Thursday, November 27, 2014


اب آئے ہو بابا
 
وہ کربلا و شام غریباں وہ تیرگی
وہ زینب حزیں وہ حفاظت خیام کی
آیا وہ اک سوار قریب خیام شاہ
بیٹی علی کی غیض میں سوئے فرس بڑھی
الٹی نقاب چہرے سے اپنے سوار نے
پیش نگاہ زینب مظلوم تھے علی
ہر چند صا برہ تھی بہت بنت فاطمہ
بے ساختہ لبوں پہ فریاد آگئی
زینب نے کہا باپ کے قدموں سے لپٹ کر
اب آئے ہو بابا

جب لٹ گیا پردیس میں اماں کا بھرا گھر
اب آئے ہو بابا

بابا اگر آنا ہی تھا خالق کی رضا سے
اس وقت نہ آئے
جب خاک پہ دم توڑ رہا تھا میرا اکبر
اب آئے ہو بابا

کٹ کٹ کے گرے نہر پہ جب بازوئے عباس
اور کوئی نہ تھا پاس
اس وقت صدا آپ کو دیتا تھا دلاور
اب آئے ہو بابا

جب فرش زمین بام و فلک لرزہ فشاں تھے
اس وقت کہاں تھے
جب باپ کے چلو میں تھا خون علی اصغر
اب آئے ہو بابا

جب بھائی کا سر کٹتا تھا میں دیکھ رہی تھی
حضرت کو صدا دی
سر کھولے ہوئی روتی تھی میں خیمے کے در پر
اب آئے ہو بابا

جب لوگ بچا لے گئے لاشے شہدائ کے
حق اپنا جتا کر
بس اک تن شبیر تھا پامالی کی زد پر
اب آئے ہو بابا

جب بالی سکینہ کے گوہر چھینے گئے تھے
لگتے تھے طمانچے
حسرت دے مجھے دیکھتی تھی بانوئے مضطر
اب آئے ہو بابا

اک رات کا مہماں ہیں پھر قید سلاسل
اب سخت ہے منزل
بازار میں ہم صبح کو جائیں گے کھلے سر
اب آئے ہو بابا

کیا آپ نے فردوس سے یہ دیکھا نہ ہو گا
اک حشر بپا تھا
جب پشت سے بیمار کی کھینچا گیا بستر
اب آئے ہو بابا

شاہد رخ حیدر پہ بکھر جاتے تھے آنسو
جب کھول کے گیسو
چلاتی تھی زینب میرے بابا میری چادر
اب آئے ہو بابا

Saturday, November 8, 2014

Home



ابو طالب    علیہ السلام

شریک دعوتِ اسلام ہے ابو طالب


رسول ان کا بڑا احترام کرتے ہیں
ثوابِ دید سے تنظیمِ عام کرتے ہیں
سحر کو اُٹھتے ہی اول یہ کام کرتے ہیں
انہیں نماز سے پہلے سلام کرتے ہیں
نبی کسی کافر کو یوں سلامی ہے
تو پھر ضرور نبوت میں کوئی خامی ہے
شریکِ دعوت ۔۔۔

انہی کے گھر میں خیراُلانعام صلے علیٰ
پسر نبی کا ہے قائم مقام صلے علیٰ
اسے نصیب ہے یہ احترام صلے علیٰ
کہ ان کے خُرد ہیں سارے امام صلے علیٰ
خطا معاف ہو یہ بھی اگر نہیں مومن
تو پھر جہاں میں کو ئی بشر نہیں مومن
شریکِ دعوت ۔۔۔

نہ جانچیئے یہ روایت نہ سیرت و کردار
نبی کی آنکھ سے ان کو دیکھیئے اک بار
یہ بارگاہِ رسالت میں آپ کا تھا وقار
بچھا کے خاک انہیں روئے احمدِ مُختار
وہ عامِ حُزن بنا ان کا جب وصال ہوا
یہ غم رسول کی اُمت میں اک سال ہوا
شریکِ دعوت ۔۔۔

یہ مرنے والا گر ایمان ہی نہ لایا تھا
تو کیا رسول نے کافر کا غم منایا تھا
زُبان پہ وا اباۃٰ بار بار آیا تھا
وہ خود بھی روئے تھے اوروں کو بھی رُلایا تھا
جتا دیا تھا کہ جو مُحسنِ رسالت ہے
تو اُسکو رونا رُلانا نبی  کی سُنت ہے
شریکِ دعوت ۔۔۔

یہ بات اگر ہو اجازت تو پُوچھ لوں میں یہیں
حُسین ابنِ علی کیا نہیں تھے مُحسن ِدیں
ہم ان کو روئیں تو پھر کیوںہو چیں با جبیں
بنے تھے ان کا تو ناقہ رسولِ عرشِ نشیں
حُسین سوئے شہِ مُرسل کے سینے پر
غضب ہے شمر کا زانوں اُنہیں کے سینے پر
شریکِ دعوت ۔۔۔

یہ بگوشِ ہوش کیوں جب حالِ کربلا سُنیئے
سُنا جو میرے تصور نے جو وہ ذرا سُنیئے
بیان ہمتِ صبر و شاہ ِالھُدیٰ سُنیئے
وہ آتی ہے ملک ُالموت کی صدا سُنیئے
مِلا جو حُکم کہ سر سے نکال جانِ حُسین
کہا کہ سخت ہے یا رب یہ امتحانِ حُسین
شریکِ دعوت ۔۔۔

لگا ہے زخم تبر بہہ رہا ہے سر سے لہو
بھرے ہیں خون میں جانِ رسول کے گیسُو
قریب جا کے رکھوں دل پہ کس طرح قابو
کہ اس لہو میں تو ہے فاطمہ کے دودھ کی بُو
ندا یہ آئی کہ آنکھیں تو ڈال آنکھو ں میں
کہا بہن کا ہے اس دم خیال آنکھوں میں
شریکِ دعوت ۔۔۔

ندا یہ آئی کہ گردن سے کھینچ جان ان کی
کہا میں کیا کروں گردن پہ چل رہی ہے چُھری
چُھری پکڑ کہ یہ چلاتی ہے کوئی بی بی
نہ ذبح کر میرے بچے کو میں دُعا دوں گی
جہاں رواں تیرے خنجر کی آب ہے ظالم
یہ بوسہ گاہِ رسالتِ مآب ہے ظالم
شریکِ دعوت ۔۔۔

ندا یہ آئی کہ سینے سے قبض کر لے جان
کہا کہ تیروں سے چھلنی ہے اے میرے رحمان
ابھی تو مار کے برچھی ہٹا ہے اک شیطان
اور اب تو ہے تہہِ زانوئے شمر یہ قرآن
یہ کرم ہے کے رُخِ پاک گردہے یا رب
تیرے حُسین کے سینے میں درد ہے یا رب
شریکِ دعوت ۔۔۔

ندا یہ آئی کہ مظلومیت کا رُتبہ شناس
کمر سے کھینچ لے صابر کی جانِ بیوسواس
کہا ملک نے تڑپ کر با درد و حسرت و یاس
کمر تو ٹوٹ گئی جب سے مر گئے عباس
صدائے غیب یہ آئی بحال ہے چہرہ
کہا ہے خون سے اصغر کے لال ہے چہرہ
شریکِ دعوت ۔۔۔

یہ گُفتگُو تھی کہ مُرجھا گیا رسول کا پُھول
فلک سے آگئے رُوحُ الامین حزین و ملول
کہا پُکار کے مُنہ ڈھانپ لوبرائے رسول
پسر کی لاش پہ کُھولیں گی اپنے بال بتول
صدا یہ سُن کے اس سمت چل پڑی زینب
تڑپ کے خیمے سے باہر نکل پڑی زینب
شریکِ دعوت ۔۔۔

نسیم اُدھر سے تو قُدسی کی صدا آئی
ادھر تڑپتی ہوئی بنتِ مُرتُضٰی آئی
قریبِ لاش جوخواہر بصد بُقا آئی
اخی کے حلقِ بُریدہ سے یہ صدا آئی
کوئی بزرگ نہ اب ہے نہ خُرد ہے زینب
نبی کی آل تمہارے سپرد ہے زینب
 
شریکِ دعوت ۔۔۔ نبی کو حق کا اک انعام ہے ابو طالب
حریم میں وحی میں الہام ہے ابو طالب
حرم کے عظم کا احرام ہے ابو طالب
یہ سُن کے لائے جو غنچہ وہ پھول ہو جائے
پھر اُن کی گود میں پل کر رسول ہو جائے
شریکِ دعوت ۔۔۔

رسولِرب کا نگہبان ہے ابوطالب
ہے دین تو ایمان ہے ابوطالب نبی
نزولِ وحی کا عنوان ہے ابوطالب
بغیر لفظوں کا قرآن ہے ابوطالب
انہی کے دم سے ہوئی ابتدائ بسم اللہ
انہی نے نقطہ دیا زیرِبا ئِ بسم اللہ
شریکِ دعوت ۔۔۔

پیعمبری کی بلائوں کا رد ابوطالب
مدد خُدا کی ہے شکلِ مدد ابوطالب
نبی کی ڈھال دمِ جَدو کد ابوطالب
نشانہ ختم ِرسل اور زد ابوطالب
جہاد ان کا ہے پسِ منظر جہادِ علی
علی ہیں بعد میں ان کے یہ پہلے نادِ علی
شریکِ دعوت ۔۔۔

کہاں ہے تنگ نظر ہم سے بھی تو آنکھ ملا
ہے ان کے کُفر کا دعوہ تو کُچھ ثبوت بھی لا
کوئی تو رسم جہالت کی ان کے گھر میں دِکھا
بُتوں کے آگے جُھکا ا ن کاسر سر اپنا جُھکا
خُدا کے نُور پہ او خاک ڈالنے والے
یہ بُت شکن کو ہیں گودی میں پالنے والے
شریکِ دعوت ۔۔۔

Saturday, November 1, 2014

حضرت عباس علیہ السلام کے خطبہ کی شرح

حضرت ابو الفضل عباس علیہ السلام کا کعبہ کی چھت پر عظیم الشان خطبہ


حضرت ابو الفضل عباس علیہ السلام کا کعبہ کی چھت پر عظیم الشان خطبہ
«بسم الله الرّحمن الرّحیم»
«اَلحَمدُ لِلّهِ الَّذی شَرَّفَ هذا (اشاره به بیت الله‌الحَرام) بِقُدُومِ اَبیهِ، مَن کانَ بِالاَمسِ بیتاً اَصبَح قِبلَةً. أَیُّهَا الکَفَرةُ الفَجَرة اَتَصُدُّونَ طَریقَ البَیتِ لِاِمامِ البَرَرَة؟ مَن هُوَ اَحَقُّ بِه مِن سائِرِ البَریَّه؟ وَ مَن هُوَ اَدنی بِه؟ وَ لَولا حِکمَ اللهِ الجَلیَّه وَ اَسرارُهُ العِلّیَّه وَاختِبارُهُ البَریَّه لِطارِ البَیتِ اِلیه قَبلَ اَن یَمشیَ لَدَیه قَدِ استَلَمَ النّاسُ الحَجَر وَ الحَجَرُ یَستَلِمُ یَدَیه وَ لَو لَم تَکُن مَشیَّةُ مَولایَ مَجبُولَةً مِن مَشیَّهِ الرَّحمن، لَوَقَعتُ عَلَیکُم کَالسَّقرِ الغَضبانِ عَلی عَصافِیرِ الطَّیَران.
اَتُخَوِّنَ قَوماً یَلعَبُ بِالمَوتِ فِی الطُّفُولیَّة فَکَیفَ کانَ فِی الرُّجُولیَّهِ؟ وَلَفَدَیتُ بِالحامّاتِ لِسَیِّد البَریّاتِ دونَ الحَیَوانات.
هَیهات فَانظُرُوا ثُمَّ انظُرُوا مِمَّن شارِبُ الخَمر وَ مِمَّن صاحِبُ الحَوضِ وَ الکَوثَر وَ مِمَّن فی بَیتِهِ الوَحیُ وَ القُرآن وَ مِمَّن فی بَیتِه اللَّهَواتِ وَالدَّنَساتُ وَ مِمَّن فی بَیتِهِ التَّطهیرُ وَ الآیات.
وَ أَنتُم وَقَعتُم فِی الغَلطَةِ الَّتی قَد وَقَعَت فیهَا القُرَیشُ لِأنَّهُمُ اردُوا قَتلَ رَسولِ الله صلَّی اللهُ عَلَیهِ وَ آلِه وَ أنتُم تُریدُونَ قَتلَ ابنِ بِنتِ نَبیّکُم وَ لا یُمکِن لَهُم مادامَ اَمیرُالمُؤمِنینَ (ع) حَیّاً وَ کَیفَ یُمکِنُ لَکُم قَتلَ اَبی عَبدِاللِه الحُسَین (ع) مادُمتُ حَیّاً سَلیلاً؟
تَعالوا اُخبِرُکُم بِسَبیلِه بادِروُا قَتلی وَاضرِبُوا عُنُقی لِیَحصُلَ مُرادُکُم لابَلَغَ الله مِدارَکُم وَ بَدَّدَا عمارَکُم وَ اَولادَکُم وَ لَعَنَ الله عَلَیکُم وَ عَلی اَجدادکُم.
ترجمہ

آپ علیہ السلام نے یہ خطبہ امام حسین علیہ السلام کی ۸ ذی الحجہ سن ۶۰ ہجری کو مکہ سے کربلا روانگی کے موقع پر خانہ کعبہ کی چھت پر جلوہ افروز ہو کر ارشاد فرمایا
حمد ہے اللہ کے لیے جس نے اسے (کعبے کو ) میرے مولاؑ (امام حسینؑ) کے والد گرامی (علیؑ) کے قدم سے شرف بخشا جو کہ کل تک پتھروں سے بنا ایک کمرہ تھا ان کے ظہور سے قبلہ ہو گیا ۔
اے بد ترین کافروں اور فاجروں تم اس بیت اللہ کا راستہ نیک اور پاک لوگوں کے امامؑ کے لیے روکتے ہو جو کہ اللہ کی تمام مخلوق سے اس کا زیادہ حق دار ہے اور جو اس کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اگر اللہ کا واضح حکم نہ ہوتا اور اسکے بلند اسرار نہ ہوتے اور اس کا مخلوق کو آزمائش میں ڈالنا نہ ہوتا تو یہی اللہ کا گھر خود اڑ کر میرے مولا ؑ کے پاس آجاتا لیکن میرےکریم مولاؑ نے خود اس کے پاس آکر اس کوعظمت بخشی بے شک لوگ حجراسود کو چومتے ہیں اور حجر اسود میرے مولا کے ہاتھوں کو چومتا ہے ۔ اللہ کی مشیت میرے مولاؑ کی مشیت ہے اور میرے مولاؑ کی مشیت اللہ کی مشیت ہے خدا کی قسم اگر ایسا نہ ہوتا تو میں تم پر اس طرح حملہ کرتا جیسے کہ عقاب غضبناک ہو کر اڑتا ہوا چڑیوں پر حملہ کرتا ہے اور تم کو چیر پھاڑ دیتا کیا تم ایسے لوگوں سے خیانت کرتے ہو جو بچپن ہی سے موت سے کھیلتے ہوں اور کیا عالم ہوگا ان کی بہادری کا جب کے وہ عالم شباب میں ہوں ؟ میں قربان کر دوں اپنا سب کچھ اپنے مولا ؑ پر جو کہ اس پوری کائنات پر بسنے والے انسانوں اور حیوانوں کا سردار ہے ۔ اے لوگوں ! تمہاری عقلوں کو کیا ہو گیا ہے کیا تم غور و فکر نہیں کرتے ( کیا موازنہ ہے خاندان یزیدلعنہ کا خاندان رسالتؐ سے ؟ ) ایک طرف شراب پینے والے ہیں اور دوسری طرف حوض کوثر کے مالک ہیں ایک طرف وہ ہیں جن کا گھر لہو لہب اور سارے جہان کی نجاستوں کی آماجگاہ ہے اور دوسری طرف پاکیزگی کے جہان اور آیات قرانیہ ہیں اور وہ گھر جس میں وحی اور قرآن ہے اور تم اسی غلطی میں پڑ گئے ہو جس میں قریش پڑے تھے کیونکہ انہوں نے رسول اللہ ؐ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا اور تم اپنے نبیؐ کے نواسے کو قتل کرنے کا ارادہ کر رہے ہو ۔ قریش اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ امیر المومنینؑ کی ہیبت و جلال کے آگے ان کی ایک نہ چل سکی اور کیسے ممکن ہوگا تمہارے لیے ابا عبداللہ الحسینؑ کا قتل جب کہ اسی علیؑ کا بیٹا رسولؐ کے بیٹے کی حفاظت پر مامور ہے اگر ہمت ہے تو   آؤ میں تمہیں اس کا راستہ بتاتا ہوں میرے قتل کی کوشش کرو اور میری گردن اڑاؤ تا کہ تم اپنی مراد پا سکو اللہ تمہارے مقصد کو کبھی پورا نہ کرے اور تمہارے آباء اوع اولاد کو تباہ کرے اور لعنت کرے تم پر اور تمہارے آباء و اجداد پر ۔
مترجم :مولانا ذوالفقار علی اسدی
ناشر : الصراط فاونڈیشن
  بشکریہ

شیعہ آرٹیکلز