئی میں نے خواب دیکھا کہ ناہموار زمین میرے لئے ہموار ہوگئی ہے میں نے دیکھا کہ آپ چٹائی کے ایک ٹکڑے پر بیٹھی نماز پڑھ رہی ہیں اور میرے لئے دعائیں کررہی ہیں اور آپ کے چاروں طرف کچھ لوگ کھڑے ہیں جو آسمان کی طرف ہاتھوں اور سروں کو اٹھائے ہوئے خدا کے ذکر میں مشغول ہیں اور ایک نورانی شخصیت بھی موجود ہے میں سمجھ گیا کہ وہ نوررانی شخص رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں آپ نے مجھ سے فرمایا: پریشان نہ ہو خداوندعالم نے تمہارے حق میں تمہاری ماں کی دعا کو قبول کرلیا ہے جیسے ہی میری آنکھ کھلی داروغہ زندان میرے پاس آیا اور اسی وقت مجھے منصور دوانیقی کے پاس لے گیا اس نے حکم دیا کہ طوق و زنجیر کو اس سے جداکردیا جائے۔ اے مادر گرامی منصوردوانیقی نے میرے ساتھ بہترین سلوک کیا اور مجھے دس ہزار دینار دیا اس کے بعد اس کے سپاہیوں نے مجھے اسی رات ایک اونٹ پر سوارکیا اور مجھے مدینے تک پہنچا دیا۔

جناب ام داؤد کہتی ہیں کہ میں اسی وقت داؤد کو لے کر فرزند رسول امام جفعر صادق علیہ السلام کے پاس گئی، آپ نے میرے بیٹے کے سامنے وضاحت کے ساتھ بیان کیا کہ اے داؤد قید خانے سے تیرے رہا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ منصور دوانیقی نے حضرت علی علیہ السلام کو خواب میں دیکھا تھا اور امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا تھا کہ اگر تم نے میرے فرزند کو آزاد نہ کیا تو میں تجھے جہنم میں ڈال دوں گا منصور نے جب اپنے قریب دہکتی ہوئی آگ کی گرمی کا احساس کیا تواس نے مجبور ہوکر تمہیں رہا کردیا ۔

ام داؤد نے امام علیہ السلام سے اس دعا کے پڑھنے کے بارے میں سوال کیا کہ اے مولا کیا اس دعا کو رجب کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی پڑھ سکتے ہیں ؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اگر روز عرفہ اور جمعہ کا دن ایک ساتھ پڑ جائے تو اس دعا کو پڑھ سکتی ہو پس جو شخص بھی اس دعا کو پڑھے گاخداوندعالم اسے دعا کے اختتام تک بخش دے گا اور اس پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے گا اس وقت بھی پوری دنیا میں ہزاروں مسلمان اعمال ام داؤد انجام دیتے ہیں اور اس کے معنوی نتائج سے استفادہ کرتے ہیں ۔